ہندوستان

” ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے” کے نعرے سے گونجی مہولی کی سرزمین ۔۔ تاریخی احتجاجی مظاہرے میں CAA کے خلاف دیکھی گئی سخت ناراضگی

جالے ۔27/جنوری ( پریس ریلیز )

جالے سے متصل مہولی عید گاہ میں CAA اور NRC کے خلاف منعقد احتجاجی مظاہرے کے دوران زبردست عوامی بھیڑ نے ” ہم ایک ہیں ” اور کاغذ نہیں دکھائیں گے ” کے نعروں کے ساتھ حکومت کے کالے قانون کے خلاف اپنی سخت ناراضگی درج کرائی اور یہ عہد کیا کہ ہم حکومت کے کسی بھی ایسے قانون کو برداشت نہیں کریں جس کی بنیاد مذہبی تفریق ہو لوگوں نے کہا کہ ہم یہاں اس لئے جمع نہیں ہوئے ہیں کہ ہمیں کوئی خوف یا وحشت ہے بلکہ حکومت ملک کی آئین کے خلاف جس طرح کے قدم اٹھارہی ہے اس سے ہمیں غصہ ہے اور یہی غصہ ہمیں ایک ساتھ یہاں کھینچ لایا ہے جب اس نمائندہ نے مظاہرے میں آئی عوام سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ پہلے 1947 میں ہمارے بزرگون نے ملک کو انگریزوں سے آزاد کرانے کے لئے اپنی لڑائی لڑی تھی لیکن یہ لڑائی ہم اس آئین کو بچانے کے لئے لڑ رہے ہیں جس کے سائے میں ہم نے اب تک کا سفر طے کیا ہے اور جو آئین ہندوستان کے جمہوری اقدار کا محافظ ہے مختلف ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق بینی پٹی حلقہ کی ممبر اسمبلی بھاونا جھا،عطا کریم،سینئر کانگریسی لیڈر صادق آرزو،جالے کے معتبر سماجی وسیاسی لیڈر عامر اقبال،لاڈلے ملکانا،خادم حسین،سید تنویر انور،اعجاز انور،دیوندر ساہ،للن پاسوان،آر کے سہنی،نریش چودھری،شکیل سلفی،عبدالرازق نائب پرمکھ،،پردیپ چودھری،مولانا غلام مذکر خان جالوی،منعم،محمدفیاض،خورشید،رام یاد مہتو،قمرالزماں لال صاحب،پردیپ چودھری،بلدیو بیٹھا، شفقت امام نوشاد،احمد علی تمنے،دیوندر پرساد یادو سابق وزیر،شرد سنگھ،سید مہتاب،کوشیشور مہتو،ڈاکٹر قمر عالم،اوصاف لڈن، اورصفدر امام رالوسپا جیسے اہم سیاسی وسماجی رہنماوں کی موجودگی میں CAA .NRC اور NPR کے خلاف عوام کا جوش وخروش قابل دید تھا بلکہ تمام ہی مقررین نے اس قانون کے منفی اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے اسے خطرناک اور بی جے پی و آر ایس ایس کی ملی بھگت کا نتیجہ قرار دیا،بھاونا جھا نے اپنے خطاب میں صاف طور پر کہا کہ حکومت نے در اصل اس قانون کو سامنے لا کر اپنی ان ناکامیوں کو چھپانے کا کام کیا ہے جن کی وجہ سے وہ ملک کی عوام کے نشانے پر تھے انہوں نے کہا کہ یہ کالا قانون اس سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے جس کی زد میں جانے کتنے لوگ آئیں گے اور زد میں آنے والے لوگ کسی ایک مذہب یا ذات کے نہیں ہوں گے بلکہ جس طرح نوٹ بندی نے ہر ایک کو متاثر کیا تھا اسی طرح اس قانون کی مار بھی ہر ایک کو جھیلنی ہوگی اس لئے ہمیں ہر لمحہ اس کے خلاف خود کو حساس طریقے سے بیدار رکھنا ہوگا،سابق رکن اسمبلی دیوندر یادو نے کہا کہ ہم حکومت کی اس پالیسی کی مذمت کرتے ہیں جس نے لاکھوں لوگوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیئے ہیں انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کی آواز سنی جاتی ہے دبائی جاتی ہے مگر حکومت عوام کی آواز کو سننے کی بجائے اسے دبانے کی کوشش کر رہی ہے جو اپنے آپ میں فکر مندی کی بات ہے اور اس کا یہ طریقہ ہیٹلر شاہی کو واضح کرتا ہے مگر میں آپ کو یہ یقین دلاتا ہوں کہ ہم اپنی اس لڑائی کو اس وقت تک لڑیں گے جبتک یہ کالا قانون واپس نہیں لے لیا جا تا،ممبر اسمبلی شکیل احمد خان نے بھی حکومت کی نیت اور اس کی پالیسی پر سوال کھڑے کئے انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس کالے قانون کو مسلمانوں سے جوڑ کر پیش کر رہی ہے مگر میں بتانا چاہتا ہوں کہ اس سے صرف مسلمانوں کو ہی نقصان نہیں اٹھانا ہوگا بلکہ سماج کا ہر وہ طبقہ متاثر ہوگا جن کے پاس کاغذات موجود نہیں ہیں،اطلاع کے مطابق اس احتجاجی مظاہرے میں جالے کے سابق ایم ایل اے رشی مشرا نے بھی شرکت کی مگر انہیں عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا لوگوں کا ماننا تھا کہ جس نمائندے نے آج تک ہماری آواز پر لبیک نہیں کہا آج ہم ان پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker