بچہ مزدوری: ایک اسلامی و سماجی مسئلہ

 

 

✒️محمد جمیل اختر جلیلی ندوی

ھدی چلڈرنس اکیڈمی، بلیاپور، دھنباد (جھارکھنڈ)

رابطہ نمبر: 8292017888

________________________

بچے کسی بھی قوم کا سرمایۂ حیات، مستقبل کے معمار اور انسانی تہذیب کے تسلسل کا بنیادی ذریعہ ہوتے ہیں، ان کے چہروں کی معصومیت، ان کے خوابوں کی پاکیزگی اور ان کی صلاحیتوں کی نشوونما ہی کسی معاشرے کی ترقی اور خوش حالی کی ضامن ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ جدید دنیا میں (حقوقِ اطفال) کو بنیادی انسانی حقوق کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

اسلام نے آج سے چودہ سو سال قبل بچوں کے حقوق کا ایسا جامع منشور پیش کیا، جس کی مثال انسانی تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے، اسلام بچوں کو محض خاندان کا فرد نہیں؛ بل کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک مقدس امانت سمجھتا ہے، جس کی تعلیم، تربیت، حفاظت اور فلاح کی ذمہ داری والدین، معاشرے اور ریاست سب پر عائد ہوتی ہے۔

افسوس کہ آج دنیا کے مختلف حصوں میں لاکھوں بچے تعلیم گاہوں کی بجائے کارخانوں، ہوٹلوں، ورکشاپوں، کھیتوں، بھٹوں اور بازاروں میں مشقت کرتے نظر آتے ہیں، ان سے ان کا بچپن، تعلیم اور ذہنی نشوونما چھین لی جاتی ہے، اسلام اس طرزِ عمل کو ظلم، ناانصافی اور انسانی وقار کے منافی قرار دیتا ہے۔

*اسلام میں بچوں کا مقام اور ان کے بنیادی حقوق*

قرآن کریم بچوں کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے:الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا(الکہف: 46)

’”مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زینت ہیں”۔

اسی طرح فرمایا:إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ(التغابن: 15)

"تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش ہیں”۔

اس لیے اولاد کے حقوق کی ادائیگی محض سماجی ذمہ داری نہیں؛ بل کہ ایک دینی فریضہ بھی ہے۔

اسلام نے بچوں کو متعدد بنیادی حقوق عطا کیے ہیں:

*1-حقِ حیات (Right to Life)*

دورِ جاہلیت میں غربت یا معاشرتی بدنامی کے خوف سے بچوں کو قتل کر دیا جاتا تھا۔ اسلام نے اس سفاک رسم کا خاتمہ کرتے ہوئے فرمایا:وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ(الأنعام: 151)

"اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی”۔

یہ آیت اس حقیقت کی طرف بھی رہنمائی کرتی ہے کہ معاشی مشکلات کی بنا پر بچوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرنا درست نہیں۔

*2-حقِ تعلیم و تربیت (Right to Education)*

تعلیم ہر بچے کی بنیادی ضرورت ہے، اسلام نے والدین کو اولاد کی دینی، اخلاقی اور فکری تربیت کا ذمہ دار قرار دیا ہے،اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا(التحریم: 6)

"اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ”۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر: 2554،صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1829)

’”تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا”۔

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت والدین کی شرعی ذمہ داری ہے۔

*3-حقِ محبت و شفقت (Right to Care and Compassion)*

رسول اکرم ﷺ بچوں کے ساتھ انتہائی شفقت کا معاملہ فرماتے تھے۔

حضرت انسؓ فرماتے ہیں:

مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ(صحیح ابن حبان، حدیث نمبر: 6950)

"میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ اپنے اہل و عیال پر رحم کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا”۔

ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا:مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ(مجمع الزوائد: 10/ 196)”جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا”۔

لہٰذا بچوں کے ساتھ سختی، تشدد (Child Abuse) اور استحصال (Exploitation) اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔

*مزدور اطفال (Child Labor) کیا ہے؟*

بچوں سے ایسی مشقت یا ملازمت لینا، جو ان کی تعلیم، صحت، ذہنی نشوونما اور فطری بچپن کو متاثر کرے، جدید اصطلاح میں Child Labor کہلاتا ہے۔

اقوامِ متحدہ (United Nations) اور عالمی ادارۂ محنت (International Labour Organization – ILO) بھی اس کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔

اسلام اگرچہ جائز اور باعزت محنت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے؛ لیکن کمسن بچوں کو ایسی مشقت میں جھونک دینا، جو ان کی جسمانی یا ذہنی نشوونما کو نقصان پہنچائے، ظلم اور ناانصافی کے زمرے میں آتا ہے۔

*مزدور اطفال کے اہم اسباب*

*1- غربت (Poverty)*

غربت بچوں کو مزدوری پر مجبور کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے، بہت سے والدین مالی مجبوریوں کے باعث بچوں کو تعلیم کی بجائے کام پر لگا دیتے ہیں۔

*2-جہالت اور تعلیمی پسماندگی*

جب والدین تعلیم کی اہمیت سے ناواقف ہوں تو بچے سب سے پہلے تعلیم سے محروم ہوتے ہیں۔

*3-سماجی ناانصافی (Social Injustice)*

دولت کی غیر مساوی تقسیم، بے روزگاری اور معاشی استحصال بھی مزدور اطفال کے فروغ کا سبب بنتے ہیں۔

*4- یتیمی اور بے سہارا پن*

سرپرست کے فقدان کی وجہ سے بہت سے بچے معاشی اور سماجی استحصال کا شکار ہو جاتے ہیں۔

*اسلام اور مزدور اطفال کی ممانعت*

اسلام ہر قسم کے ظلم کو حرام قرار دیتا ہے،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ(مستدرک حاکم، حدیث نمبر: 2345)”نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ دوسروں کو نقصان پہنچاؤ”۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ(الأعراف: 85)

’”لوگوں کے حقوق میں کمی نہ کرو”۔

جب بچوں کی تعلیم، صحت اور ذہنی نشوونما کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو یہ ان کے بنیادی حقوق میں کمی اور کھلا ظلم ہے۔

تاہم یہاں ایک باریک اور لطیف فرق کو سمجھنا بھی فکری و شرعی طور پر انتہائی ضروری ہے کہ اسلام جہاں معصوم بچوں کے معاشی استحصال اور ان پر سنگین جسمانی مشقت لادنے کی سخت ممانعت کرتا ہے، وہاں بچوں کو کاہلی اور تن آسانی سے بچانے کے لیے ان کی ہلکی پھلکی تربیت اور ہنر مندی (حرفہ) سکھانے کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے، اگر والدین یا سرپرست اپنے بچوں کی شخصیت سازی، خود اعتمادی اور مستقبل میں انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے اپنی نگرانی میں کوئی ہنر سکھاتے ہیں -جس سے ان کی تعلیم، صحت اور معصومیت متاثر نہ ہو- تو یہ "بچہ مزدوری” نہیں؛ بل کہ "صالح تربیت” ہے، افراط و تفریط سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ‘ظالمانہ معاشی استحصال’ اور ‘شخصیت ساز ہنر مندی’ کے مابین اس واضح لکیر کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں۔

*یتیم بچوں کی کفالت: اسلامی فلاحی نظام کا اہم ستون*

اسلام نے یتیموں کی کفالت کو عظیم عبادت قرار دیا ہے،اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ(الضحیٰ: 9)”پس یتیم پر سختی نہ کریں”۔

اور فرمایا:وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ(الأنعام: 152)”یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر بہترین طریقے سے”۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا(سنن الترمذی، حد یث نمبر:1918)”میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے”۔

آپ ﷺ نے اپنی شہادت اور درمیانی انگلی کو ملا کر اس قربت کو واضح فرمایا۔

*عصرِ حاضر میں ہماری ذمہ داریاں*

• تعلیم کو عام کرنا(Universal Education):ہر بچے تک معیاری تعلیم (Quality Education) پہنچانا معاشرے اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

• زکوٰۃ اور صدقات کا مؤثر نظام:اگر زکوٰۃ، صدقات اور خیراتی اداروں (Charitable Organizations) کو منظم کیا جائے تو ہزاروں غریب بچوں کو تعلیم اور کفالت فراہم کی جا سکتی ہے۔

• بچوں کے تحفظ(Child Protection)کا نظام:معاشرے کو بچوں پر تشدد، استحصال اور جبری مشقت کے خلاف حساس بنانا ضروری ہے۔

• کارپوریٹ سماجی ذمہ داری(Corporate Social Responsibility – CSR):تجارتی اداروں اور صنعت کاروں کو چاہیے کہ بچوں سے مشقت لینے کے بجائے ان کی تعلیم اور فلاح کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں۔

*ریاستی اداروں کا محاسبہ*

معاشرتی سطح پر زکوٰۃ و صدقات کے نظام کو فعال کرنے اور کارپوریٹ سیکٹر کو متوجہ کرنے کے ساتھ ساتھ، یہ خود ریاست اور حکومتی اداروں کی بھی اولین آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے، دنیا بھر کے دساتیر کی طرح بھارتی آئین کا آرٹیکل 21A اور ‘رائٹ ٹو ایجوکیشن’ (RTE) قانون ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے؛ لیکن زمین پر ان قوانین کا ناقص نفاذ اور حکومتی سطح پر اسکولوں کی خستہ حالی اس ناسور کو مٹانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، جب تک ریاستی ادارے اپنی مجرمانہ غفلت کا خاتمہ کر کے ان قوانین کو سختی سے نافذ نہیں کرتے اور ہر غریب بچے کے لیے اسکول کے دروازے حقیقی معنوں میں نہیں کھولتے، تب تک بچہ مزدوری کے خلاف کوئی بھی مہم مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکتی۔

*اختتامیہ*

اسلام ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا چاہتا ہے، جہاں ہر بچہ محفوظ ہو، تعلیم یافتہ ہو، باوقار زندگی گزارے اور اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لا سکے، بچوں کے ہاتھوں میں اوزار نہیں؛ بل کہ قلم، کتاب اور علم کی روشنی ہونی چاہیے، اگر ہم اسلامی تعلیمات، سماجی انصاف (Social Justice)، فلاحی نظام (Welfare System) اور انسانی ہمدردی کو فروغ دیں تو بچہ مزدوری کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو سکتا ہے۔

آئیے اس عزم کے ساتھ آگے بڑھیں کہ ہم اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ہر محروم، یتیم اور نادار بچے کے مستقبل کو روشن بنانے میں ممکن حد تک اپنا کردار ادا کریں گے، یہی اسلامی تعلیمات کا تقاضا، انسانی ہمدردی کا تقاضا اور ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔

اللّٰہم وفقنا لأداء حقوق أولادنا، وأعنا على كفالة الأيتام والمساكين، واجعل أبناءنا قرة أعين لنا في الدنيا والآخرة. آمین!

Comments are closed.