ہندوستان

ہم آخری سانس تک CAA کے خلاف اپنی مہم جاری رکھیں گے۔۔۔۔عظمیٰ رحیم، ہم سڑک پر ڈر کی وجہ سے نہیں،آئین کو بچانے کے لئے ہیں :نصرین انجم

سمستی پور ۔۔14/ فروری ( پریس ریلیز )

آزاد ہندوستان کی طویل تاریخ میں آج تک ہم نے جس محبت وبھائی چارگی،خود اعتمادی اور قومی یکجہتی کے ساتھ اپنا سفر طے کیا ہے اس پر نفرت وتعصب کی چادر ڈال کر ملک کے مستقبل کو داغدار بنانے کی سازشیں بڑے پیمانے پر جاری ہیں اور گاندھی کی اس خوبصورت نگری میں گوڈسے کے اصولوں کو نافذ کرنے کا کھیل جس ڈھٹائی کے ساتھ کھیلا جارہا ہے اگر اس میں فرقہ پرست طاقتیں کامیاب ہوگئیں اور ہم نے پوری قوت کے ساتھ ان کے ناپاک ارادوں کو کمزور بنانے کے اقدامات نہ کئے تو گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار کہلانے والا یہ ملک اپنی شناخت کھوکر تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو جائے گا یہ باتیں آج سمستی پور کی تاریخی سرزمین پر CAA.NRCاور NPR کے خلاف 36 دن سے جاری دھرنے کی میڈیا انچارج عظمی رحیم طالبہ ملت اکیڈمی سمستی پور اور ترجمان نصرین انجم نے بصیرت آن لائن کے جوائنٹ ایڈیٹر مولانا ارشد فیضی قاسمی سے بات کرتے ہوئے کہیں اور انہوں نے عوامی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے فوری طور پر حکومت سے اس کالے قانون کو واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا،دھرنے کی انتظامیہ کمیٹی سے ملی جانکاری کے مطابق یہ دھرنے کا 36 واں دن تھا جس میں،عمران پرتاپ گڑھ,سفیان پڑتاپ گڑھی،پپو یادو ،دیپانکر بھٹا چاریہ،سہیلا رشید سمیت کئی سرکردہ شخصیات حاضری دے چکے ہی،جبکہ فیض الرحمان فیض،رضی الاسلام رضو،نسیم عبداللہ،اجے کمار سی پی ایم،سریندر پرتاپ سنگھ بھاکپا کی نگرانی وسرپرستی میں احتجاجی دھرنا پورے پرسکون انداز میں جاری ہے،میڈیا انچارچ عظمی رحیم اور ترجمان نصرین انجم نے مشترکہ طور پر بتایا کہ ہم کالے قانون کی وجہ کر ڈر یا خوف کی وجہ سے یہاں دھرنے پر نہیں بیٹھے بلکہ آئین کو بچانے کے لئے یہاں جمع ہیں کیونکہ ہمارے دستور میں مذہبی تفریق کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے جبکہ حکومت نے نہ صرف سی اے اے کے بہانے ملک کو خانہ جنگی کا شکار بنادیا ہے بلکہ اس کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کی کوشش بھی کی جارہی ہے مگر ہم اس کو برداشت نہیں کریں گے ایک سوال کو جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم یہاں لگاتار 36 دن سے بیٹھے ہیں اور اس وقت تک نہیں ہٹیں گے جب تک اس کالے قانون کو واہس لیتے ہوئے این آر سی اور این پی آر نہ کرانے کا اعلان نہیں کر دیا جاتا انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر نافذ نئے شہریت قانون کی وجہ سے آج ہم آزادی کی ستر دہائیاں گزارنے کے بعد ملک میں ایک ایسی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں جس کے بھیانک نتائج سے انکار نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کالے قانون کے تعلق سے حکومت جس پالیسی کو ملک کے اوپر تھوپنا چاہتی ہے اور جس طرح اس نے اپنے ہی وطن میں لوگوں کو بے گھر بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہوا ہے اگر اس میں وہ کامیاب ہوگئی اور ہم نے اس کالے قانون کی کھل کر مخالفت نہ کی تو گنگا جمنی تہذیب کی علامت کہلانے والا ہمارا یہ ملک ہندوستان دنیا کے نقشے پر بے حیثیت ہو کر رہ جائے گا اور ہم چاہ کر بھی عالمی برادری کے سامنے ہندوستان کی اس پہچان کو باقی نہیں رکھ پائیں گے جس کی وجہ سے پوری دنیا ہندوستان کو عظمت واحترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اس لئے اس حساس منظرنامے میں ہمیں بھیم راو امبیڈکر کے بنائے ہوئے آئین کی حفاظت اور ہندوستان کے جمہوری اقدار کی بقاء کے لئے ہر ممکن کوششیں کرنی ہو گی انہوں نے واضح کیا کہ اس کالے قانون کے خلاف ہماری جد وجہد کسی ڈر یا خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ سرکار کے ذریعہ اٹھائے گئے قدم کے خلاف غصہ کی وجہ سے ہے اور ہم اپنے غصہ میں اس لئے حق بجانب ہیں کہ شہریت ترمیمی قانون کو جس شکل میں سامنے لایا گیا ہے وہ ملک کے جمہوری مزاج سے ہر گز میل نہیں کھاتا انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کی آواز کو دبایا نہیں بلکہ اس پر توجہ دی جاتی ہے اس لئے حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی بے چینی کو محسوس کرتے ہوئے اس کالے قانون کو فوری واپس لینے کا فیصلہ کرے تاکہ ہندوستان کی کڑوروں آبادی کو کسی بھی تکلیف دہ حالات کا سامنا کرنے سے بچایا جا سکے،اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنی آخری سانس تک اس کالے قانون کے خلاف اپنی مہم جاری رکھیں گے ۔

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker