کرئیر بنانے کے چکر میں آپ بھی خدا کو بھول گئے!

 

مدثر احمد قاسمی

اسسٹنٹ ایڈیٹر ایسٹرن کریسنٹ، ممبئی

 

آج نوجوانوں کا ایک طبقہ ایسا پروان چڑھ رہا ہے جو کیریئر بنانے کے جنون میں دینی ذمہ داریوں سے غافل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کی صبح کوچنگ سینٹر سے شروع ہوتی ہے اور رات موبائل، انٹرنیٹ یا مسابقتی امتحانات کی تیاری میں ختم ہو جاتی ہے، لیکن دن میں پانچ مرتبہ اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے کی فرصت نہیں ملتی۔ وہ زندگی کی دوڑ میں اتنے مصروف ہو گئے ہیں کہ انہیں اپنی روح کی آواز سنائی نہیں دیتی۔

 

حالانکہ بہتر مستقبل کے لیے فکرمند ان نوجوانوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ جب تک اللہ رب العزت نہ چاہیں، تب تک ان کی قسمت کا ستارہ چمک نہیں سکتا۔ دنیا کے تمام اسباب، تمام ڈگریاں، تمام سفارشیں اور تمام منصوبے اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں جب ان کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی مشیت شامل ہو۔ کتنے ہی لوگ اعلیٰ قابلیت رکھنے کے باوجود کامیابی سے محروم رہ جاتے ہیں اور کتنے ہی لوگ محدود وسائل کے باوجود غیر معمولی کامیابی حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ حقیقت اس بات کا اعلان ہے کہ اسباب ضروری ہیں لیکن مسبب الاسباب اللہ تعالیٰ ہے۔

 

یاد رکھیں!جو ہاتھ کتابوں کے ساتھ دعا کے لیے بھی اٹھتے ہیں اور جو پیشانیاں مطالعے کے ساتھ سجدوں سے بھی آشنا ہوتی ہیں، ان کے لیے کامیابی کے دروازے زیادہ کشادہ ہو جاتے ہیں۔

 

آج کل کیریئر کونسلنگ کے بڑے بڑے پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ ماہرین بھاری فیس لے کر نوجوانوں کو بہتر مستقبل، بہتر ملازمت، اعلیٰ تنخواہ اور کامیاب زندگی کے راستے دکھاتے ہیں۔ حالانکہ ایک ایسی کامیابی جس میں خدا کی ناراضی شامل ہو، درحقیقت ناکامی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کیریئر کونسلنگ کے ساتھ "کردار کونسلنگ” بھی ہو، تاکہ نوجوان صرف کامیاب پروفیشنل ہی نہیں بلکہ باکردار اور خدا شناس انسان بھی بن سکیں۔

 

کسی بھی معاشرے میں نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے افکار، ان کا کردار اور ان کی ترجیحات ہی مستقبل کے معاشرے کی شکل متعین کرتی ہیں۔ اگر نوجوان دینی شعور، اخلاقی اقدار اور روحانی وابستگی سے آراستہ ہوں گے تو معاشرہ بھی مضبوط، متوازن اور ترقی یافتہ ہوگا، لیکن اگر یہی طبقہ دین سے دور، اخلاق سے محروم اور صرف مادہ پرستی کا اسیر ہو جائے تو پوری قوم کمزور پڑ جائے گی۔

Comments are closed.