ہندوستان

مدرسہ ریاض العلوم مسجد فرقانیہ گوونڈی ممبئی میں یوم جمہوریہ کا جشن بڑے ہی جوش وخروش کے ساتھ منایا گیا، مدرسہ کے طلبہ نے  قومی ترانہ  “سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا” گاکر ملک سے محبت و یگانگت کا اظہار کیا

ممبئی 26 جنوری (پریس ریلیز )  مدرسہ ریاض العلوم مسجد فرقانیہ گوونڈی ممبئی 43 میں  حسب سابق امسال بھی یومِ جمہوریہ کا جشن دھوم دھام سے منایا گیا، پروگرام کا آغاز قاری محمد سرفراز سلمہ کی تلاوت سے ہوا، حافظ صغیر احمد صاحب استاذ مدرسہ ہٰذا نے بارگاہ رسالت میں نذرانہ عقیدت پیش کیا، مدرسہ کے طلبہ نے قومی ترانہ “سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ” گاکر ملک سے محبت کا اظہار کیا ، مفتی محمد احمد قاسمی نے یوم جمہوریہ کے عنوان پر لکھا گیا اپنا تفصیلی مقالہ پڑھا، ماسٹر شمیم احمد نے آئین ہند کی تمہید پڑھی اور سامعین نے اسے دہرایا، مدرسہ ریاض العلوم کے مہتمم، ممبئی کے مشہور عالم دین حضرت مولانا صغیر احمد نظامی نے اپنے مختصر کلیدی خطاب میں فرمایا کہ ” جو لوگ اس ملک کو فرقہ پرستی اور ہندو راشٹر کی طرف لے جانا چاہتے ہیں ہم چھبیس جنوری کے اس پروگرام سے ان کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ تمہارا یہ خواب کبھی بھی پورا نہیں ہوگا ان شاءاللہ ، ہندوستان دنیا کا واحد ملک ہے جو اپنی عظیم ترین جمہوری روایات واقدار سے جانا اور پہچانا جاتا ہے، اگر اس جمہوریت کو کوئی بھی طاقت ختم کرنے کی کوشش کرے گی، تو ہم ایسی طاقتوں کو کبھی بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ایسی فرقہ پرست طاقتوں کو ہم جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے، ہم مسلمان پورے ہندوستان میں یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ایسی طاقتیں جو ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں، ایسی آوازیں جو ملک کو تقسیم کے دہانے پر لے جائیں، ایسی طاقتوں کو نیست ونابود کردیا جائے، ایسی آوازوں کو ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا جائے، آج چھبیس جنوری کے پروگرام کا خصوصی پیغام یہ ہے کہ یہ ہندوستان ہمارا ہے اور ہم ہندوستانی ہیں، جوبھی ہمارے ہندوستانی ہونے کے حقوق کو چھیننے کی کوشش کرے گا ہم اسے ہندوستان میں رہنے نہیں دیں گے

موصوف نے 26 جنوری کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں دو دنوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے ،ایک 15 اگست جس میں ملک انگریزوں کے چنگل سے آزاد ہوا ، دوسرا 26 جنوری جس میں ملک جمہوری بنا، یعنی اسی دن اپنے ملک میں اپنے لوگوں کا بنایا ہوا قانون اپنے لوگوں پر نافذ ہوا ،  26 جنوری 1950ء کو ہندوستان جمہوری ملک بنا، 26 جنوری کی اہمیت یہ ہے کہ حکومت ہند نے برطانوی ایکٹ جو 1935ء سے نافذ تھا اسے منسوخ کر کے اسی دن دستور ہند کو نافذ کیا اور دستور ہند پر عمل آوری کی یقین دہانی کرائی ۔دستور ساز اسمبلی نے دستور ہند کو 26 نومبر 1949ء کو اخذ کیا اور 26 جنوری 1950ء کو تنفیذ کی اجازت دے دی۔ دستورِ ہند کی تنفیذ سے ہندوستان میں جمہوری طرزِ حکومت کا آغاز ہوا، ہم سب مل کر آج اسی کا جشن منارہے ہیں.

پروگرام میں مدرسہ کے صدر مدرس مولانا ظفیر الحق قاسمی، قاری محمد شمیم ثاقبی، مولانا محفوظ الرحمن قاسمی، ، مولانا محمد اسعد قاسمی ،مولانا محمد امتیاز ندوی، مولانا محمد عرفان قاسمی، حافظ رحمت اللہ ریاضی و دیگر اساتذۂ کرام،  مدرسہ کے تمام ذمہ داران وجملہ اراکین موجود تھے، حضرت مہتمم صاحب کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا، پروگرام  ڈاکٹر ایس آئی علی صدر مدرسہ ہٰذا کی صدارت میں منعقد ہوا؛ جبکہ نظامت کا فریضہ مفتی محمد احمد قاسمی نے بحسن و خوبی انجام دیا، مہمان خصوصی کی حیثیت سے قاضی بدرالدجی قاسمی شریک ہوئے، اس موقع پر علاقے کی نامور اور مشہور شخصیات موجود تھیں، حضرت مہتمم صاحب کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا .

مدرسہ میں تقریب کے انعقاد کے بعد شیرینی تقسیم کرکے طلبہ کو یوم جمہوریہ کی چھٹی دیدی گئی.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker