مضامین ومقالات

جلیبی ؛ ایک تاریخی اور قومی مٹھائی

ساجد حسین سہرساوی

اس حقیقت کو تسلیم کر لینے میں کوئی باک نہیں کہ جلیبی ہماری قومی مٹھائی ہے ، دنیا جانتی ہےکہ دیگر مٹھائیاں چاہے جس قدر گراں ، خوبصورت ، لذیذ و پرکشش اور شہرت کی بلندیوں کو چھو لے؛ لیکن جلیبی کے سامنے آکر ڈھیر ہوجاتی ہیں اور مثل تار عنکبوت ثابت ہوتی ہیں ، جلیبی ایک ایسی تاریخی مٹھائی ہے جس پر ملک گیری ، بےجا رسا کشی ، مہنگائی ، بڑھتی کرپشن ، آپسی کشمکش ، بدلتی حکومت ، فصل بہار کی دل آویزی ، موسم خزاں کی ستم ظریفی ، سرما و گرما کی باہمی دست و گریبانی اور تعلقات میں آئے دن دراڑ سے اس کی مانگ اور عزت و احترام پر کبھی حرف نہیں آیا ، نہ ہی وہ کبھی ظالم و جابر حکومت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوئی ،نہ ہی کبھی قصر سلطانی کی زرخرید غلام بن کر رہنا پسند کیا ، نہ ہی کبھی مصلحت کی چادروں میں خود کو لپیٹ کر بزدلی و مفاد پرستی دکھائی اور نہ ہی کسمپرسی اور بےبسی کا مظاہرہ کیا ۔

اگر امیروں کے گھر جانے میں اپنی عزت سمجھی تو غریبوں کے چھپروں میں جاکر غریبوں کی عزت کا سامان بنی ، بچپن سے پچپن اور پچپن سے دم واپسیں تک ہر ایک کا بدرجۂ اتم خیال رکھتی رہی ، کبھی نہ خود شاکی ہوئی اور نہ ہی کبھی کسی کو شکایت کا موقع فراہم کیا ، ہر شہر ، قصبہ ، گاؤں دیہات ، گلی گلیاروں اور ہر نکڑ پر بلاتفریق مذہب و ملت ، چھوٹے بڑے اور امیر و غریب کی پیاری بنی رہی.

الجھ کر رنگ و بو میں عشق کی معصوم سی بچی مٹھائی کی دکانوں میں جلیبی تھام لیتی ہے.

جلیبی کی تاریخ بہت قدیم ہے ، جس پر گر قلم کو حرکت دینے کا ارادہ کیا جائے تو کئی صفحات سیاہ ہوسکتے ہیں ؛ لیکن جلیبی نے ہمیشہ اپنی تاریخ خود بیان کی ہے اور درحقیقت اس کا وجود خود ایک تاریخ ہے.

برصغیر کا ہرشخص ۔چاہے دنیا کے کسی کونے اور گوشے میں ہوں ۔ جلیبی کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا ، کہتے ہیں کہ ‌انگریز جب ہندوستان پر قابض تھا تو ساری زندگی دماغ کھپاتا رہا کہ آخر اس کے اندر شیرہ گیا کدھر سے ، آج اسی انگریز ممالک میں جلیبی نے اپنا لوہا منوا لیا ہے ، عرب لوگ بھی پیچھے نہیں ہیں ، وہاں جلیبی کو ” زلابیہ ” کہا جاتا ہے ، ایک روایت کے مطابق ” زلابیہ ” ہی سے بگڑ کر ” جلیب” بنی ہے ، جلیبی کے متعلق مشہور محاورے یہ ہیں ؛ ﴿ وہ﴾ جلیبی کی طرح ﴿ بالکل ﴾ سیدھا ہے ، تیل کی جلیبی موا دور سے دکھائے ، جلیبی کی رکھوالی اور چوٹٹی کتیا ، چوٹٹی کتیا جلیبیوں کی رکھوالی ، چوٹی بلی جلیبی کی رکھوال/ رکھوالی.
ہندوستان میں اس کی تاریخ مغلوں سے جا ملتی ہے ، یعنی یہ جلیبی بھی جو آج ہماری قومی مٹھائی ہے اور سرحد سرحد پہنچ چکی ہے یہ بھی مغلوں کے صدقے ہی ہم تک پہنچی ہے اور یہ ان کا ہی ہم پر احسان عظیم ہے ، قدیم زمانے میں ایران میں جلیبی کو ” ذولوبیہ ” کہا جاتا تھا ، اسے خاص خاص مواقع پر بنایا اور غریبوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔
البتہ محمد بن حسن البغدادی کی کک بک میں 13ویں صدی میں پہلی مرتبہ اس کا ذکر تحریری شکل میں نظر آتا ہے ، محمد بن حسن البغدادی کو مختصراً اور عموماً “البغدادی ” کہا جا تا تھا ، یہ عربی کی “کک بک ” کے مرتب تھے جنہوں نے عباسیوں کے دورحکومت میں اس کتاب کو مرتب کیا تھا اس کک بک کا نام “کتاب الطبیق” یعنی مختلف ڈشوں کی کتاب رکھا تھا.جلیبی نے مغلوں کے دور حکومت میں ایران سے ہندوستان تک کا سفر طے کیا ، یہ جلیبی ہی تھی جو ایرانی تاجروں ، وہاں کی ثقافت اور سیاسی روایات کے ساتھ ساتھ ہندوستان چلی آئی ، اپنی ثقافت کا لوہا قلیل مدت ہی میں ﴿ قدیم ﴾ ہندوستان کے کونے کونے میں منوا لی اور پروان چڑھتی ہی گئی. جلیبی کا تعلق ہر مذہب اور ہر کلچر سے رہاہے اور سیکھ مذہب میں بغیر جلیبی کے تو شادی تک نہیں کی جاتی.

دیگر مذاہب والے بھی خوشیوں کے مواقع سے جلیبی تقسیم کرتے ہیں ، منگنی ، شادی ، پوجا پاٹ ، ختنہ ، ولیمہ دیگر رسم و رواج کی ادائیگی اور ہر خوشی کے مواقع سے جلیبیاں تقسیم کی جاتی ہیں.آج بھی ہمارے ملک میں ” یوم آزادی اور یوم جمہوریہ ” کے موقع سے شہر شہر ، قریہ قریہ ، گلی گلیاروں اور نکڑوں میں جلیبیاں تقسیم کی جاتی ہیں ، ایک ہی جلیبی ملے مگر لوگ شوق سے کھاتے اور فخر سے بیان کرتے ہیں کہ آج فلاں فلاں جگہ سے جلیبی کھا کر آیا ہوں ، ماں اپنے بچے سے پوچھتی ہے کتنی جلیبیاں ملیں ؟ ، خاص طور پر جشن کے ان دو دنوں میں جلیبی کی کھپت ہزارہا من ہوجاتی ہیں اور گاؤں کے لاچار بچے سے لےکر ملک کے وزیراعظم تک ان دنوں بصد شوق اور علی الاعلان جلیبی کھاتے اور آپس میں تقسیم کرکے ایک دوسرے کو کھلاتے اور جشن مناتے ہیں.

میٹھی ہے جس کو برق کہیے گلابی کہیے
یا حلقے دیکھ اس کے تازی جلیبی کہیے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker