ہندوستان

یوپی: شہریت قانون کے خلاف کئی شہروں میں جاری ہے خواتین کی تحریک،دہلی کے شاہین باغ سے نکلی چنگاری پورے ہندوستان میں پھیل گئی

لکھنؤ:20جنوری(بی این ایس )
شہریت قانون کو لے کر ایک طرف دہلی کے شاہین باغ میں ایک ماہ سے زیادہ وقت سے احتجاجی مظاہرہ چل رہا ہے تو وہیں دوسری طرف یوپی میں احتجاج کو مضبوط بنانے کے لئے مختلف شہروں میں کوششیں جاری ہیں۔دارالحکومت لکھنؤ اور پریاگراج میں خواتین کا دھرنا مظاہرہ مسلسل چل رہا ہے۔پریاگراج کے منصور پارک میں آج خواتین کے دھرنے کا 9 واں دن ہے۔وہیں راجدھانی لکھنؤ میں دھرنے کا تیسرا دن چل رہا ہے۔اس کے علاوہ آگرہ میں بھی اتوار کی شام خواتین نے جمع ہوکر مظاہرہ شروع کیا لیکن پولیس نے وقت رہتے دھرنے میں شامل ہونے آئیں خواتین دھرنا مقام سے ہٹا دیا۔لکھنؤ، پریاگراج اور آگرہ کے دھرنے میں ایک بات عام ہے،تمام مقامات پر احتجاج کی باگ ڈور خواتین نے سنبھال رکھی ہیں۔لکھنؤ کے مینار پر مظاہرے کا آج تیسرا دن ہے، وہیں پریاگراج کے منصور پارک میں خواتین کے دھرنے کا آج نواں دن ہے،پورے یوپی میں رام مندر پر فیصلے اور شہریت قانون کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے بعد کرفیو یعنی دفعہ 144 نافذ ہے۔ایسے میں ظاہر ہے دونوں شہروں میں چل رہے مظاہرے اجازت کے بغیر چل رہے ہیں۔شہریت قانون کے خلاف جو لوگ فعال ہوکر اپنا احتجاج درج کرا رہے ہیں، وہ یوپی میں دیگر شہروں میں بھی خواتین کا دھرنا کرنا چاہتے ہیں، اگرچہ لکھنؤ اور پریاگراج کے علاوہ اب تک کسی بھی شہر میں بڑے سطح پر دھرنا شروع نہیں ہو سکا ہے لیکن کوشش ہے کہ حکومت کو پیغام دینے کے لئے احتجاج کو اور مضبوط بنانے کے لئے دھرنے کا انعقاد بڑھایا جائے۔پولیس اور انتظامیہ کے بڑے افسران کے ساتھ ساتھ حکومت اس طرح کے دھرنوں کو لے کر محتاط ہے۔حکومت چاہتی ہے کہ کس طرح بھی دھرنے کو ہونے سے روکا جائے،مسلسل حکومت کی سطح پر کوشش ہو رہی ہے کہ لوگوں کو شہریت قانون کی اصلیت سمجھاکر اس کے حق میں کیا جائے،تاہم، حکومت مخالف گروپ بھی فعال طریقے سے اپنا اثر دکھانے کی کوشش میں لگا ہے۔یوپی میں دیکھا جائے تو یوگی حکومت کے لئے شہریت قانون کو لے کر جاری احتجاج کو کنٹرول میں کرنا بڑا چیلنج ثابت ہو رہا ہے،19 اور 20 دسمبر کو لکھنؤ سمیت 2 درجن سے زیادہ شہروں میں زبردست تشدد ہواتھا۔اس کے بعد حکومت نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے ہزاروں لاکھوں گرفتاریاں اور لوگوں کو حراست میں لیا تھا،ایسے میں تشدد کا دور تو ضرور کنٹرول ہوا لیکن مخالفت کے سر خواتین کی تحریک نے چھیڑ رکھی ہے۔

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker