ہندوستان

مہاراشٹر: سرکاری دفتروں میں پانچ دن تک کام کاج، اب اسکول کالجوں کے لئے اٹھا مطالبہ

ممبئی:14؍فروری(بی این ایس )
مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے سرکاری ملازمین کو بڑا تحفہ دیتے ہوئے سرکاری دفتروں کو اب ہفتے میں 5 دن کام کرنے کی تجویز منظور کی ہے۔یعنی اب سرکاری، نیم سرکاری ملازمین کو ہفتے میں ہفتے کے آخر میں 2 دن کی چھٹی ملے گی۔اب مانگ اٹھنے لگی ہے کہ اگر سرکاری دفتر صرف 5 دن کام کر رہے ہیں تو اسی طرز پر مہاراشٹر کے اسکول، جونیئر کالج اور سینئر کالج بھی ہفتے میں 5 دن کھلے رہیں۔یہ مطالبہ قانون ساز کونسل ممبر کپل پاٹل نے ریاست کے وزیر تعلیم ورشا گایکواڑ سے کیا ہے۔ کپل پاٹل کا کہنا ہے کہ رائٹ ٹو ایجوکیشن کے مطابق پہلی کلاس سے پانچویں کلاس تک کے بچوں کو سال کے 200 دن یعنی 800 گھنٹے کی تعلیم، جبکہ چھٹی سے آٹھویں کے بچوں کو سال میں 220 دن یعنی 1000 گھنٹے مقرر کیاگیا ہے۔باوجود اس کے استاد اور اسکول انتظامیہ کی جانب سے اسکولوں کو ہفتے میں 6 دن تک چلایا جا رہا ہے۔ممبئی جیسے شہر میں پہلے سے ہفتے میں 5 دن تک اسکول جبکہ ہفتہ کے دن آدھے دن کی پڑھائی ہوتی ہے۔استاد ں کی مانیں تو ہفتے میں بچوں کو 2 دن چھٹی دینی چاہئے۔شہری علاقوںمیں اسکولوں میں پڑھانے آنے والے اساتذہ کو بھی روزانہ کا طویل سفر اور بدلتے تعلیم کے ماحول کی وجہ سے اساتذہ کو تیاری کے لئے وقت نہیں ملتا لہٰذا اساتذہ کو بھی ہفتے میں 2 دن کی چھٹی دینا ضروری ہے۔قانون ساز کونسل ممبر کپل پاٹل نے تجویز بھی دی ہے کہ آٹھویں سے دسویں کلاس کے کلاس پیر سے جمعہ صبح 7 بجے سے دوپہر 12:30 بجے تک چلیں۔جبکہ لوور پرائمری کے کلاس جس میں پہلی سے لے کر پانچویں کلاس کے کلاس آتے ہیں ان کے کلاس دوپہر 1 بجے سے لے کر 5:30 بجے تک چلیں۔لوئر پرائمری کے کلاس ساڑھے 4 گھنٹے سے زیادہ کے نہ ہوں۔یہ رائٹ ٹو ایجوکیشن کے مطابق ہے۔کپل پاٹل نے مہاراشٹر کے وزیر تعلیم ورشا گایکواڑ کو لکھے خط میں ہفتے کے 5 دن اسکول چلنے کے فائدے بھی گنائے ہیں۔خط میں لکھا ہے کہ ہفتہ اور اتوار کو چھٹی دینے سے اسکولوں میں بجلی کی کھپت کم ہو گی۔ہفتے کے آخر میں اسکولوں کو باہری پروگرام کے لئے عمارت کو پیشہ استعمال کے لئے دیا جا سکتا ہے۔مہاراشٹر حکومت نے جو تجویز منظور کی ہے اس کے مطابق سرکاری دفتر ہفتے میں 5 دن کھلے رہیں گے۔سرکاری ملازمین کو ہفتہ اور اتوار کو چھٹی ملے گی لیکن اس کے بدلے ان ملازمین کو کام کاج کے دن 45 منٹ سے زیادہ کام کرنا پڑے گا۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker