تعلیم: مظلوم قوموں کو انصاف تک پہنچانے کا واحد راستہ!

 

احساس نایاب شیموگہ۔۔۔

جسٹس تبسم خان کے حالیہ فیصلے نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ تعلیم صرف روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ انصاف، اختیار اور معاشرے کی سمت متعین کرنے کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔۔۔۔

ہماری قوم اکثر شکوہ کرتی ہے کہ ہمیں انصاف نہیں ملتا، ہمارے حقوق سلب کئے جارہے ہیں اور ہم پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں۔ مگر ہم نے کبھی سنجیدگی سے یہ سوچنے کی کوشش نہیں کی کہ آخر اس کی وجوہات کیا ہیں ؟؟؟

ہم کئی شعبوں میں نمائندگی سے محروم ہیں، اور اس کی سب سے بڑی وجہ تعلیم سے دوری ہے۔۔۔ ہم نے پولیس، عدلیہ، سول سروس، انتظامیہ اور دیگر بااثر شعبوں میں جانے کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں کیا۔۔۔ جس کے چلتے اکثریت میں ہونے کے باوجود دنیا کے سامنے ہم مظلوم بےبس بن کر رہ گئے۔۔۔

اکثر لڑکیوں کی تعلیم اسکول یا کالج کے ابتدائی مرحلے پر ہی روک دی گئی اور جلد شادی کو ان کا مقدر سمجھ لیا گیا۔ بہت سے لڑکوں نے اعلیٰ تعلیم کے بجائے بیرون ملک مزدوری یا چھوٹے موٹے روزگار کو ہی کامیابی کا معیار مان لیا۔۔۔

ہم یہ بھول گئے کہ تجارت اور ملازمت اپنی جگہ اہم تو ہیں، لیکن قوموں کی تقدیر صرف بازاروں میں نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، عدالتوں اور پالیسی ساز اداروں میں بھی لکھی جاتی ہے۔۔۔

دوسری جانب یہودیوں سے لے کر آر ایس ایس تک، ہر اُس گروہ یا نظریاتی تنظیم نے جو اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ تھی، تعلیم کو اہمیت دی۔ انہوں نے اپنے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی، انہیں اہم اداروں تک پہنچایا اور بڑے بڑے عہدوں پر اپنے نظریات رکھنے والے افراد کو بٹھایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پولیس سے لے کر عدلیہ، بیوروکریسی اور یہاں تک کہ الیکشن کمیشن تک، ان کی سوچ اور نظریات رکھنے والے افراد نمایاں نظر آتے ہیں۔۔۔

ایسے میں مسلمان کو اس کے حقوق یا انصاف ملنا کیسے ممکن تھا ؟؟؟

گزشتہ برسوں میں کئی نوجوان ہجومی تشدد کا شکار ہوئے، بے گناہ مارے گئے اور ان کے اہلِ خانہ انصاف کے لئے در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے۔۔۔

آج جب ایک مسلم خاتون جج نے ہجومی قتل کے مقدمے میں 14 مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے تو یہ صرف ایک عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ اس حقیقت کی یاددہانی بھی ہے کہ تعلیم یافتہ افراد جب اہم مناصب تک پہنچتے ہیں تو انصاف کے دروازے مضبوط ہوتے ہیں۔۔۔۔

سوچئے، اگر ہر شعبے میں ایسے مزید تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور باکردار افراد موجود ہوں تو ملک کا نظام کس قدر متوازن اور منصفانہ ہوسکتا ہے۔۔۔ تب شاید ظالم ظلم کرنے سے پہلے کئی بار سوچے گا، کیونکہ اسے یقین ہوگا کہ انصاف کی کرسی پر بیٹھا شخص اپنا فرض ادا کرنا جانتا ہے اور قانون ابھی زندہ ہے۔۔۔۔۔

Comments are closed.