فیض احمد قتل کیس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہوں، اصل سازش کا پردہ فاش کرے پولیس: نظرعالم
دربھنگہ: جنتادل (یونائیٹڈ) کے رکن اور آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظرعالم نے اتوار کے روز مرحوم فیض احمد کے اہلِ خانہ سے ملاقات کرکے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے سوگوار خاندان کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دکھ کی گھڑی میں پورا سماج ان کے ساتھ کھڑا ہے اور مجرموں کو ہرحال میں سزا ملنی چاہیے۔
نظرعالم نے کہا کہ پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری قابلِ ستائش ہے، لیکن صرف گرفتاری سے اس سنگین قتل کی پوری حقیقت سامنے نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر فیض احمد کا ملزم کے ساتھ کوئی سنگین تنازعہ نہیں تھا تو پھر اتنی بے رحمی کے ساتھ قتل کیوں کیا گیا، اس کی گہرائی سے تحقیقات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی لین دین کا معاملہ سامنے آ رہا ہے تو اس کی بھی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ قتل کی اصل وجہ کیا تھی اور آیا اس کے پیچھے کسی دوسرے شخص یا کسی بڑی سازش کا ہاتھ تو نہیں تھا۔
نظرعالم نے مطالبہ کیا کہ پولیس ملزم کو ریمانڈ پر لے کر تفصیلی پوچھ گچھ کرے، اس کے موبائل فون، کال ڈیٹیل ریکارڈ (CDR) اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی سائنسی بنیادوں پر جانچ کرائے۔ ساتھ ہی واقعہ کے وقت موجود تمام متعلقہ افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جائے تاکہ اس قتل کی مکمل حقیقت سامنے آسکے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف اسی وقت ملے گا جب تحقیقات غیرجانبدارانہ، شفاف اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر مکمل کی جائیں گی، اور اگر کسی دوسرے شخص کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آتے ہیں تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اہلِ خانہ سے ملاقات کے بعد نظرعالم نے ڈی آئی جی، دربھنگہ زون اور ایس ایس پی، دربھنگہ کو ایک یادداشت (میمورنڈم) بھی پیش کی۔ اس یادداشت میں اس قتل کیس کی غیرجانبدارانہ اور سائنسی تحقیقات کو یقینی بنانے اور متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کے لیے سات اہم مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کے ہر پہلو کی باریک بینی سے تحقیقات کی جائیں، تمام ممکنہ سازش کرنے والوں کے کردار کی جانچ کی جائے اور جو بھی قصوروار پایا جائے اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
نظرعالم نے دربھنگہ پولیس انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد از جلد غیرجانبدارانہ تحقیقات مکمل کرکے اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں، تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور معاشرے میں قانون پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
Comments are closed.