Baseerat Online News Portal

خطہ میوات کی اہم خبریں: شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج،معروف عالم دین مولانابرہان الدین سنبھلی کی وفات پرتعزیتی نشست ودیگراہم خبریں

نوح/میوات (محمد صابر قاسمی؍بیوروچیف)شہریت ترمیمی قانون کے خلاف تحصیل پنہانہ کے گاؤں بچھور سے لے کر سنگار تک لوگوں نے پیادہ پا چل کر احتجاج درج کرایا۔اس دوران پولیس فورس بھی تعینات رہی۔آج کے احتجاج میں بھارت مورچہ، بہوجن کرانتی مورچہ سمیت اور بھی دوسری سماجی تنظیموں کے اراکین نے حصہ لیا۔اس دوران مفتی محمد سلیم نے ۲۹ جنوری کو بھارت بند کا بھی اعلان کیا۔مظاہرین نے تجویز پاس کرکے بیک آواز کہا این آرسی اور سی اے اے کی واپسی تک احتجاج جاری رہے گا۔اس موقع پر رشید احمد ایڈووکیٹ نے کہا آج جس طریقہ سے بڑوں اورنوجوانوں نے مل کر احتجاج کیا ہے ،وہ اپنی مثال آپ ہے۔انھوں نے کہا عدالت عظمیٰ میں اس سیاہ قانون کو لے کر رٹ پیٹیشن داخل کی ہوئی ہے جس کا جواب ۲۲ جنوری کو ملنے کی امید ہے۔ انھوں نے کہا قانون کی واپسی تک تحریک جاری رہے گی۔انھوں نے کہا ملک ہم سب کا ہے،کیونکہ سب نے مل کر ہی اس ملک کی ا ٓزادی کے لیے لڑائی لڑی ہے۔سمے سنگھ نے کہا خطہ میوات دار الحکومت دہلی سے صرف ۷۰ کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔پھر بھی سرکار نے اس علاقہ کی ترقی کی طرف کوئی توجہ نہیں دی ہے۔انھوں نے کہا میوات میں ہندومسلم بھائی چارہ مثالی ہے۔ اس لیے اس تحریک میں تمام مذاہب کے لوگ شامل ہیں۔ انھوں نے کہا بی جے پی کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی بھی طرح لوگوں کو مذہبی اور سماجی بنیادوں پر بانٹ کر رکھا جائے۔انھوں نے کہا شری لنکااور برمیوں کو شہریت کیوں نہیں دی جارہی ہے۔در اصل ملک میں چہار سو بے روز گاری عام ہے۔ اقتصادی حالت چرمرارہی ہے۔اس لیے بی جے پی لوگوں کا دھیان ہٹانا چاہتی ہے۔

مولانابرہان الدین سنبھلی کی وفات پرتعزیتی نشست
پانی پت(محمد صابر قاسمی) ریاست ہریانہ کے مدارس میں ندوۃ العلماء لکھنؤ کے جلیل القدر استاد متبحر عالم دین مولانا برہان الدین سنبھلی قاسمی کی وفات پر تعزیتی مجالس منعقد ہوئیں ،جن میں قرآن خوانی کرکے مرحوم کی روح کو ایصال ثواب اور خراج عقیدت پیش کیاگیا۔اطلاع کے مطابق جامعہ صوت القرآن مہرانہ،مدرسہ مخدوم العلوم ،سبیل الرشاد سنولی خورد،ایضاح العلوم مجددی منی مزرعہ،جامعہ دارالسلام انبالہ،جامع مسجد کرنال ،خیرالنساء اور جامعہ امام احمد سونی جیسے اداروں میں باقاعدہ تعزیتی مجالس کا انعقاد عمل میں آیااور مرحوم کی روح کو ایصال ثواب کیاگیا۔مولانا اسجد الرحمان قاسمی نے کہاندوہ جیسے عظیم الشان ادارہ میں ۵۰ برس تک تفسیر وحدیثکا درس دینے والا آج داغ مفارقت دے گیا ہے۔وہ عالم باکمال تھے ،متواضع تھے اور خوش خلق نیز ملنسار تھے۔مرحوم کو ۱۹۷۰ میں ندوۃ العلماء بلایاگیااور تفسیر وحدیث اور ادب کی کتابیں ان کے سپرد کی گئیں۔مرحوم نے معاشرتی مسائل دین فطرت کی روشنی میں،یونیفارم سول کوڈ اور عورت کے حقوق،رویت ہلال کا مسئلہ،بینک انشورنس اور سرکاری قرضے جیسی کتابیں لکھ کرعلمی دنیا میں نام کمایا ہے۔وہ ندوہ کی مجلس تحقیقات شرعیہ کے ناظم بھی بنے۔اسلامک فقہ اکیڈمی اور دینی تعلیمی کونسل کے وہ تاسیسی رکن رہے۔جامعہ خیرالنساء میں مولانا راشد وفا ندوی نے کہامولانا برہان الدین سنبھلی کی ابتدائی تعلیم گھر میں ہی ہوئی ،انھوں نے قرآن کریم اپنے والد سے پڑھا۔اس کے بعد دار العلوم دیوبند گئیاور شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ سے علم حدیثکی سَنَد حاصل کی۔مرحوم نے دار الحکومت دہلی میں بھی قرآ۔ شریف کی تفسیر سلسلہ شروع کیا۔مولانا جمشید علی ندوی نے کہا درس وتدریس کی مصروفیت اس اس مشغلہ سے خود ان کو اس قدر محبت تھی کہ تقریباً درس پہلے اُن پر فالج کا اثر ہوا۔بسترِ علالت پر ہی افادہ واستفادہ کا سلسلہ شروع کردیا۔ آج پوری دنیا میں مولانا کا علمی فیض جاری ہے۔ مفتی محمد شرافت مفتاحی نے کہاایسے باکمال اوعبقری شخصکم ہی ہوتے ہیں۔ وہ تفسیر وحدیث میں نہ صرف یدِ طولیٰ رکھتے تھے بلکہ قدیم ذخیرہ معلومات کی روشنی میں جدید مسائل کوحل کرنے میں بھی مہارت تامہ رکھتے تھے اوراسلاف کے علمی ورثہ کے امین تھے۔مولانا نسیم احمد ندوی نے کہا مولانا برہان الدین سنبھلی کی وفات سے جوعلمی خلا پیدا ہوا ہے،مستقبل قریب میںاُس کا پُر ہونامشکل لگ رہا ہے۔دینی احکام کی پابندی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو عموماً پنج وقتہ نمازیں باجماعت ادا کرنے کا اہتمام ہوتا تھا۔جامعہ دار السلام انبالہ میں مولانا جاوید ندوی نے کہایہ موت عالَم کی موت ہے۔آسمان ایسی موت پر آنسو بہاتا ہے۔انھوں نے کہا وہ تفسیر کا درس دیتے تو لگتا کہ اسلاف میں سے کوئی مفسر بول رہا ہے۔درسِ حدیث دیتے تو محسوس ہوتا کہ پایہ کا محدث فن حدیث پر گفتگو کررہا ہے۔مفتی سیدمحمد ریاض ندوی نے کہامرحوم نے پوری زندگی علماء وصلحائکے طرز پر گزاری۔ان کا تعلیمی وتربیتی انداز سو فی صد اسلاف کے طرز پر تھا۔ زیر تعلیم طلبہ کے لیے وہ تحقیق کا نیا نشان راہ طے کرتے۔ان کی تحریر بھی بلا کی تھی۔ تحریر سلیس ہوتی اور مطلب خیز ہوتی نیز جامع ومانع ہوتی۔گاؤں سنولی میں جمعیۃ علماء کی تعزیتی مجلس میں مرحوم کو ایصال ثواب کیا گیااور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعاء کی گئی،نیز مرحوم کی حیات وخدمات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج
نوح/میوات (محمد صابر قاسمی)آج شہریت ترمیم قانون کے خلاف گاؤں گُمٹ بہاری سے علاقہ نگینہ تک زبردست احتجاج کیا گیااور مرکزی سرکار کے خلاف فلگ شگاف نعرے لگائے گئے۔احتجاج میں شریک ہزاروں لوگوں نے اس قانون کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔احتجاج میں قرب وجوار کے طلبہ اور بزرگوں نے بھی حصہ لیا۔مظاہرین کے ہاتھوں میںترنگا تھا۔الگ سے سیاہ پرچم بھی تھے ،جن پر این آرسی اور سی اے کے خلاف نعرے لکھے تھے۔مظاہرین نے اس سیاہ قانون کی ایک شبیہ بھی بنارکھی تھی اور ایک سڑک پر نو سی اے اے اور نواین آرسی لکھ رکھا تھا۔جلوس اتنا بڑا تھا کہ گُمٹ سے نگینہ تک ترنگے اور سیاہ پرچم ہی دکھ رہے تھے۔اس موقع پر مولانا طاہر نے کہایہ لڑائی ملک کو بچانے کی ہے،ہر شخص کے خود کے وجود کو بچانے کی ہے۔یہ لڑائی فسطائی طاقتوں کے خلاف ہے،یہ طاقتیں ملک کو مذہب کی بنیاد پر بانٹے کے لیے کوشاں ہیں۔انھوں نے کہا اسی لیے اس لڑائی میں پیچھے ہٹنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ کالے قانون کی واپسی تک انشاء اللہ یہ جنگ جاری رہے گی۔انھوں نے کہا مذہب کی بنیاد پر ملک ایک بار تقسیم ہوچکا ہے،اب دوبارہ ایسی حرکت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ہائی کورٹ کے سینیئروکیل فاروق عبداللہ نے کہا این آرسی لاگو ہوتی ہے تو ملک کے ہر شہری کا بڑا نقصان ہوجائے گا۔انھوں نے صاف صاف اعلان کیا کہ ہم سرکار کو اس حوالہ سے سرے سے کوئی کاغذ ہی نہیں دکھائیں گے۔انھوں نے کہا ایسی حالت میں سرکار کے ساتھ عدم تعاون کا رویہ اپنایا جائے گا۔جناب شاہد نے کہا میواتی وہ بہادر قوم ہے جو مغل بادشاہوں سے نہیں ڈری ہے۔میواتیوں نے اس وقت بھی سینہ پر گولیاں کھائیں ،لیکن ملک کے لیے سینہ سپر رہے۔مولانا عمران نے کہا ایسے مواقع کم ہی آتے ہیں کہ ملک کے ہر گوشہ میں اس قانون کے خلاف احتجاج ہورہے ہیں اور سرکار ہے کہ بے حسی کا مظاہرہ کررہی ہے۔انھوں نے کہا آج ملک کو بچانے کی اس جنگ میں تمام طبقات شریک ہیں۔ بی جے پی نے مذہب کی بنیاد پر بانٹنے کی جو چال چلی تھی،وہ ناکام ہوگئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ مظاہرہ مکمل طور پر پُرامن رہا۔قبل ازیں علاقہ کے لوگوں نے عبادت گاہوں میں یکجاہوکر اس قانون کی واپسی کی دعائیں بھی مانگیں۔آج کے مظاہرہ میں اسلام الدین ایڈووکیٹ ،مولانا حامد،سلیم الیٹا،محمد ناظم،مولانا عرفان ،مبارک وغیرہ موجود رہے۔

You might also like