ہندوستان

شاہین باغ: جمہوری ملک اظہارِ رائے کی آزادی سے ہی چلتا ہے :سپریم کورٹ

شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون اور قومی شہری رجسٹر کے خلاف پچھلے دو ماہ سے زائد مدت سے احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔

نئی دہلی،  17 فروری (بصیرت نیوز سروس /ایجنسی) شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دھرنے پر بیٹھے احتجاجیوں کو ہٹانے کی عرضیوں پر سپریم کورٹ میں آج سماعت شروع ہو گئی ہے۔ کورٹ نے دوسرے فریق کو سننے کے دوران کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ احتجاج نہیں کیا جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ احتجاج کہاں ہونا چاہئے؟ ہر کوئی سڑک پر اتر جائے گا تو کیا ہو گا؟
سپریم کورٹ نے کہا’ جمہوریت لوگوں کے اظہار رائے کی آزادی سے ہی چلتی ہے، لیکن اس کی ایک حد ہے۔ اگر سبھی سڑک بند کرنے لگیں تو پریشانی کھڑی ہو جائے گی۔ آپ دلی کو جانتے ہیں لیکن دلی کے ٹریفک کو نہیں۔ ٹریفک بند نہیں ہونا چاہئے‘۔ سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں سنجے ہیگڑے کو مظاہرین کو منانے کی ذمہ داری دی ہے۔ ساتھ ہی دلی پولیس کمشنر کو اس معاملہ میں حلف نامہ دینے کو کہا ہے۔

واضح رہے کہ شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون اور قومی شہری رجسٹر کے خلاف پچھلے دو ماہ سے زائد مدت سے احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ اس کی وجہ سے روڈ 13اے بند ہے۔ یہ روڈ دہلی اور نوئیڈا کو جوڑتا ہے۔ سڑک بند ہونے کی وجہ سے نوئیڈا اور دہلی کے درمیان متبادل روڈ پر سفر کرنے والوں کو بھاری ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker