ہندوستان

جنگ لڑو بے ایمانوں سے، وائی ایم سی اے میں کنہیا کمار کی دہاڑ، پورا میدان ’آزادی ‘ کے نعروں سے گونج اُٹھا، طلبہ تنظیموں کا شہریت قانون کے خلاف عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ، ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے طلبہ لیڈران کی شرکت

ممبئی۔۲۴؍جنوری (نازش ہما قاسمی) ’’نکلو بند مکانوں سے۔ جنگ لڑو بے ایمانوں سے، آزاد ملک میں آزادی کی بات کرنا گناہ نہیںہے اس سے انہیں ہی تکلیف ہوتی ہے جنہیں غلامی پسند ہے یہ وہی لوگ ہیں جب انگریزوں سے لڑنے کی باری آئی تھی تو معافی مانگ رہے تھے۔ خواتین کی اصل ذمہ داری گھر سنبھالنا ہوتی ہے اگر وہ اس ذمہ داری کے علاوہ دوسری ذمہ داری بھی نبھاتی ہیں تو رضیہ سلطانہ بن جاتی ہیں‘‘ ان خیالات کا اظہار محمد حسین پلے گرائونڈ (وائی ایم سی) میں جے این یو کے سابق طلبہ یونین صدر کنہیا کمار نے کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں موجود سامعین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مودی، شاہ، یوگی، بابا رام دیو پر جم کر نشانہ سادھا۔ انہو ںنے کہاکہ یہ لڑائی حق کی لڑائی ہے، آپ سب شیعہ ،سنی، دیوبندی، بریلوی، پنڈت، دلت ، بہاری ، مراٹھی سب کو مٹا کر متحدہ طور پرسیاہ قانون کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں کیو ںکہ آپ کے ہاتھ میں ترنگا ہے اور یہ ترنگا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کے اندر رام پرساد بسمل، اشفاق اللہ خان بننے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے کہاکہ جنگ آزادی میں جنہوں نے قربانیاں دیں ان کی قربانی رائیگاں نہیں جانی چاہئے، یہ ملک ہم سب کا ہے اس ملک کے آئین کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ حکومت انگریزوں کی طرح لڑائو حکومت کرو کی پالیسی اپنا کر اصل مسائل سے دھیان بھٹکا رہی ہے۔ملک میں بڑھتی بے روزگاری پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہم کاغذ دکھائیں گے مگر ڈگری کا دکھائیں گے تو کیا ہمیں نوکری ملے گی۔ این آر سی پر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے مختلف بیانات ہیں اس میں کون سچا ہے اور کون جھوٹا اس سے کنفیوژن پیدا ہورہا ہے، امیت شاہ کہتے ہیں این آر سی نافذ ہوگا اور مودی کہتے ہیں نہیں ہوگا کون شکتی مان ہے یہ نہیں معلوم پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نوٹ بندی سے دہشت گردوں کی ایسی کمر ٹوٹی ہے کہ دہشت گردوں کو پولس لفٹ دے رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر آپ حکومت کی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند نہیں کریں گے تو گناہ گارکہلائیں گے اس لیے حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف اپنا احتجاج درج کرائیں او رملک کی گنگا جمنی تہذیب کو بچائیں۔ انہوں نے کہاکہ طلاق ثلاثہ کے ذریعے مودی نے مسلم خواتین کو خود مختار بنایا تھا آج یہی برقعہ نشیں خواتین ان کے سامنے سڑکوں پر ہیں تو انہیں جھیلیں! کیوں بوکھلائے ہوئے ہیں۔ این پی آر کے تعلق سے کہا کہ آپ صرف یہ نہیں کہیں کہ ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے بلکہ این پی آر میں باپ دادا کا نام نہیں بتائیں گے۔ انہو ںنے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگر تم ہمیں شہری نہیں تسلیم کرتے ہو تو ہم بھی تمہیں حکومت تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ عوام سے اپیل کی کہ گھر کے باہر آپ لوگ ’او این پی آر کل آنا اور پندرہ لاکھ لے کر آنا‘ این آر سی نہیں مانتے، این پی آر تسلیم نہیں، نو سی اے اے جیسی تختیاں آویزاں کریں۔ انہوں نے کہاکہ آج اگر خواتین سی اے اے کے خلاف تختیاں لے کر بیٹھی ہیں تو یاد رکھیں یہ مہنگائی کے خلاف بھی جلد ہی اُٹھ کھڑی ہوں گی۔ خواتین اسمرتی ایرانی نہیں ساوتری بائی اور فاطمہ شیخ جیسی ہوتی ہیں اس لیے خواتین کی تحریک ووٹ بینک نہیں ہے کیو ںکہ اس تحریک کا لباس ترنگا ہے اور اس ترنگے سے جلد ہی انقلاب آئے گا۔اخیر میں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں نعرہ آزادی بلند کیا جس کی آوازسے وائی ایم سی اے میدان گونج اُٹھا۔ اس سے قبل جامعہ ملیہ اسلامیہ، بنارس ہندو یونیورسٹی، گوہاٹی یونیورسٹی اور ملک کی دیگر اہم یونیورسٹیوں کے طلبا نے خطاب کیا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ لیڈر میران مسعود نے کہاکہ جامعہ پر حملہ کرکے ان لوگوں نے سوچا تھا کہ انہیں مار کر، آنسو گیس کے گولے داغ کر ڈرا دیں گے، لیکن ان کی کوشش ناکام ہوگئی ہم پوری شدت کے ساتھ اس قانون کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے شاہین باغ کی باہمت خواتین اور ان کے طرز پر مظاہرہ کررہی ملک بھر کے شاہین باغوں کے تعلق سے کہاکہ آج مسلم خواتین نے اپنے حجاب کو انقلاب کا پرچم بنادیا ہے، اس قانون کے خلاف پورا ملک لڑرہا ہے۔انہوں نے کہاکہ عوامی احتجاجات کے سامنے چھپن انچ کا سینہ سکڑ کر چھ انچ کا ہوگیا ہے۔ انہوں نے یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر بھی جم کر نشانہ سادھا ،اترپردیش میں جاری کریک ڈائون کی مذمت کی اور کہا کہ ہم ڈرنے والے نہیں ہیں ہماری تحریک سیاہ قانون کی واپسی تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہم امبیڈکر کے آئین کو مٹنے نہیں دیں گے اور نہ ہی باپو کی فکر کا قتل ہونے دیں گے۔ گوہاٹی یونیورسٹی کے طلبہ لیڈر نے کہاکہ یہاں سے پیغام مرکزی حکومت کو جائے گا کہ پورا مہاراشٹر ایک ہے اور سی اے اے کے خلاف ہے۔ انہوں نے مہاراشٹر کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ نے یہاں بی جے پی کو اچھا سبق سکھایا ہے۔ انہوں نے سی اے اے کے خلاف آسامی طلبہ کی تحریک کا تذکرہ کیا او رکہا کہ ہم خاموش نہیں رہنے والے ہیں ہم گھس پیٹھیوں کو قبول نہیں کرنے والے ہیں، ہم اپنی زمین ، جائیداد کیوں دوسروں کو دیں ۔ ہریانہ سے آئے طلبہ لیڈر روی سنگھ نے کہاکہ تاریخ یاد رکھے گی کہ جب آر ایس ایس کے لوگ ملک میں فساد برپا کرنے کے درپے تھے تب ہم لوگ ہندو مسلم ایکتا کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے بچانے کی کوشش کررہے تھے۔انہوں نے کہاکہ یہ لڑائی ساورکر اور امبیڈکر کی لڑائی ہے او رہم امبیڈکر کو کبھی ہارنے نہیں دیں گے۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کی رچا شرما نے کہاکہ ہم گنگا جمنی تہذیب والے ملک میں رہتے ہیں، جہاں گنگا کے پانی سے آرتی کی جاتی ہے تو وہیں اس پانی سے وضو بھی کیاجاتا ہے۔ ہم اس تہذیب کو مٹنے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہاکہ آئین ہند کو بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ این آر سی کے تعلق سے انہو ںنے کہاکہ ایسے وقت میں جب حکومت کو اپنا رپورٹ کارڈ پیش کرنا تھا، ملکی معیشت کے تعلق سے بات کرنی تھی، روزی روزگار کی اسامیوں کے بارے میں بتانا تھا لیکن اس نے عوام سے ہی کاغذ مانگنا شروع کردیا ۔ یاد رہے ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے۔ انہو ںنے کہاکہ ہم گاندھی اور آزاد کو مانتے ہیں ہم گاندھی اور آزاد کے ملک کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جب تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں درج ہوگا کہ فرقہ پرستوں نے آئین ہند پر حملہ کیا تو ملک کی خواتین مورچہ اپنے ہاتھوں میں لے کر اس کی بقاء کےلیے شیر خوار بچوں سمیت اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ انہوں نے کہاکہ یوپی میں یوگی ہمارے اوپر مقدمات قائم کررہے ہیں انہیں یاد رکھناچاہئے کہ جیسے جیسے مقدموں کی تعداد بڑھے گی ہمارے حوصلے مزید بلند ہوں گے۔ ان کے علاوہ حمزہ مسعود (علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) معروف احمد (سابق طالب علم جے این یو) سعدیہ شیخ (مہاراشٹر کالج) اور دیگر طلبہ لیڈر نے بھی خطاب کیا۔ شہریت ترمیمی قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف اس احتجاجی پروگرام کا اہتمام علی گڑھ مسلم یونیورسٹی المنائی، مہاراشٹر کالج، چھاتر بھارتی، جے این یو، جامعہ اور دیگر طلبہ تنظیموں نے کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker