Baseerat Online News Portal

امریکی سینیٹ میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کے ابتدائی دلائل شروع

آن لائن نیوزڈیسک
امریکہ کی حکمراں جماعت ری پبلکن پارٹی کی اکثریت کی حامل امریکی سینیٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے سلسلے میں ابتدائی دلائل اس ہفتے شروع ہو رہے ہیں۔سماعت کے دوران ایوانِ نمائندگان کے چند ڈیموکریٹک ارکان صدر ٹرمپ کے خلاف کیس سینیٹ میں پیش کریں گے۔ سماعت کی صدارت امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس کریں گے۔
اس سے قبل جمعرات کو چیف جسٹس جان رابرٹس نے سینیٹ میں ان ارکان سے حلف لیا تھا جو صدر ٹرمپ کے مواخذے کی سماعت کے دوران جیوری کا حصہ ہوں گے۔سینیٹرز نے غیر جانبدار رہنے کا حلف اٹھایا۔ تاہم سینیٹ میں ری پبلکن پارٹی کے رہنما پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ وائٹ ہاؤس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
ایوان نمائندگان کے وہ ارکان جو سینیٹ میں استغاثہ کا کردار ادا کریں گے، کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے خلاف ثبوت قطعی طور پر واضح ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ صدر ٹرمپ مواخذے کی تمام شقوں کے حوالے سے قصور وار ہیں۔
ڈیموکریٹک ارکان ایوان نمائندگان کی طرف سے مواخذے کی شقیں فائل کرنے کے بعد سینیٹ میں سماعت کے دوران گواہوں کو طلب کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ری پبلکن ارکان اس کی اجازت نہیں دینا چاہتے۔ وہ ڈیموکریٹک ارکان پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ مواخذے کی کارروائی عجلت میں پوری کرنا چاہتے ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے مواخذے کی سماعت کے منیجر ایڈم شیف ان کے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ ایک قانون دان ہوں اور جج عدالت میں آ کر کہے کہ وہ خود مدعا علیہ کے ساتھ مشاورت کرتا رہا ہے اور انہوں نے اتفاق کیا ہے کہ وہ استغاثہ کو کسی بھی گواہ کو طلب کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ وہ استغاثہ کو کوئی دستاویز پیش کرنے کی بھی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی قانون دان نے اس سے پہلے کبھی کسی جج کی طرف سے ایسا کہتے ہوئے نہیں سنا ہو گا کیونکہ یہ انتہائی فضول بات ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ایک انتہائی مناسب فون کال کرنے پر ان کا مواخذہ کیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس ہفتے یہ بات دہرائی ہے کہ انہوں نے جولائی میں یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی کو فون کرتے ہوئے کوئی غلط بات نہیں کی۔صدر ٹرمپ نے اس فون کال میں یوکرین کے صدر سے کہا تھا کہ وہ ان کے سیاسی مخالف اور ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدار جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کریں۔ اس وقت صدر ٹرمپ نے یوکرین کے لیے امریکی کانگریس سے منظور شدہ 40 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد بھی روک رکھی تھی۔صدر ٹرمپ کا دفاع کرنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ مواخذہ کبھی بھی نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ مذکورہ فوجی امداد بالآخر جاری کر دی گئی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ تحقیقات شروع کرنے کے بارے میں بھی کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
ٹرمپ کی دفاعی ٹیم کے رکن اور قانونی مشیر الین ڈرشوویٹز کہتے ہیں کہ اگر کوئی ایسا شخص ہو جس پر کسی جرم کے سلسلے میں فرد جرم عائد کر دی گئی ہو اور فرض کریں کہ آپ کے پاس بہت سے ثبوت موجود ہوں لیکن گرینڈ جیوری ان پر کسی ایسے معاملے کے بارے میں فرد جرم عائد کر دیتی ہے جو جرم بھی نہیں ہے اور یہی کچھ ہوا ہے۔
اُن کے بقول، ’’اس بارے میں اگر بہت سے متنازع ثبوت موجود ہوں تو یہ دونوں طرف جا سکتے ہیں لیکن مواخذے کے لیے ووٹنگ اختیارات کے ناجائز استعمال کے بارے میں ہو رہی ہے جو آئینی لحاظ سے مواخذے کا معیار ہی نہیں بنتا۔‘‘
صدر ٹرمپ کے وکلا پیٹ سیپولون اور جے سیکولو نے مواخذے کی شقوں کے بارے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ کو ہر صورت صدر ٹرمپ کے خلاف یہ الزامات مسترد کر دینے چاہئیں کیونکہ ان کی بنیاد آئین کو خطرناک حد تک مسخ کرنے کی بنیاد پر ہے جن سے ہمارے نظام حکومت کو سخت نقصان پہنچے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ایوان نمائندگان صدر ٹرمپ کی طرف سے خارجہ پالیسی استوار کرنے کے اختیار کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے ایوان نمائندگان کی طرف سے جاری کردہ سمن پر عمل نہ کرنے کے حوالے سے کہا کہ یہ اقدام قانونی طور پر درست تھے، کیونکہ ایسا امریکی نظام حکومت میں اختیارات کے توازن کو برقرار کھنے کے لیے رازداری برقرار رکھنے کی خاطر کیا گیا۔
چھ صفحات پر مشتمل اپنے مختصر بیان میں صدر ٹرمپ کے وکلا نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام 2016 کے صدارتی انتخاب کے نتائج کو بدلنے اور 2020 کے صدارتی انتخاب میں مداخلت کی ایک مذموم کوشش ہے۔

You might also like