اسلامی سال کا آغاز ہجرت ہی سے کیوں؟

 

(مفتی) محمد دلشاد قاسمی دربھنگوی

ایم ایم ای آر سی

 

اسلام کے ابتدائی دور میں باقاعدہ تاریخ نویسی کا رواج نہیں تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے توجہ دلائی کہ سرکاری خطوط اور احکام پر تاریخ درج نہ ہونے کی وجہ سے انتظامی امور میں دشواری پیش آتی ہے۔

اس اہم تجویز پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اکابر صحابۂ کرام کی مجلسِ شوریٰ طلب فرمائی تاکہ مسلمانوں کے لیے ایک مستقل تقویم مقرر کی جائے۔

مجلسِ شوریٰ میں اس بات پر غور ہوا کہ اسلامی سال کا آغاز کس واقعے سے کیا جائے۔ بعض صحابۂ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کو نقطۂ آغاز بنانے کی رائے دی، بعض نے بعثتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو موزوں سمجھا، کچھ نے وصالِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے تقویم شروع کرنے کا مشورہ دیا، جبکہ ایک جماعت نے ہجرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلامی سال کی بنیاد قرار دینے کی تجویز پیش کی۔

غور و فکر کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ولادت اور بعثت کی تاریخوں میں اختلاف پایا جاتا ہے، اس لیے انہیں بنیاد بنانے سے اختلافات جنم لے سکتے ہیں۔ دوسری طرف وصالِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا سال امت کے لیے غم و اندوہ کی یاد تازہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس ہجرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسا عظیم الشان واقعہ ہے جس نے تاریخِ اسلام کا رخ بدل دیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب اسلام کو ایک مضبوط مرکز حاصل ہوا، مسلمانوں کو آزادی کے ساتھ عبادت اور دعوتِ دین کا موقع ملا، مسجدِ نبوی کی بنیاد رکھی گئی اور اسلامی معاشرے کی تشکیل کا آغاز ہوا۔ چنانچہ تمام صحابۂ کرام نے اتفاقِ رائے سے ہجرت کو اسلامی تقویم کا نقطۂ آغاز قرار دیا۔

بظاہر ہجرت کا واقعہ وطن چھوڑنے، مصائب برداشت کرنے اور بے سروسامانی کی داستان معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہی قربانی اسلام کی سربلندی کا پیش خیمہ بنی۔ ہجرت نے مسلمانوں کو وہ قوت، استحکام اور اجتماعی نظم عطا کیا جس کے نتیجے میں اسلام کی روشنی عرب سے نکل کر دنیا کے وسیع خطوں تک پھیل گئی۔ اسی لیے صحابۂ کرام نے فتحِ بدر، فتحِ مکہ یا دیگر عظیم فتوحات کے بجائے ہجرت کو ترجیح دی، کیونکہ یہ تمام کامیابیاں درحقیقت ہجرت ہی کے ثمرات تھیں۔

بعد ازاں یہ سوال بھی زیرِ بحث آیا کہ سال کا آغاز کس مہینے سے کیا جائے۔ بعض حضرات نے رجب، بعض نے رمضان اور بعض نے ربیع الاول کی تجویز دی؛ لیکن باہمی مشورے کے بعد محرم الحرام کو سال کا پہلا مہینہ قرار دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عرب میں قدیم زمانے سے محرم ہی سال کا آغاز سمجھا جاتا تھا اور حج کے بعد ایک نئے دور کے آغاز کی علامت بھی تھا۔

اس طرح سنِ ہجری کا قیام محض تاریخوں کے تعین کا انتظامی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک عظیم فکری اور دینی پیغام بھی تھا۔ اسلامی تقویم کا آغاز کسی بادشاہ کی پیدائش، کسی جنگی فتح یا کسی سیاسی کامیابی سے نہیں، بلکہ ایک ایسی قربانی سے کیا گیا جس میں اللہ اور اس کے دین کی خاطر وطن، مال اور آسائشوں کو چھوڑ دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سنِ ہجری مسلمانوں کو ہر سال یہ سبق دیتا ہے کہ عزت، کامیابی اور غلبہ قربانی، صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا کرنے سے حاصل ہوتے ہیں۔ ہجرت کا انتخاب درحقیقت اسلام کی روح، اس کے مزاج اور اس کے آفاقی پیغام کا بہترین ترجمان ہے۔

Comments are closed.