ہندوستان

دہلی انتخابات:’آپ‘ کی آندھی میں اڑی کئی قومی و علاقائی پارٹیاں، کئی درجن پارٹیوں کو’نوٹا‘ سے بھی کم ووٹ ملے

نئی دہلی:13فروری ( این ایس )
دہلی کے انتخابی نتائج سے صاف ہے کہ اروند کجریوال مسلسل تیسری بار دہلی کے وزیر اعلی بننے جا رہے ہیں۔2015 کی 67 نشستوں کے مقابلے عام آدمی پارٹی کو اس بار 70 میں سے 62 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ویسے تو عام آدمی پارٹی کی اس شاندار کارکردگی کے سامنے بی جے پی اور کانگریس جیسی بڑی پارٹیاں بھی نہیں ٹک پائی ہیں لیکن الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ عام آدمی پارٹی کی اس لہر میں نصف درجن سے زیادہ قومی اور علاقائی پارٹیاں بہہ گئیں۔الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق دہلی اسمبلی انتخابات میں پڑے کل ووٹوں کا 0.46 فیصد حصہ’نوٹا‘ کے کھاتے میں گیا ہے، لیکن کئی درجن پارٹیاں ایسی بھی ہیں جنہیں مجموعی طور پرنوٹا سے بھی کم ووٹ ملے ہیں۔اس لسٹ میں سب سے پہلا نام آل انڈیا فارورڈ بلاک کا ہے،جسے 0.00 فیصد ووٹ ملے ہیں۔اس کے بعد باری چودھری اجیت سنگھ کی پارٹی راشٹریہ لوک دل کی آتی ہے جسے ملے ہیں 0.01 فیصد ووٹ اور اتنے ہی ووٹ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) (سی پی آئی ایم) کو بھی ملے ہیں۔لسٹ میں اگلا نام شرد پوار کی این سی پی کا ہے جسے 0.02 فیصد ووٹ ملے ہیں اور 0.02 فیصد ووٹ حصہ کے ساتھ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) بھی لسٹ میں تیسرے نمبر پر ہے۔لالو یادو کی راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) سب سے کم ووٹ حاصل کرنے والی علاقائی پارٹیوں کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے۔تیجسوی یادو کے ایک ہفتے کی تشہیر کے بعد بھی پارٹی کو محض 0.04 فیصد ووٹ ملے ہیں،جبکہ مہاراشٹر میں حکومت چلا رہی بی جے پی کی سابق ساتھی شیوسینا کو دہلی الیکشن میں کل 0.20 فیصد ووٹ نصیب ہوئے ہیں۔نوٹا کے قریب رام ولاس پاسوان کی پارٹی ایل جے پی ہے جس کا ووٹ شیئر 0.35 فیصد ہے۔بی ایس پی (0.71 فیصد) اورجے ڈی یو (0.91 فیصد) وہ پارٹیاں ہیں جنہیں نوٹا سے تو زیادہ ووٹ ملا ہے لیکن ووٹ شیئر کے معاملے میں یہ پارٹیاں 1 فیصد کے اعداد و شمار تک بھی نہیں پہنچ پائی ہیں۔ان کے علاوہ بہت سے چھوٹی چھوٹی پارٹیاں ہیں جنہوں نے اس الیکشن میں قسمت آزمائی لیکن ان سب کو ملا کر بھی (0.91 فیصد) 1 فیصد سے زیادہ ووٹ نصیب نہیں ہوئے ہیں۔

Tags

Sajid Qasmi

غفران ساجد قاسمی تعلیمی لیاقت : فاضل دارالعلوم دیوبند بانی چیف ایڈیٹر بصیرت آن لائن بانی چیف ایڈیٹر ہفت روزہ ملی بصیرت ممبئی بانی و صدر رابطہ صحافت اسلامی ہند بانی و صدر بصیرت فاؤنڈیشن

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker