مضامین ومقالات

فحاشی اور بے حیائی کا تہوار (ویلنٹائن ڈے) ’’یومِ محبت‘‘ نہیں ’’یومِ عیاشی‘‘ ہےـ

محمد سلمان قاسمی دھلوی

قارئین کرام!
گزشتہ صدی کی آخری دہائی میں ذرائع ابلاغ اور موجِ دریا کی طرح وسائل کی فراہمی نے دنیا میں برائیوں کے ایسے ایسے اسباب مہیا کیے ہیں کہ انسان کا گناہوں سے بچ پانا انتہائی دشوار ہوتا چلا گیا، انہیں برائیوں اقر فحاشیں میں سے ایک 14فروری کا دن ہوتا ہے، جو چند سالوں قبل تک تو عام دنوں کی طرح آتا اور چلا جاتا ، لیکن رفتہ رفتہ اس دن نے ایک ایسی اپنی شناخت بنالی جس میں کھلے عام فحاشی و بے حیائی کا ننگا ناچ ہونے لگا، اور محبت کے نام پر عزتوں کو اقر انسانی رشتوں کو پامال کیا جانےگا، گرچہ عرف میں محبت ایک ایسا لفظ ہے جو معاشرے میں بیشتر دیکھنے ؛ سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے، ہر محبت کے متلاشی کی سوچ و فکر اور محبت کرنے کے انداز جدا جدا ہوتا ہے ـ لیکن اگر ہم اس (ویلنٹائن ڈے) کے سیاق و سباق کو دیکھیں تو یہ ایک مسلمان ہی نہیں؛ بلکہ عام شریف النفس انسان کیلیے بھی کسی صورت میں درست نہیں کہ وہ اس دن کو یوم محبت کے طور پر منائے، کیونکہ اس دن میں ہمارا نوجوان طبقہ (لڑکے لڑکیاں) انسانیت کی تمام کی تمام حدود کو پار کرتے ہیں ، اور نا معلوم کتنی ہی معصوم لڑکیوں کی عزتوں کو محبت کے نام پر تار تار کردیا جاتا ہے، اس لیے اس فحاشی اور بے حیائی والے دن (ویلنٹائن ڈے) کو ’’یومِ محبت‘‘ نہیں ’’یومِ عیاشی‘‘ کہنا زیادہ بہتر ہوگاـ

ویلنٹائن ڈے کیا ہے؟؟

سنیٹ ویلنٹائن ڈے (Saint Valentine’s Day) جسے ویلنٹائین ڈے (Valentine’s Day) اور سینٹ ویلنٹائن کا تہوار (Feast of Saint Valentine) بھی کہا جاتا ہے، محبت کے نام پر مخصوص عالمی دن ہے، اسے ہر سال 14 فروری کو ساری دنیا میں سرکاری، غیر سرکاری، چھوٹے یا بڑے پیمانے پر منایا جاتا ہے۔ اس دن شادی شدہ و غیر شادی شدہ جوڑے ایک دوسرے کو پھول اور تحائف دے کر اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں ـ سینٹ ویلنٹائن نام کا ایک معتبر شخص برطانیہ میں بھی تھا۔ یہ بشپ آف ٹیرنی تھا جسے عیسائیت پر ایمان کے جرم میں” 14فروری 269ء “کو پھانسی دے دی گئی تھی ، قید کے دوران بشپ کو جیلر کی بیٹی سے محبت ہوگئی، اور وہ اسے محبت بھرے خطوط لکھا کرتا تھا اس مذہبی شخصیت کے ان محبت ناموں کو ویلنٹائن کہا جاتا ہے۔ چوتھی صدی عیسوی تک اس دن کو تعزیتی انداز میں منایا جاتا تھا، لیکن رفتہ رفتہ اس دن کو محبت کی یادگار کا رتبہ حاصل ہوگیا اور برطانیہ میں اپنے منتخب محبوب اور محبوبہ کو اس دن محبت بھرے خطوط’ پیغامات’ کارڈز اور سرخ گلاب بھیجنے کا رواج پا گیا۔ عجیب بات یہ ہیکہ اس تہوار کو منانے والے اب تک یہ فیصلہ نہیں کرپاے کہ اس دن کو یوم محبت کے تہوار کے طور پر منانے کا مطلب کیا ہے، اس سلسلہ میں مختلف روایات بیان کی جاتی ہیں، اگر ان روایات کو بھی بنیاد بنایا جائے تو بھی ایک عقل مند اور باشعور انسان اس تہوار کو منانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ کوئی بھی باغیرت اور باحمیت شخص کبھی یہ گوارا نہیں کرے گا کہ کوئی راہ چلتا شخص اس کی بہن، بیٹی یا کسی عزیز کو پھولوں کا گل دستہ پیش کرتا پھرے، اسی طرح کوئی بھی باحیا، با غیرت اور پاکدامن لڑکی کبھی یہ پسند نہیں کرے گی کہ اس کا کلاس فیلو، یونیورسٹی فیلو یا کوئی بھی راہ چلتا نوجوان اسے پھول پیش کرے اور محبت کی پینگیں بڑھائے…

ویلنٹائن ڈے اور اسلامی نقطہ نظر…

اسلام برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کا عزم رکھتا ہے۔ دنیا میں اسلام سے بڑھ کر کوئی مذہب بے حیائیوں پر روک لگانے والا نہیں ہے۔ قرآن و حدیث میں فحاشی کی بنیاد یعنی آنکھ کی بے احتیاطی کو سختی سے قابو میں کرنے کی تلقین کی گئی ہے یہ ایسی بنیاد ہے اگر صرف اس پر ہی قابو پالیا جائے تو ساری بے حیائیاں دنیا سے رخصت ہوسکتی ہیں۔ چنانچہ ویلنٹائن ڈے کا یہ تہوار اسلامی غیرت کے منافی اور مسلم معاشرے پر یہود ونصاریٰ کا تہذیبی و ثقافتی حملہ ہے ، ایسے بیہودہ اور اخلاق سوز تہوار کی اسلام میں قطعاً گنجائش نہیں، اس کا منانا حرام‘ اور گناہِ کبیرہ ہے، اور غیر مسلم قوم کی مشابہت اختیار کرنا ہےـ جو قرآن وحدیث کے فرمودات کے خلاف ہےـ
چنانچہ رسول کریم ﷺ کا فرمان :
قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ.
ترجمہ: جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہوتا ہے۔ (سنن أبي داود ، كِتَاب اللِّبَاسُ ، بَاب فِي لُبْسِ الشُّهْرَةِ، رقم الحدیث: ۱۴۳۱)
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے:
قُلْ لِلْمُوٴْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِن اَبصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَہم ذٰلِکَ اَزْکٰی لہم․ (سورة النور آیت: ۳۱، پ:۱۸)
ترجمہ: آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ صفائی کی بات ہے۔
اسی طرح صحیح بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے.
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : ” لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، شِبْرًا شِبْرًا، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ “. قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى ؟ قَالَ : ” فَمَنْ “.
ترجمہ: حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی بالشت بربالشت اورہاتھ برہاتھ پیروی کروگے ، حتی کہ اگر وہ گوہ کے بل میں داخل ہوئے توتم بھی ان کی پیروی میں اس میں داخل ہوگے ، ہم نے کہا اے اللہ تعالی کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم : کیا یھودیوں اورعیسائیوں کی ؟ تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اورکون ؟
(صحیح بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم لتتبعن سنن من کان قبلکم، رقم الحدیث:۷۳۲۰)
صحیحین کی ایک دوسری روایت میں
إِذَا لَم تَسْتَحِی فَاصنَع مَا شِئتَ
ترجمہ: جب تم حیا نہ کرو تو جو جی چاہے کرو۔ (بخاری و مسلم) یعنی شرم و حیا کا دامن جس نے چھوڑ دیا اس نے ہر برائی سے ناطہ جوڑ لیا۔ غیر محرم عورتوں کو چھونے ،ان سے مصافحہ کرنے اور ان کے ساتھ میل جول رکھنے کے بارے میں شریعت میں شدید ممانعت آئی ہے، نبی کریم ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں کسی غیر محرم عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا، جب ہاتھ کو چھونا حرام ہے تو سر کو چھونا بالاولیٰ حرام ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔
’’ والله ما مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ في الْمُبَايَعَةِ وما بَايَعَهُنَّ إلا بِقَوْلِهِ ‘‘ (صحیح البخاری، کتاب الشروط )
اللہ کی قسم ، بیعت کرتے ہوئے (بھی)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا ہاتھ مبارک کبھی کسی عورت کے ہاتھ کے ساتھ نہیں لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم عورتوں کی بیعت صرف اپنے کلام مبارک کے ذریعے فرمایا کرتے تھے۔
یہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا عمل مبارک ، جس کی تاکید انہوں نے اپنے مبارک الفاظ میں یوں فرمائی
’’ إِنِّي لَا أُصَافِحُ النِّسَاء ‘‘
میں عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتا
(سنن النسائی ، کتاب البیعۃ/ سنن ابن ماجہ ، رقم الحدیث: ۵۲۹)
لہذا دور حاضر میں ویلنٹائن ڈے منانے کا مقصد ایمان اور کفر کی تمیز کئے بغیر تمام لوگوں کے درمیان محبت قائم کرنا ہے، اور اس میں شک نہیں کہ کفار سے دلی محبت ممنوع ہےـ خلاصہ کلام یہ کہ ولینٹائن ڈے منانا اورغیر شرعی محبت اور اسکا اظہار ناجائز ہےـ اس لیے ہمیں اس فحاشی اور بے حیائی والے یہود ونصاری کے اس تہوار (ویلنٹائن ڈے) کو منانے سے خود بھی بچنا چاہیے اور اپنے اہل و عیال کو بھی بچانا چاہئےـ
اللہ تعالی ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker