ہندوستان

یو پی میں پس زنداں 200 کشمیریوں کو کیسے بھلایا جاسکتا ہے: نائلہ علی خان

سری نگر، نئی دہلی:1 2فروری (بی این ایس)
معروف مصنفہ ڈاکٹر نائلہ علی خان نے ملک کی مختلف ریاستوں کے جیلوں میں قید2 سو کشمیری نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں سے بیشتر اپنے کنبوں کے تنہا کفیل تھے۔ انہوں نے کہا کہ مقید نوجوانوں کے افراد خانہ کے پاس اپنے لخت جگر کی ملاقات کے لئے بیرون وادی سفر کرنے کے لئے بھی پیسے تک نہیں ہے۔نائلہ علی خان جموں وکشمیر کے قد آور سیاسی لیڈر مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے خانوادے کی چشم و چراغ ہیں۔ اوکلاہوما یونیورسٹی امریکہ جیسی عالمی شہرت یافتہ دانش گاہوں میں درس و تدریس کے فرائض انجام دینے کے علاوہ انہوں نے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں۔ مصنفہ نے اپنے ایک فیس بک پوسٹ میں کہا کہ میں جموں کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ، سابق قانون سازوں اور ایک سابق آئی اے ایس افسر کی پی ایس اے کے تحت حراست کی سخت مذمت کرتی ہوں تاہم میں ان 200 کشمیری نوجوانوں، جو پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت بند ہیں، کو بھی نہیں بھول سکتی ہوں جو وادی کے باہر جیلوں میں مقید ہیں۔بیرون وادی کی جیلوں میں قید دو سو کشمیری نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ کی حالت زار پر اظہار افسوس کرتے ہوئے نائلہ نے کہا کہ:’ان قید نوجوانوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے کنبوں کے واحد کفیل ہیں، ان کے اہل خانہ انتہائی کسمپرسی کی حالت میں ہیں، ان کے پاس یوپی جہاں ان کے بچے جیلوں میں ہیں، جیسی ریاستوں کا سفر کرنے کے لئے وسائل اور سفری اخراجات سے بھی محروم ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ (مقید کشمیریوں کے اہل خانہ) اپنے عزیزوں کے نامعلوم مستقبل کے بارے میں فکر اور تذبذب میں ہیں کہ آخر ان کے مستقبل کیا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق وادی کے باہر جیلوں میں مقید کئی نوجوانوں کے اہل خانہ اپنے عزیزوں کی ملاقات کو جانے کے لئے جہاں وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوئے ہیں وہیں کئی محبوس نوجوانوں کے والدین مختلف نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوئے ہیں۔ محبوس نوجوانوں کے والدین کا کہنا ہے کہ اپنے لخت ہائے جگر کی تلاش و انتظار میں ہماری تمام متاع حیات لٹ گئی اب صحت ہے نہ پیسہ ہے کہ دور دراز ریاستوں کا سفر کرکے ان کے ساتھ ملاقی ہوسکیں۔قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر انتظامیہ نے حال ہی میں جموں وکشمیر کے دو سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا بعد ازاں سابق آئی اے ایس ٹاپر اور جموں وکشمیر پیپلز موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر شاہ فیصل پر بھی پی ایس اے عائد کیا گیا، اب تک مجموعی طور پر نو سیاسی لیڈروں پر پی ایس اے عائد کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سال گزشتہ کے پانچ اگست کے بعد کئی نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جو ملک کی مختلف ریاستوں کے جیلوں میں قید ہیں۔

Tags
Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker