یہ کیسا عدل ھے جس میں عبادت بھی خطا ٹھہری ——
( راجستھان کے متاثرہ علاقوں سے ایک چشم دید مشاھداتی رپورٹ )
مفتی محمد عفان منصورپوری
شیخ الحدیث و صدرالمدرسین مدرسہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد ، امروھہ
5 محرم الحرام 1448
21 جون 2026
راجستھان کے سرحدی اضلاع ، خصوصاً ہند و پاک بارڈر سے متصل علاقوں میں بڑی تعداد میں مسلمان آباد ہیں ، یہ وسیع صحرائی خطہ ہے جہاں بیشتر زمین بنجر اور ناقابلِ کاشت ہے۔ بارش کے موسم میں محدود پیمانے پر باجرے کی کاشت ہو جاتی ہے، جبکہ عمومی طور پر لوگوں کا ذریعہ معاش مویشی پروری ہے۔ پانی کی شدید قلت کے باعث جہاں کہیں پانی دستیاب ہو جاتا ہے، وہیں لوگ آباد ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے صحراؤں میں مختلف مقامات پر لوگوں نے کچے پکے مکانات تعمیر کرکے سکونت اختیار کر رکھی ہے، جانوروں کے باڑے بنائے ہوئے ہیں اور اپنی مذہبی عبادت گاہیں بھی تعمیر کر لی ہیں ۔ دہائیوں بلکہ نسلوں سے یہی ان کا رہن سہن اور بود و باش کا انداز رہا ہے ، ان علاقوں میں غیر مسلم برادری بھی آباد ہے جو باہمی اتفاق، بھائی چارے اور پرامن بقائے باہمی کے ساتھ زندگی گزارتی آئی ہے۔
انتہائی تشویشناک اور تکلیف دہ صورتحال یہ ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت نے ان علاقوں میں آباد لاکھوں مسلمانوں کو بے دخل کرنے کے لیے مبینہ طور پر ایک منظم منصوبہ تیار کیا ہے ، جسے بعض حلقے “آپریشن کلین” کے نام سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں گزشتہ ہفتے سے نہایت تیزی کے ساتھ مذہبی مقامات، خصوصاً مساجد، مدارس اور درگاہوں کو مسمار کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے۔ ماہرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق اگلے مرحلے میں مکانات اور آبادیوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور لوگوں کو علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
اس سے قبل بھی ہمیں ان علاقوں کا دورہ کرنے کا موقع ملا تھا، اب موجودہ سنگین صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے جمعیت علماء ہند کے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ دوبارہ وہاں جانے کا اتفاق ہوا ، (ھمارے ساتھ سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ جناب محمد طیب خان صاحب ، جمعیت علماء صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری صاحب اور مفتی محمد حسان ابراھیم صاحب شامل وفد تھے ) متاثرہ علاقوں کے افراد سے ملاقاتیں ہوئیں، ان کے حالات سنے گئے، اور زمینی حقائق کا قریب سے مشاہدہ کیا گیا۔ سراسر ناانصافی، جبر اور ظلم پر مبنی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے لوگ آبدیدہ ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی آنکھوں کے سامنے مساجد کو شہید کیا جا رہا ہے اور وہ بے بسی کے عالم میں کچھ کرنے سے قاصر ہیں۔
متاثرین نے بتایا کہ حکومتی اہلکار بھاری پولیس فورس کے ساتھ آتے ہیں، پورے علاقے کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیتے ہیں، لوگوں کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں دی جاتی، اور چند ہی لمحوں میں بلڈوزروں کے ذریعے مضبوط عمارتوں کی شکل میں موجود مساجد اور دیگر مذہبی مقامات کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ کئی مقامات پر نوٹس عمارت گرانے کے بعد دیے گئے، کئی جگہ نوٹس دینا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا، جبکہ بعض جگہ صرف دو چار گھنٹے قبل نوٹس دے کر قانونی تقاضے پورے کرنے کی رسمی کارروائی کی گئی۔
عام طور پر ان علاقوں کے لوگ نہایت سادہ مزاج، محنتی اور جفاکش ہیں۔ سخت موسمی حالات اور دشوار گزار زندگی کے باوجود انہوں نے ہمیشہ صبر، محنت اور پرامن طرزِ زندگی اختیار کیا ہے۔ ماضی میں انہیں اس نوعیت کے اجتماعی ظلم اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت لوگوں میں شدید غم و غصہ کے ساتھ ساتھ خوف، دہشت اور غیر یقینی کیفیت بھی پائی جا رہی ہے۔
یہ صورتحال صرف املاک یا عمارتوں کے انہدام کا مسئلہ نہیں، بلکہ بنیادی انسانی حقوق، مذہبی آزادی، شہری وقار اور آئینی تحفظات کے خلاف ایک سنگین سوال ہے۔ ہندوستان کا آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق، مذہبی آزادی اور جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر کسی مخصوص طبقے کو نشانہ بنا کر اس کے مذہبی مراکز اور رہائشی ڈھانچے مسمار کیے جا رہے ہیں تو یہ نہ صرف آئینی روح کے منافی ہے بلکہ انصاف کے بنیادی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔
مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ اس قسم کی کارروائیاں ملک کی سماجی ہم آہنگی، باہمی اعتماد اور قومی یکجہتی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ایسے اقدامات معاشرے میں عدم اعتماد، خوف اور تقسیم کو بڑھاتے ہیں، جس کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
جمعیت علماء ہند کے خدام اپنی روایات کے مطابق سرگرم عمل ہیں۔ صدر جمعیت علماء ہند حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی دامت برکاتہم کی ہدایات کے مطابق صوبائی جمعیت کے ذمہ داران، مرکزی نائب صدر حضرت مولانا قاری محمد امین صاحب، صوبائی صدر حضرت مولانا حبیب اللہ صاحب، اور ناظم اعلیٰ مولانا عبد الواحد کھتری صاحب کی سرکردگی میں وکلاء کے پینل نے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی مکمل تیاری کر لی ہے۔ عدالت کھلتے ہی پٹیشن دائر کی جائے گی، ان شاء اللہ۔ امید ہے کہ قانونی سطح پر کچھ ریلیف حاصل ہوگا اور ان بے جا کارروائیوں پر روک لگ سکے گی۔ اس کے علاوہ حالات کے پیش نظر دیگر ضروری اقدامات بھی زیر غور ہیں۔
موجودہ وقت میں سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہاں کے مسلمانوں کی ہر سطح پر مؤثر پشت پناہی کی جائے تاکہ وہ خوف یا دباؤ کی وجہ سے حوصلہ نہ ہاریں اور اپنی زمین، اپنے گھروں اور اپنے حقوق سے دستبردار نہ ہوں۔ بظاہر شدت پسند طاقتیں دہشت اور خوف کا ماحول پیدا کرکے یہی چاہتی ہیں کہ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں۔
ملک بھر کے مسلمانوں، انصاف پسند غیر مسلم طبقات، انسانی حقوق کی تنظیموں، سماجی کارکنوں اور اہلِ دانش کو چاہیے کہ وہ ان کارروائیوں کے خلاف آواز بلند کریں اور ذمہ دارانِ حکومت سے فوری مطالبہ کریں کہ آئین اور جمہوری اقدار کے منافی ان اقدامات پر بعجلت ممکنہروک لگائی جائے۔
اسی طرح حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو بھی سنجیدگی کے ساتھ ان واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر بھرپور انداز میں یہ مسئلہ اٹھانا چاہیے۔ انصاف، قانون کی بالادستی اور جمہوری اقدار کے تقاضے یہی ہیں کہ ہر غیر منصفانہ کارروائی کی واضح الفاظ میں مذمت کی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کو بھی اس صورتحال کا منصفانہ جائزہ لینا چاہیے تاکہ متاثرہ طبقات کو قانونی و انسانی تحفظ فراہم ہو سکے۔
مسلمانوں سے ہماری اپیل ہے کہ نماز فجر میں قنوتِ نازلہ کا اہتمام کریں، استغفار، دعا اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کو اپنا معمول بنائیں۔ روزانہ گیارہ سو مرتبہ آیت کریمہ ( لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین )اور 41 مرتبہ سورۂ فیل کی تلاوت کا معمول اختیار کریں۔ اللہ تعالیٰ کے کلام میں بڑی تاثیر ہے۔ امیدِ کامل ہے کہ رب کریم اپنی خاص رحمت و عنایت فرمائیں گے، مسلمانوں کے مذہبی مقامات کا تحفظ ہوگا اور یہ سخت حالات ان شاء اللہ جلد ختم ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ مظلوموں کی مدد فرمائیں ، زیادتی کرنے والوں کی تدبیروں کو ناکام کردیں اور ملک میں عدل، انصاف، امن اور باہمی احترام کی فضا کو قائم و دائم رکھیں ۔
Comments are closed.