ہندوستان

دارالعلوم صدیقیہ میسور کے تین طلبہ کے ساتھ حادثہ فاجعہ

میسور، 14 فروری،( مولانا محمد ظفر قاسمی ) آج بروز جمعہ 2020-02-14
محمد توصیف ہا سن، جماعت دوم
محمد افتخار جماعت اول
محمد مجسم ارسیکرہ جماعت اول
تینوں اپنے اساتذہ کے منظورنظر، با ادب سلیقہ مند اور خاموش طبیعت کے با اخلاق تعلیم میں بھی نمایاں تھے۔ سب سے بڑھ کر ہیکہ یہ حافظ قرآن تھے کس کو پتہ تھا کہ آج کی صبح ان کے لئے پیغام اجل لائے گی حسب معمول تینوں طالب علم آج جمعہ کی فجر کے بعد کے معمولات پورے کر کے دعاو نیاز سے فارغ ہو کر چھٹی کے ذمہ دار استاذ محترم سے چھٹی لے کر مدرسہ سے نکلے تھے، صدر دروازہ پر چھٹی کی کاپی بتا کر دروازہ سے باہر نکلے اور سری رنگا پٹنم کی ایک مہیب ندی (جس میں عموما لوگ نہانے کے لئے نہیں جاتے ہیں ) تیرنے کے لئے گئے، باہرموجودلوگوں کی خبر کے مطابق ایک طالب علم نے چھلانگ لگائی اور تھوڑی دیرتک واپس نہیں آیا تو باقی دونوں نے بچانے کے لئے چھلانگ لگا دیا اور دونوں بھی او پر نہیں آئے تو باہر موجود ایک صاحب کی طرف سے مدرس کو فون آیا کہ تینوں بچے ڈوب گئے ہیں، پھر کیا تھا کہ اساتذہ اور ذمہ داران آن کی آن میں وہاں جا پہنچے اور بڑی کوششوں کے بعد تینوں کی لاشیں نکال لی گئیں۔ |
ہم ادارہ کے اساتدہ ذمہ داران اور طلباء اس حادثہ فاجعہ پر بہت ہی غمزدہ ہیں کہ اب ہمارے چمن کی تین کلیاں کھلنے سے پہلے مرجھاگئیں .دعافرمائیں کہ الله تعالی ان تینوں معصوم کلیوں کی مغفرت فرمائے اور والدین واقرباء کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔ یہ مدرسہ کی جانب سے خبر صادق ہے اس کے علاوہ باقی افواہیں ہیں اور مدرسہ کی تقریبا پچاس سالہ تاریخ کا پہلا واقعہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker