مضامین ومقالات

موجودہ حالات اور ہماری ذمہ داریاں

از قلم✒ شاہنواز صدیقی
متعلم دارالعلوم وقف دیوبند

قارئین کرام

ہمارا اور آپکا اس بات پر ایمان ہے, کہ دنیاں میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اﷲ کے حکم سے ہوتا ہے ، اﷲکبھی ہمارے اوپر ہمارے دشمنوں کو  مسلط کر کے ذلیل کرتا اور کبھی عزت دیتا ہے ہر چیز دنیاں میں ﷲکے حکم سے رونماء ہوتی ہے تاریخ اس بات کی گواہ ہے امت مسلمہ کو رب ذوالجلال نے عزتوں ترقیات اور کامیابیوں کے دولت سے مالا مال فرمایا ہے اور ناکامیوں نے بھی ان کے گھر کے دروازے کو دیکھا ہے چنانچہ قرآن کہتا ہے عزت ودولت سب ﷲکے ہاتھ میں ہی، تعز من تشاء وتذل من تشاء بيدك الخير. وه جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کر دے ﷲکے ہاتھ میں ہے_
قارين کرام اﷲ رب العزت کی کسی سے نا دوستی ہے اور نا ہی کسی سے دشمنی اس کے ہاں تو اعمال کی قدر ہوتی ہے اگر اعمال صحیح ہو تو ﷲ رب العزت خیر و عافیت کے فیصلے فرماتے ہیں اگر اعمال خراب ہے تو ﷲ رب العزت ہمارے اوپر ہمارے دشمنوں کو مسلط کر دیتے ہیں چنانچہ نبی کریم ﷺ ایک حدیث میں آج کل کے موجود حالات کی مناظر کشی کرتے ہیں کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ میری امت کو دشمن اس طرح گھیر کر بیٹھ جائں گے کس طرح کھانے والے کھانے، کی چیز کو گھیر کر بیٹھ جاتے ہیں اور جب کھانے کی چیز سامنے ہوتی ہے تو ہر ایک دوسرے کو دعوت دیتے ہیں کہ آؤ دسترخوان بچھ گیا تم بھی آؤ تم بھی آؤ ہر ایک دوسرے کو بلاتا ہے اور جب سامنے، جمع ہو جاتے ہیں تو کھانا شروع کر دیتے ہیں نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں ہر ایک دوسرے کو دعوت دیگا کہ آؤ امت محمدیہ کی جان سے کھواڑ کر ناہے آؤ اسکی عزت لوٹنی ہے آؤ اس کے مال کو برباد کرنا ہے اس وقت یہودی، عیسائی کافر و مشرک ہوں گے وہ پوری امت کو چارو طرف سے پوری قوت ست گھیر لیں گے اور ایک دوسرے کو دعوت دیں۔ گے کہ آؤ امت محمدیہ کے عزت و آبرو اور ان کے جان و مال سے کھیلواڑ کریں۔

قارئین کرام
امت مسلمہ موجودہ ملکی وعملی حالات کے، تناظر میں اپنی تاریخ کے انتہائی سیاہ دور سے، گزر رہی ہےعرب وعجم ہے تمام خطے خون مسلم سے لالہ زار بنے ہوئے ہیں۔ امت مظلومیت ومنکبت کی ناقابل بیان فضا میں گزر بسر کر رہی ہے۔

پچھلے کچھ عرصہ سے بطور خاص مرکز اقتدار مجرمانہ اور فرقہ پرستانہ ریکارڈ رکھنے، والوں کے ہاتھوں میں منتقل ہونے کے بعد سے وطن عزیز ہندوستان کو مسلم اقلیت کو جس طرح ہر محاذ پر ٹارگٹ کیا جارہا ہے!ـ

ایک ہی اولاد ابراہیم ہےنمرود ہے ۔ کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے

اس سے بھی زیادہ الم ناک صورتحال برما کے مظلوم بے گھر ۔ و بے آسرا مسلمانوں کی ہے جن کی مظلمیت کے اظہار اور ظلم و ستم ڈھانے والے بدھسٹوں کی بربریت ووحشت کو بیان کرنے کے لیے الفاظ بھی نہیں ملتے۔ ایک عرصہ سے شام کے مسلمانوں کے ساتھ بھی کچھ ایسے ہی حالات ہیں۔
خطر ناک حالات میں امت کا رد عمل

پورے عالم میں باالعمومباالعموم اور ہندوستان میں بطور خاصخاص امت مسلمہ کی اس صورتحال پر غور کیا جائے تو امت کی افراد کی طرف سے تین طرح کے رد عمل سامنے آتے ہیں

) ۱(پہلا ردعمل امت کی اکثریت کا ہے اور وہ مایوسی، ناامیدی، خوف شکست خوردگی پثمردگی، اور مکمل پسپائی جیسی کیفیت کا ہے،امت کے بیشتر افرادا اور طبقات ان خطرناک، حالات میں ایسا لگتا ہے۔ کہ وہ بالکل مایوس اور نا امید ہو چکے ان کے حوصلے جواب دے چکے ہیں۔ ہمتیں پست ہوچکی ہے عزائم اور ولولے ماند پڑ چکے ہیں، انہیں تاریکیوں میں امید اور کامیابی کاکوئ چراغ بھی نظر نہیں آرہا ہے، وہ بالکل سرینڈر کر چکے ہیں اور اپنے لیے عافیت گاہیں تلاش کر رہے ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ ردعمل انتہائی افسوسناک بھی ہے اور امت کو تباہی اور ذلت کے مہیب غار میں پورے طور دھکیل دینے والا بھی ہے، قرانی صراحتوں کے مطابق امت مسلمہ کے لیے کسی بھی طرح کے حالات میں مایوسی اور نا امیدی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مایوسی اور نا امیدی کافروں اور گمراہوں کا شیوہ ہے۔

و من يقنط من رحمة ربه الا الضالون… اپنے پروردگار کی رحمت سے گمراہوں کے سوا کون نا امید ہو سکتا ہے؟

اور

ولا تياسو من روح الله انه لا يياس من روح الله الا القوم الكافرون….. اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو یقین جانو اللہ کی رحمت سے نا امید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں۔

دوسرا ردعمل امت کے ایک بڑے طبقے کی طرف سے آیا ہے کہ وہ حالات کی خاطر ناکیوں میں اپنے مالک حقیقی کی طرف رجوع ہونے کے بجائے دنیا کی سماجی اور سیاسی اور کھوکھلے سہاروں کی تلاش میں دردر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے ، اس طبقہ کو اپنے مسائل کا حل اور اپنی مشکلات کا حل دنیا کے سہارہےوں سے مربوط ہونے میں نظر آرہا ہے ۔

واضح رہنا چاہتے کہ دنیا کے تمام سہارے خواہ وہ کتنے خوش نما اور مظبوط کیو با نظر آئیں اللہ کے قدرت کے مقابلے مکڑی کے جالے سے زیادہ کوئی قیمت نہی رکھتے ، اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ سے لو لگانے کے بجائے دوسرے سہارے کی تلاش انسان کو ایمان سے دور کفر سے قریب اللہ کی مدد سے محروم کر دیتی ہے اللہ کی نصرت ارو مدد کا قانون قرآن میں بار بار بیان ہوا ہے اور واضح کیا گیا ہے اور کی نصرت انہی کے لیے ہے جو اللہ سے لو لگائے اور اسکو ملجاء ماوی سمجھیں، اور اسکی پناگاہ کو اصل باور کریں اور اسکے نظام سے وابستہ رہیں
فرمایاگیا
يا ايايهاالالذين امنوا ان تنصر الله ينصركم ويثبت اقاقدامكم محمد :٧

اے ایمان والوں اللہ، کے دین کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کریگا

سورۃ حج میں ارشاد فرمایا گیا
ولينصرن الله من ينصره ان الله لقوي عزيز الحج ٤٠

اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کریگا جو اسکے دین کی مدد کرین گے بلا شبہ اللہ بڑی طاقت والا اور اقتدار والا ہے_

کان حقا علينا نصر المؤمنين الروم ٤٧
ا
اور ہمنے یہ ذمہ داری لی تھی کہ ایمان والوں کی مدد کریں-

سورۃ آل عمران میں فرمایا گیا
وانتم الاعلون ان كنتم مؤمنين العمران ١٣٩

اگر تم واقعی مومن رہو تو تم ہی سر بلند رہوگے

۳ تیسرا ردعمل ایسے حالات میں مٹھی پھر مخلص ۔ باحمیت اوع کامل الامان افراد کا ہوتا ہے جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برار ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خطرناک۔ حالات میں امید کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہی دیتے ان کے حصلوں اور ولولوں میں فرق نہی آتا۔ بلکہ صورتحال جتنی بھی نازک ہوتی جاتی ہے ۔ اپنے رب کے نظام پر اور اسکی قدرت مطلقہ علم کامل اور حکمت بالغہ پر ان کا یقین اور فزوں ہوتا جاتا ہے ان کی نگاہ بصیرت دیکھ رہی ہوتی ہے کہ ظلمت شب جتنی گھنی ہوتی جاتی ہے، طلوع سحر کے لمحات، اتنے ہی قریب ہوتے جاتے ہیں، ظلم و ستم کا طوفان جس قدر تندوتیز ہوگا بارگاہ رب العزت سے مظلوموں کی نصرت اور ظالموں کی کیفر کردار تک پہنچنے کے فیصلے اتنے ہی جلد ظاہر ہوں گے ، اور یہ منظر سامنے آئے گا کہ

آسمان ہوگا سحر کے نور سے آئنہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی

شب گریزاں ہوگی آخرجلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے

مضبوط ایمان رکھنے والے افراد ذلت و ناکامی کے حالات سے سبق لیتے ہیں، اپنی مخفی تعمیری قوتوں کو بیدار کرتے ہیں، اپنے اصول واقدار سے مستحکم،
وابستگی ، ایمان، یقین، انداز فکر، جزبات پر قابو حوصلہ مندی سے کے ساتھ قدم آگے بڑھاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انکی قوت آگے بڑھتی چلی جاتی ہے، رفتار میں اضافہ ہوتا جاتا ہے نئی راہیں کھلتی ہے، اور مستقبل میں بہت سی منزلیں انکے خیبر مقدم کو تیار ہوتی ہے۔
یہ مخلص افراد قنوطیت اور پست ہمتی کا شکار ہونے کے بجائے بصیرت و فراست سے حالات کا سچا تجزیہ کرتے ہیں، اپنے ماضی کی کمیوں اور خامیوں کو بے لاگ محاسبہ کرتے ہیں ، ان کا ازالہ کرنے کی فکر کرتے ہیں اپنے روشن مستقبل تعمیر کرنے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کرتے ہیں اور اپنے مالک حقیقی کی طرف مکمل رجوع کی اصل تدبیر کے ساتھ حالات کی تبدیلی کے لیے تمان ممکنہ اسباب ووسائل اختیار کرتے ہیں، اور اس سفر میں ان کے قلوب کا خلوص اور ان کے اندر کا درد ان کا رفیق رازداں ہوتا ہے ، باالآخر اﷲ کی نصرت ان پر سایہ فگن ہوتی ہے اور انہیں منزل مراد عطاء ہو جاتی ہے۔

موجودہ مسلم اقلیت اور مکہ کی مسلم اقلیت

امت مسلمہ ہند کے لیے آج کے حالات بہت حد تک چودہ صدی قبل مکہ مکرمہ کے مسلمانوں کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں۔

(۱) اس وقت مکہ میں مسلمان اقلیت میں تھے آج ہم بھی ہندوستان میں ہیں اقلیت کم ہے۔
(۲) اس دور میں مکہ میں مسلمان مظلوم تھے اور آج ہم ہندوستان میں مظلوم ہیں۔
+۳) ان کا سامنا غیر مسلم اکثر یت سے تھا۔، آج ہمارا بھی سامنا غیر مسلم اکثر یت سے ہے۔
+لیکن اس تطابق کے ساتھ ہم میں اور ان میں ایک فرق یہ ہے کہ ان کی تعداد بہت کم تھی وہ مکہ کی آبادی کا بہت قلیل حصہ تھا اور ہم تعداد، میں بہت بڑھے ہوۂے ہیں اور اس ملک کی آبادی کم ازکم بیس فیصد ہے۔
+دودسرا فرق یی ہے کہ وہ ظاہری اسباب کے لحاظ سے بہت کمزور تھے اور ہم اس لحاظ ان کی بہ نسبت مضبوط ہیں۔
+تیسرا فرق یہ ہے کہ ان کا سامنا جس غیر مسلم اکثریت سے تھا وہ صد فی صد دشمن تھے مکہ کے، اس ماحول میں کو ئی ایک زبان بھی ان کو اپنی موئد نہی ملتی تھی، کوئی ایک ہاتھ بھی ان کا سہارا نہیں ہوتا تھا، جب کہ ہم ملک میں جس غیر مسلم اکثریت کے درمیان ہیں ان کا ایک بڑا ایک حصہ حالات کے تمام ناسازگار یوں کے باوجود انصاف سچائی رواداری کا علم بردار ہے، ۔
+قرآن کریم نے مکی مسلمانوں کا سچا نقشہ کھینچا ہے
وا ذكروا اذ انتم قليل مستضعفون في الارض تخافون ان يتخطفكم الناس فاواكم وايدكم بنصره (الانفال ٢٦) اور وه وقت ياد كرو جب تم تعداد میں تھوڑے تھے تمہیں لوگوں کو تمہاری سرزمین میں دبا کر رکھا ہوا تھا تم ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک لے جائن گے پھر ﷲنے تمہیں ٹھکانہ دیا اور اپنی مدد سے تمہیں مظبوط بنا دیا ۔

اس صورت حال میں ہمارے لیے بہت نمایاں سبق اور پیغام یہ ہے کہ
جب انتہائی قلیل تعداد میں انتہائی کمزور سو فیصد دشمن اکثریت کے نرغے میں رہنے کے باوجود مکہ کے مسلمان مایوسی اور نا امیدی کا شکار نا ہوئے بلکہ اپنے مقصد پر ثابت قدم اور اپنے مشن پر قائم رہے بالآخر چند ہی سالوں میں حالات نے کروٹ لی اور اﷲ کی نصرت نے انہیں کھلی فتح سے ہم کنار کیا۔
آج کے حالات میں ہمارے لیے انہیں مسلمانوں کا کردار سب سے روشن اور نمونہ اور رہنما؛ ہے اور اسی روشنی میں ہم قدم بڑھائیں تو منزل ہماری دسترس میں ہوگی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker