ہندوستان

میں جشن کیوں مناؤں؟؟؟

نور اللہ نور

جشن یوم جمہوریہ کی مناسبت سے ہر سچا ہندوستانی دو دن پہلے ہی سے تیاریوں میں مصروف ہے ہر ایک فرط محبت سے سرشار ہے، کیونکہ 26 جنوری کو ہی اس چمن میں ہر بیل بوٹے کو چٹخنے اور نکھرنے کا مساویانہ حقوق دیا گیا تھا، مذہب و ملت کی بندش سے اوپر اٹھ کر اہل چمن کے لئے ایک ایسی فضا قائم کی کوشش کی گئی تھی جس میں ہر ایک فرد امن و سکون کے ساتھ جی سکے اور اتنا مستحکم و منظم قانون عمل میں لایا گیا جس میں ہر ایک کے حقوق کا پاس و لحاظ رکھا گیا، اتنا حسین “سمودھان ” لایا گیا جس نے چمن کے حسن میں مزید نکھار پیدا کیا، اسی عظیم نایاب تحفہ کے لئے ہر بھارتی خوشی ومسرت کے گیت گاتا ہے
آج بھی ہر طرف مسرت وشادمانی کے شادیانے بجییں گے، ہر گلی چوراہے پر شیرینی تقسیم ہوگی اور جمہوریت کی مبارکبادی دی جائے گی،
لیکن میرا دل راضی نہیں میرا ضمیر مجھے آواز دیتا ہے اور مجھ سے سوال کرتا ہے کہ
میں جشن کیوں مناؤں ؟؟؟

کس جمہوریت کا جشن مناؤں؟؟ کس قانون کا راگ الاپوں؟؟؟ وہ جمہوریت جس کے مضبوط حصاروں کو سیاسی مفاد کیلئے شکشتہ وبوسیدہ کر دیا گیا؟ کس ” سمودھان” کی دہائی دیں جس میں مذہب و ملت کے رنگ کی آمیزش کر دی گئی ہو؟ ہر طرف آمریت کا تسلط ہے، زمام اقتدار ہٹلر صفت سفاکوں کے ہاتھ میں لا قانونیت کے دست و پا دراز سے دراز تر ہوگئے ہیں! ایسی فضا میں دل کیسے جشن منانا گوارہ کرے گا؟؟ میرا قانون میرا آئین مجھے تحفظ دینے کی بات تو کرتا ہے لیکن افسوس آج وہ خود محفوظ نہیں! کہا تو جاتا ہے کہ ” قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں کوئی بچ نہیں سکتا ” لیکن بدقسمتی یہ ہیکہ آج جو عناصر سنگھاشن پر براجمان ہیں انہوں نے اپنی انا کی تسکین اور اپنے دامن پر خون کے دھبوں کو صاف کرنے کے لیے قانون کے ہی دست و پا تراش دئیے ہیں! حقیقت یہی ہے کہ اب ملک عزیز میں جمہوریت صرف نام کی رہ گئی ہے باقی کام تو انانییت کا ہو رہا ہے، کبھی قانون کہتا تھا کہ ” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے ” لیکن آ ج قانون کی بے بسی یہ ہیکہ حق گوئی کے جرم میں ” گوری لنکیشن ” کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، جمہوریت نے حق دیا تھا کہ ہر ” ناری” کا سمان کیا جائے گا لیکن آج سڑکوں پر اسے رسوا کر کہ انکا اپمان کیا جا رہا ہے، جمہوریت میں ہر ایک کو اپنے حقوق کی آزادی ملی تھی؛ کیا وہ آج ہے ؟ کوئی مجھے لاکر دکھلادے! قانون نے تو ہر ایک کے ساتھ انصاف کی بات کرتا ہے، امیر و غریب کا امتیاز نہیں، تو پھر سینکڑوں ” نربھیا کیس ” کے اہل خانہ آج تک انصاف کے منتظر کیوں ہیں؟؟ اگر ملک میں آئین ہند اور دستور ہند کا راج ہوتا تو آج غنڈے اور موالی ستہ کا غیر ضروری استعمال نہ کر پاتے۔! جمہوریت کی روح بھی اگر باقی ہوتی تو آصفہ اور اناؤ کی مظلوم گھرانوں کو ضرور انصاف ملتا۔۔! کوئی کھل کر لکھ نہیں سکتا، کوئی زباں کھول نہیں سکتا، جبکہ جمہوریت کا مطلب اور جمہوریت کی روح یہ ہیکہ بلا تفریق مذہب و ملت سب کو ایک نظر سے دیکھا جائے، کیا ایسا ہے ؟؟ عبادت گاہوں پر پابندیاں اور نیتاوں کی رات رات بھر سبھائیں؛ کیا یہی جمہوریت ہے اور اسے ہی یہ قانون کا راج کہیں گے؟ سمودھان نے ہندو مسلم سکھ عیسائی سب کو ایک لڑی میں پرویا تھا آج اس کے ایک ایک موتی بکھرے پڑے ہیں، قانون تو تحفظ کے لئے تھا لیکن آج نہ تو بچے محفوظ ہیں اور نہ ہی بوڑھے جواں۔۔!
قانون نے ہمیں بولنے کی آزادی دی تھی لیکن نام کی جمہوریت میں اسے لاٹھی اور ڈنڈوں سے دبایا جا رہا ہے، ایسی پر آشوب فضا میں کیونکر میں مٹھائیاں تقسیم کروں؟؟ مجھے اپنی جمہوریت سے شکوہ نہیں مجھے اس پر اٹوٹ بھروسہ ہے، لیکن اس کی حالت زار تشویش کن ہے، اس کے مضبوط حصاروں کو وقت کے “دیمک” بڑی سرعت سے چاٹ رہے ہیں، اسے لاچار و بے بس کر دیا گیا ہے، ایسے وقت میں میں شیرینی کیسے تقسیم کروں! یہاں میرا چمن آگ کی چپیٹ میں ہے اور میں پارٹی و شارٹی کی کیسے فکر کروں۔! یہ میں نہیں کہتا بلکہ یہ حالات کی ترجمانی ہے، اگر میں اپنے قول میں جھوٹا ہوں تو شاہین باغ میں شاہینیں کیوں بیٹھی ہے؟؟؟ پورا ملک سڑکوں پر نہ اترا ہوا ہوتا۔۔!
ایسے حالات میں میں کیسے جشن مناؤں؟؟؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker