مضامین ومقالات

سورہ یوسف کے تناظر میں ہندی مسلمان !

 

 مولانا فیاض احمد صدیقی رحیمی

 انعام وہار سبھاپور دہلی این سی آر

ہم اور آپ جس ماحول اور جس سرزمین میں رہتے ہیں اسمیں ہمارے لۓ مسائل بے شمار ہیں، لیکن اصل مسئلہ اور تمام مسئلوں کا منبع و سرچشمہ یہ ہیکہ برادران وطن بالکل جائز اور قانونی حقوق اپنے ہم وطنوں کو دینے کیلئے تیار نہیں، اس اعتبار سے سورہ یوسف کے مطالعہ کے درمیان ایک طالب علم کو برادران وطن اور برادران یوسف کے درمیان ایک گونہ مماثلت نظر آجائے تو اس میں تعجب کی بات نہیں، برادران یوسف اکثریت میں تھے اور اپنے ملک میں برادران وطن بھی اکثریت میں ہیں، اس ملک میں اسی طرح مسلمان معتوب و محسود ہیں جس طرح حضرت یوسف کے خلاف ان کے تمام بھائی حسد میں جل بھن رہے تھے، برادران وطن ان کے جان و مال کے دشمن اسی طرح ہیں جس طرح برادران یوسف حضرت یوسف کے جانی دشمن تھے، تعلیم اور اقتصادیات کی پسماندگی کے نہ جانے کتنے اندھے کنویں ہیں جن میں مسلمانوں کو ڈالا گیا، اندھیرا ہی اندھیرا ہے، بس چہ باید کرد۔ کا سوال ہر اس شخص کی زبان پر ہے جو دل میں ملت کا درد رکھتا ہو۔ اس سورہ کے مطالعہ کے دوران ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سورت مسلمانوں سے کچھ کہنا چاہتی ہے۔

یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی جہاں اسلام قبول کرنے والوں کو طرح طرح کی اذیتیں دی جارہی تھیں، مکہ میں یہ سورت اس لۓ نازل ہوئی کہ حضرت یوسف علیہ السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سرگزشت حیات میں قدرے مماثلت ہے، حضرت یوسف اپنے بھائیوں کی آتش انتقام میں جھونکا گیا ان کے قتل کی سازشیں کی گئیں، اندھے کنویں میں ڈال دیا گیا، چھوٹی عمر میں ہی والدہ کا انتقال ہو گیا، بازار مصر میں غلام بنا کر بیچا گیا حالانکہ آپ آزاد تھے اور پیغمبر کے بیٹے تھے، آپ کی آغوش محبت چھوٹ گئی، وطن چھوٹ گیا، کئ سال جیل میں رہنا پڑا، آخر کار کیا ہوا؟ قدرت کے غیر مرئی ہاتھو نے ایک بادیہ نشین ایک فقیر بے نوا،ایک غریب الدیار کو عزت و اقتدار کے بلند ترین منصب پر فائز کیا۔

یہ سورہ زبان حال سے کفار مکہ کو مخاطب کر رہی ہے اور اپنا یہ پیغام سناتی ہے کہ جس طرح برادران یوسف کا کید و حسد کام نہ آیا اسی طرح ان کا کید و حسد بھی ناکام ہو کر رہ جائے گا، اور اہل ایمان اپنی ایمانی قوت اپنے کردار کی جگمگاہٹ کے ذریعہ عزت و اقتدار کے منصب پر اسی طرح فائز المرام ہو نگے جس حضرت یوسف اپنے تقوی اور صبر کے ذریعہ منصب حکمرانی اور فرمانروائی تک پہنچنے،

اس سورت میں حضرت یوسف کی آزمائشوں کا تذکرہ اور ان تمام آزمائشوں میں آپ کے ڈٹے رہنے کا تذکرہ اور آپ کے عزم و ثبات، بلند ہمتی و جوانمردی، تقوی وپارسائ، خلوص و للہیت کا تذکرہ بڑے دلنشین انداز میں کیا گیا ہے، آغاز ہی سے حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی گوناگوں مراحل سے گزری، عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ آزمائشوں میں بھی اضافہ ہوتا رہا، قدم قدم مشکلات کا سامنا تھا کبھی کنویں میں ڈالا گیا تو کبھی غلام بنا کر بیچا گیا کبھی جیل کی صعوبتوں جھیلنی پڑیں تو کبھی زلیخا کے نفسانی خواہشات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، بظاہر یہ مشکلات اور آزمائشیں کہ دنیا اور لکھ دینا بہت آسان ہے،لیکن اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جو ان سے گزرا ہو، جب عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنی طرف مائل کرنا اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کیلئے ایڑی چوٹی کا زور صرف کردیا تمام اسباب کے مہیا ہونے کے باوجود حضرت یوسف علیہ السلام کا ان کے خلاف ڈٹے رہنا اور اپنے نفس کو قابو میں کرلینا کوئ آسان آزمائش نہیں تھی اور اس پر مستزاد یہ کہ اس وجہ سے زنداں میں ڈال دیا جانا کسی بھی انسان کیلئے قیامت سے کم نہیں ہے ، یہ سورت ہمارے لئے حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی کا نمونہ پیش کرتی ہے کہ صرف اسباب کا ہونا اور عیش و عشرت کا ہونا کامیابی کی دلیل نہیں ہے بلکہ کامیابی یہ ہے کہ مشکلات کا سامنا کیا جائے اور بیجا حرکتوں سے نفس کو پاک و صاف رکھا جائے حضرت یوسف علیہ السلام نے ان تمام مشکلات کا سامنا کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کی حکمرانی سونپ دی جتنی بڑی آزمائشیں ہوتی ہیں انعام بھی اتنا بڑا ہوتا ہے ہم مسلمان اس ملک میں اقلیت میں ہیں اور جیسا کہ واضح ہے کہ ہر طرف سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے پریشانیوں نے آدبوچا ہے، اگر ہم ان تمام چیزوں کو صبر و استقامت کے ساتھ جھیل لیں اور ساتھ ساتھ اپنے نفس کو پاک صاف رکھیں تو ہمارے لئے بھی وہی انعام ہے تقوی ہی سے انسان ترقی کے اوج ثریا تک پہنچتا ہے، یوسف علیہ السلام کی زندگی صبر و استقامت کے ساتھ ساتھ تقوی سے بھی مزین تھی اس لئے ہمیں بھی اس سورت کے بیشتر آیتوں میں تقوی کی تعلیم دی گئی ہے ، اس سورت میں ہمآرے لئے خصوصیت کے ساتھ تقوی کی تعلیم دی گئی ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا۔ انہ من  یتق ویصبر الی آخرہ۔۔ یہ آیت دراصل اوج اقبال کے خزانہ تک پہنچنے کی شاہ کلید ہے، انفرادی زندگی میں جو لوگ اپنے اندر امانت و دیانت داری کا وصف پیدا کر لیتے ہیں ان کو انفرادی کامیابی مل جاتی ہے، لیکن یہ خصوصیات اگر پوری جماعت اور ملت کی شناخت بن جائیں تو دوسرے تمام گروہوں کے مقابلہ میں اس کو نمایاں کامیابی حاصل ہو جاتی ہے، راستہ کی تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں گی، پریشانیوں کے بادل چھٹ جائیں گے، اور االلہ تعالٰیٰ اپنی وسیع تر مصلحت اور علم کی بنا پر کسی فرد اور جماعت کو فوری طور پر دنیوی سرخروئی نہیں عطا کرے گا، تو آخرت میں سرخروئی اور کامیابی کا انعام مل ہی جائے گا، لیکن اللہ تعالیٰ دنیوی زندگی میں بھی تقوی اور صبر کے امتحان میں جو ہر انسان کی زندگی میں پیش آتے ہیں مسلسل امتیاز کے ساتھ کامیاب ہو نے والوں کو محروم اور بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا، اگر تقوی اور صبر پوری ملت کا وصف بن جائے تو ممکن نہیں کہ لوگ دیدہ و دل اس کی راہ میں فرش نہ کریں، ممکن ہے کوئی شخص جو سہولت پسند ہو یہ کہے کہ تقوی اور صبر کی شرط بہت مشکل ہے اور اس آزمائشوں میں کامیاب ہونا آسان نہیں ہے۔

اس لیۓ عزت و شوکت کی آرزو نہیں کرنی چاہیے، لیکن اس شرط کو پورا کرنا ہر حال میں ضروری ہے، کیوں کہ صرف اس دنیا کو نہیں بلکہ آخرت کی کامیابی بھی آس میں موقوف ہے۔

اب ہندوستان میں جو لوگ مسلمانوں کی رفاہ و فلاح، خوشحالی و خوش اقبالی، ترقی اور کامیابی کیلئے فکر مند ہیں ان کو تمام ضروری مسائل کے اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ تقوی اور صبر کی صفات کو عام کرنے اور خواص و عوام کو ان پر جمانے اور ان کی اہمیت کو دل میں جمانے کیلئے بھی کو شاں ھونا چاہئے، کیو کہ ساری تدابیر اختیار کر لی گئیں اور تقوی و صبر کی صفات نہ پیدا ہو سکیں تو کامیابی محال ہے، تقوی نام ہے اس بات کا کہ اللہ کا خوف اور استحضار آخرت ہر وقت رہے، یہ کیفیت انسان کو زیادہ ذمہ دار بناۓ گی، اس کے کاموں کے انجام دہی میں مستعد اور چاق و چوبند کریگی، اور اسے کرپشن اور اخلاقی گراوٹ میں مبتلا ہونے سے بچائے گی، اور صبر و نیکی کے راستہ پر مسلسل چلتے رہنے اور حق و صداقت پر پورے طور پر جم جانے کا نام ہے، کبھی عیش و عشرت کی تمنائیں، آور کبھی نفسانی خواہشات صداقت کے راستہ سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں، کبھی حکومت کا دباؤ بھی انسان کو راستہ سے ہٹاتا ہے، آزمائشوں کے ان خاردار راستوں سے انسان کو پوری زندگی گزرنا ہوتا ہے، جب انسان صبح اٹھے اور نماز پڑھنے کیلئے لذت خواب سحر کا مقابلہ نہ کرسکے تو سمجھنا چاہیے کہ وہ صبراور تقوی کے امتحان میں فیل ہو گیا، انسان اگر اجرت پوری وصول کرے لیکن فرض منصبی کو ادا کرنے میں تساہلی یا تغافل کا شکار ہو جاۓ تو گویا وہ صبر کےامتحان میں فیل ہوگیا اور مغربی تہذیب کے پھیلاؤ اور اثرات کی وجہ سے زمانہ کی آنکھ میں حیا باقی نہیں رہی، فتنے قدم قدم ہیں، ہر طرف نغموں کے زیرو بم ہیں یا زلفوں کے پیچ و خم، اگر انسان ان فتنوں کا مقابلہ نہ کرسکے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ صبر اور تقوی کے امتحان میں ناکام ہوگیا۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker