Baseerat Online News Portal

کروناوائرس معاملہ: ووہان میں کسی وزیر کے بچے پڑھ رہے ہوتے توآج حالات ہنگامہ خیزہوتے

آن لائن نیوزڈیسک
چين کے شہر ووہان ميں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی ہے۔ يہ تعداد عالمی سطح پر 2002 اور 2003 ميں پھيلنے والی سانس کی بيماری ‘سارس سے مرنے والوں کی تعداد سے بھی زيادہ ہو گئی ہے۔
کرونا وائرس گزشتہ برس دسمبر کے مہينے ميں پہلی بار منظر عام پر آيا اور تب سے اب تک کئی ملکوں نے اپنے شہريوں کو چین سے نکال ليا ہے۔کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا چین کا شہر ووہان ہے۔ جہاں اب بھی سيکڑوں طلبہ پھنسے ہوئے ہيں۔ ووہان میں پھنسے پاکستانيوں کے مطابق وہاں حالات انتہائی سنگين ہيں۔
حبيب الرحمان کا تعلق صوبہ خيبر پختونخوا کے اورکزئی ضلع سے ہے۔ وہ گزشتہ ستمبر ميں جرنلزم اينڈ ماس کميونی کيشن ميں ‘ايم فل کرنے کے لیے چین کے شہر ووہان گئے تھے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتايا کہ تمام طالب علم خوف و ہراس کا شکار ہيں اور ہر طرف مکمل بے چينی پھيلی ہوئی ہے۔ حکومتِ پاکستان پر تنقيد کرتے ہوئے حبیب الرحمان نے کہا کہ ’’حکومت کی اپنے شہريوں کے حوالے سے دوغلی پاليسی ہے۔ وہ يہاں سے جانے والے چينی باشندوں پر تو کوئی پابندی نہیں لگا رہے، جو پاکستان ميں اقتصادی راہداری يا دیگر منصوبوں پر کام کر رہے ہيں۔ البتہ اپنے شہريوں کے وطن واپس آنے سے اُنہيں مسائل کا انديشہ ہے۔‘‘حبيب کامزیدکہناہے کہ ’’اگر يہاں کسی وزیر کے بچے پڑھ رہے ہوتے تو صورتِ حال مختلف ہوتی۔ چونکہ يہاں زیرِ تعلیم طلبہ غريب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے حکومت پاکستان کو کوئی خاص پرواہ نہیں ہے۔‘‘
ياد رہے کہ وزيرِ اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد ميں ايک پريس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ پاکستانی شہری ووہان ميں محفوظ ہيں اور چينی حکومت اُن کا بہترين خيال رکھ رہی ہے۔
حبيب الرحمان نے کہا کہ ووہان میں صورتِ حال ہر گزرتے دن کے ساتھ نازک ہوتی جا رہی ہے۔ گھروں سے باہر نہیں جا سکتے، بازار پہلے سے بند ہیں،دکانوں میں نیا اسٹاک موجود نہیں اور اب تو سبزياں اور فروٹ کی بھی قلت ہو گئی ہے۔اُن کے مطابق پاکستانيوں کا يہاں زيادہ تر دار و مدار سبزيوں پر ہوتا تھا۔ ليکن گزشتہ چند دنوں سے وہ ‘پيک فوڈکھا رہے ہيں اور حلال و حرام کا تصور تقريباً ختم ہو کر رہ گيا ہے۔حبیب الرحمان نے کہا کہ اُن کی اپنی حالت جيل سے بھی بدتر ہو گئی ہے کيونکہ جيل ميں آپ اپنے عزيز واقارب سے مل سکتے ہيں ليکن يہاں ہم صرف اپنے کمروں تک محدود ہيں۔ان کامزیدکہناہےکہ گھر سے باہر ہم اپنی خوراک کے پارسل وصول کر سکتے ہيں اور اس کے علاوہ کسی کو بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ ايسا لگتا ہے جيسے بس اپنی موت کا انتظار کر رہے ہوں۔
حبیب الرحمان نے اپنادردبیان کرتے ہوئے کہا کہ پورا دن وہ اپنے کمرے میں بیٹھے ديواروں کو گھورتے رہتے ہيں، صورتِ حال اس قدر خوفناک بن چکی ہے کہ ہر شخص دوسرے سے ملنے سے کتراتا ہے کہ کہيں مہلک وائرس ايک دوسرے سے منتقل نہ ہو جائے۔تئیس سالہ حبيب الرحمان پانچ بچوں کے والد ہيں۔ اُن کے مطابق شروع شروع ميں تو انہوں نے يہ تمام تر صورتِ حال اپنے والدين سے چھپائی ليکن اب وہ حالات سے واقف ہو چکے ہيں اور شديد پريشان ہيں۔ اُن کے مطابق وہ روز اپنے بچوں سے فون پر بھی بات کرتے ہيں
انہوں نے کہا کہ’’ وزيرِ اعظم عمران خان کو پوری دنيا کے مسلمانوں کی فکر ہے ليکن افسوس کی بات ہے کہ اُنہيں اپنے شہریوں کی چین میں صورتِ حال تک کا علم نہیں ہے۔‘‘حبيب الرحمان کے مطابق وہ چین آئے تو تعليم کے لیے تھے ليکن اب ايسا لگتا ہے کہ وہ ذہنی مریض ہو گئے ہيں۔ ان کے مطابق اگر جيسے ہی حالات ٹھيک ہو جاتے ہيں تو تمام طلبہ اپنے علاج کی غرض سے اسپتالوں کا رُخ کريں گے۔
اتوار کے روز چين ميں کرونا وائرس سے مزيد 97 افراد ہلاک ہوئے جو گزشتہ دو مہينوں ميں اس مہلک وائرس سے ايک روز ميں ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ تاہم چينی انتظاميہ کے مطابق وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی يوميہ تعداد اب مستحکم ہو گئی ہے۔
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع نواب شاہ سے تعلق رکھنے والے مير حسن خاص خیلی بھی حبيب الرحمان کی طرح چين ميں پاکستانی مشن سے سخت نالاں ہيں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتايا کہ ’’اُنہیں گزشتہ ہفتے اپنے والد کی وفات کی اطلاع ملی جس کے بعد انہوں نے اپنی يونيورسٹی کی انتظاميہ کو آگاہ کيا کہ وہ واپس پاکستان جانا چاہتے ہيں تاکہ والد کی نمازِ جنازہ ميں شرکت کر سکیں۔
میر حسن کے بقول، ’’يونيورسٹی انتظاميہ نے انہیں بتايا کہ اگر وہ پاکستانی سفارت خانے سے تحريری اجازت نامہ فيکس کرا ديں تو وہ پاکستان جا سکتے ہيں۔‘‘انہوں نے کہا کہ چار دن گزر گئے ہيں ليکن تاحال اُن کی درخواست پر کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے جس کے باعث وہ سخت کرب ميں مبتلا ہيں۔
ستائیس سالہ مير حسن کے نو بہن بھائی ہیں اور وہ سب سے چھوٹے ہیں۔ اُن کے مطابق کرونا وائرس کے پھيلنے کے بعد اُن کے والد روز کئی مرتبہ حال پوچھنے کے لیے فون کرتے تھے اور ان کی خواہش تھی کی گزشتہ موسم سرما ميں اُن کی منگنی کر دی جائے ليکن حالات کے سبب وہ چین میں پھنسے ہوئے ہیں۔
مير حسن کے مطابق وہ يہ سمجھتے ہيں کہ اُن کے والد کی موت کی ایک وجہ ان کی ووہان ميں تکلیف دہ صورتِ حال میں موجودگی کا صدمہ بھی ہے۔
مير حسن نے 2017 میں چين کی ووہان يونيورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی تھی جس کے بعد وہ اس وقت ووہان نيشنل ليبارٹری، آپٹو اليکٹرانکس ہازونگ يونيورسٹی آف سائنس اينڈ ٹيکنالوجی سے کمپيوٹر آرکيٹيکچر ميں پی ايچ ڈی کر رہے ہيں۔ اس کے ساتھ وہ گلاسگو يونيورسٹی ميں بطور وزٹنگ ريسرچر بھی ہيں۔
دوسرے تمام پاکستانيوں کی طرح مير حسن بھی اپنے ملک جانے کے لیے بے تاب ہيں۔ ان کے مطابق گو کہ وہ اپنے والد کی آخری رسومات ميں شرکت نہیں کر سکے تاہم وہ نہیں چاہتے کہ اُن کی والدہ بھی اس غم کا شکار ہو جائیں۔

You might also like