ہندوستان

 جب عوام بیدار ہوتے ہیں ، تو سرکار گھٹنے ٹیکنے پرمجبور ہو جاتی ہے :جسٹس کولسے پاٹل، ممبئی کے آزاد میدان میں سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف زبردست احتجاج، آزادی آزادی کے نعروں سے گونجتا رہا میدان

ممبئی ،15 فروری (بصیرت نیوز سروس /ایجنسی) سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف آزادی آزادی کے نعروں کے ساتھ ممبئی کے آزاد میدان میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آیا ۔ اس احتجاجی مظاہرہ میں عوام اپنے ہاتھوں میں ترنگا تھام کر سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے ۔ آزاد میدان میں اس قدر مجمع تھا کہ میدان اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود بھی تنگ دامنی کا شکوہ کرنے لگا اور ریلوے اسٹیشن تک عوام کا سیلاب نظر آرہا تھا ۔ الائنس اگینسٹ سی اے اے ، این آر سی اور این آرپی کے صدر جسٹس کولسے پاٹل نے اپنے صدراتی خطبہ میں کہا کہ جب عوام بیدار ہوتے ہیں ، تو سرکار گھٹنے ٹیکنے پرمجبور ہو جاتی ہے ۔ امت شاہ پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ یکم اپریل کو این پی آر کیلئے جب سروے والے آئیں گے ، تو ہم پوچھیں گے کہ مودی کی ڈگری تو دکھاؤ.
احتجاج میں شامل اہم شخصیات نے مہاراشٹر میں این پی آر کرانے کے ریاستی حکومت کے فیصلے پر  سخت برہمی کا اظہار کیا ڈ،اکٹر راکیش راٹھوڑ نے بھی اس احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کیا ۔ الائنس اگینسٹ سی اے اے ، این آر سی ، این پی آر کے اہم رکن مجتبی فاروق نےاس احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے  اپنی لڑائی میں شدت پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس ملک میں فرقہ پرستی عروج پر ہے اور اسی لئے یہ کالا قانون لایا گیا ہے جو واپس لینا ہوگا ۔ سماجی کارکن ٹیسٹا سیتلواد نے بھی اس سیاہ قانون کی مخالفت کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ یہ قانون صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں ، بلکہ ہر ہندوستانی کے خلاف ہے ، اس لئے ہمیں اس کے خلاف متحد ہو کر لڑائی لڑنی ہوگی ۔ یہ لڑائی بہت طویل ہو گی ۔ مسلم پرسنل لابورڈ کے رکن قاسم الیاس رسول ، فلم اداکار ششانت سنگھ اور مولانا خالد اشرف نے بھی مجمع سے خطاب کیا اور این آرسی ، این پی آر اور سی اے اے کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا. ششانت سنگھ نے کہا کہ ہمارے وزیر داخلہ امت شاہ کہتے ہیں کہ پرامن احتجاج ہر ہندوستانی شہری کا حق ہے لیکن کسی کو تشدد کی اجازت نہیں ہے، ان کو دہلی میں جلائی گئی بس پر افسوس ہے؛ لیکن معصوم اور بے قصور مارے گئے انسانوں کے بارے میں کوئی افسوس نہیں… انہوں طنزیہ اور انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ بسیں کم ہیں اس لیے بس کو نہیں جلانا چاہیے، انسان بہت ہیں ان کو جتنا چاہو مار ڈالو، بس نہ جلاؤ انسانوں کو مارو، وہ اس موقع پر انتہائی غصے میں تھے اور وزیر داخلہ کی کلاس لے رہے تھے، اپنی جذباتی نظم پیش کرکے انہوں نے اپنی بات انقلاب زندہ باد کے نعرے کے ساتھ مکمل کی.

قاسم الیاس رسول نے کہا کہ حکومت اگر این آر سی ، شہریت ترمیمی قانون اور این پی آرکو واپس نہیں لیتی ہے ، تو احتجاج میں شدت پیدا کی جائیگی ۔ مجتبی فاروق نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر حکومت نے یکم مئی سے ریاست میں این پی آر کے نفاذ کا اعلان کرکے لوگوں کی توقع کے خلاف کام کیا ہے۔ واضح رہے کہ یکم مئی سے حکومت مہاراشٹر نے ریاست میں این آر پی کے تحت سروے کو ہری جھنڈی دکھا دی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے صدر ابوعاصم اعظمی نے شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف جیل بھرنے کی بھی بات کہی ۔ ابوعاصم اعظمی نے کہا کہ مہاراشٹر میں این پی آر کو نافذ کرنے کی سخت مخالفت کی جائیگی اور وزیر اعلی مہاراشٹر ادھو ٹھاکرے اور شرد پوار سے اس تعلق سے بات بھی کی جائے گی ۔یہ احتجاجی اجلاس 2 بجے شروع ہو کر 6 بجے بحسن و خوبی اختتام کو پہنچا، اس احتجاج میں خواتین بڑی تعداد میں شریک ہوئیں، ممبئی کے مضافاتی علاقوں سے کافی بسیں آئی تھیں، گوونڈی، چیتاکیمپ ،ممبرا ،دھاراوی ،ملاڈ وغیرہ کے لوگوں نے اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے بڑی محنت کی تھی، نظامت کا فریضہ مشہور عالم دین حکیم محمود احمد خان دریابادی اور مولانا اطہر علی نے مشترکہ طور پر بحسن وخوبی انجام دیا، شرکاء میں مولانا صغیر احمد نظامی، فرید شیخ، مولانا اعجاز احمد کشمیری، مفتی محمد احمد قاسمی، مولانا غفران ساجد قاسمی ،مولانا خان افسر قاسمی، حکیم اشرف خان وغیرہ کا نام قابل ذکر ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker