شعروادب

ہم لے کر رہیں گے آزادی۔۔۔۔۔

ہم لے کر رہیں گے آزادی

نفرت کی کالی سیاہی سے

جو لکھا ہے تم نے قانون سیاہ
اس آگ کے بڑھتے شعلوں میں
جلنے نہ دینگے ہم ملک اپنا

اے شاہ تیری تانا شاہی سے
ہم لے کر رہیں گے آزادی۔۔۔۔

یہ ملک ہمارا اپنا ہے
یہ مٹی ہماری اپنی ہے
یہ تہذیب ہماری اپنی ہے
ہر مذہب ہمارا اپنا ہے
ہر انساں بھائی بھائی ہے
ہر رنگ ہمارا اپنا ہے
اس ملک کے ذرے ذرے کو
ہم اپنے لہو سے رنگ دینگے
تم کون ہو جو ہمیں
اس ملک سے باہر نکالو گے
یہ وہم تیرا ہم نکالیں گے

اے شاہ تیری تانا شاہی سے
ہم لے کر رہیں گے آزادی۔۔۔۔

اس ملک کو سینچا ہے ہم نے
اس ملک کو سنوارا ہے ہم نے
ہم مل کر تم کو لائے ہیں
تم کیسے ہمیں بٹوا دوگے
معذور تیری ہر سوچ کو
ہم جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے

اے شاہ تیری تانا شاہی سے
ہم لے کر رہیں گے آزادی۔۔۔۔

ہر جھوٹ کا تیرے انت ھوگا
ہر نفرت کا تیری انت ھوگا
کیچڑ میں کھلے ہر پُھول کے
بدبو کا بھی اب انت ھوگا
تیرے خاکی کے جلادو کے
ہر ظلم کا بھی اب انت ھوگا

اے شاہ تیری تانا شاہی سے
ہم لے کر رہیں گے آزادی۔۔۔۔

تیری گندی پالیسی کے خلاف
ہر اہل وطن سے جنگ ہوگی
ملک کے ہر اک کونے سے
احتجاج کی بولی نکلے گی
گھر گھر سے شعلے بھڑکیں گے
ہر دل سے صدا بس آئےگی

اے شاہ تیری تانا شاہی سے
ہم لے کر رہیں گے آزادی۔۔۔۔

صالحہ صدیقی
ریسرچ اسکالر جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker