عجیب معاشرہ ہے!جوانی میں ناجائز تعلقات پر خاموشی، مگر بڑھاپے میں جائز نکاح پر بھی مذاق ۔۔۔۔۔
احساس نایاب شیموگہ
ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال بصیرت آن لائن
کسی نے سچ کہا ہے۔۔۔
جوانی میں شادی جذبہ ہے، مگر بڑھاپے میں شادی رحمت ہے۔۔۔
لیکن عجیب منافقت ہے ہمارے سماج کی، اگر چالیس، پچاس یا ساٹھ سال کا شخص کسی ناجائز تعلق میں مبتلا ہو، کسی خفیہ دوستی یا ایکسٹرا میریٹل افیئر میں ہو، تو اکثر لوگ خاموش رہتے ہیں، آنکھیں بند کر لیتے ہیں، اور بعض اوقات اسے ذاتی معاملہ کہہ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔۔۔ اگر وہی شخص اللہ اور رسول ﷺ کے بتائے ہوئے پاکیزہ راستے یعنی نکاح کا انتخاب کرے، تو اس پر طنز کے تیر برسائے جاتے ہیں، مذاق اڑایا جاتا ہے، اور اسے خواہشات کا غلام ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔۔
کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جس انسان نے اپنی جوانی اولاد کی تعلیم، تربیت اور مستقبل کے لیے قربان کردی، جس نے اپنی خواہشات کو ذمہ داریوں کے نیچے دفن کردیا، جب وہ عمر کے اس موڑ پر پہنچتا ہے جہاں اولاد اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہوجاتی ہے، تو اس کے دل کی تنہائی کون محسوس کرتا ہے ؟؟؟
وہ باپ جس نے راتوں کی نیندیں قربان کیں، وہ ماں جس نے اپنی خوشیاں اولاد پر نچھاور کردیں، آج جب عمر ڈھل چکی ہے تو انہیں صرف سر پہ چھت، جسم پہ کپڑا، دو وقت کی روٹی اور دوائی نہیں چاہیے ہوتی، بلکہ ایک ایسا انسان بھی چاہیے ہوتا ہے جو ان کی بات سنے، ان کے احساسات سمجھے، ان کے دکھ درد میں شریک ہو اور ان کی خاموشیوں کا ساتھی بنے۔۔۔
انسان صرف جسم نہیں، ایک دل بھی رکھتا ہے۔ اور دل کی ضرورت عمر کے کسی حصے میں ختم نہیں ہوتی۔۔۔ بڑھاپے میں نکاح صرف جسمانی ضرورت کا نام نہیں، بلکہ ایک ہمراز، ہمدرد، ایک ساتھی، ایک جذباتی اور اخلاقی سہارا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ کوئی ایسا جو زندگی کے آخری سفر میں ہاتھ تھام کر ساتھ چل سکے، تھک جانے پر کچھ پل پاس بیٹھ سکے۔۔۔
افسوس یہ ہے کہ ہم نے جائز نکاح کو موضوعِ مذاق اور ناجائز تعلقات کو معمول بنا لیا ہے۔
حالانکہ عزت نکاح میں ہے، سکون نکاح میں ہے، پاکیزگی نکاح میں ہے اور معاشرے کی حفاظت بھی نکاح ہی میں ہے۔۔۔
جس معاشرے میں حلال رشتوں پر طنز اور حرام رشتوں پر خاموشی ہو، وہاں مسئلہ نکاح نہیں بلکہ سوچ کی خرابی اور اقدار کی الٹ پھیر ہے۔۔۔
آج ہمیں اس سچائی کو تسلیم کرتے ہوئے، اس پیغام کو عام کرنا ہوگا کہ نکاح گناہ نہیں ہے
تنہائی کا باعزت علاج ہے”۔۔۔”
اپنے معاشرے کی بیوہ، طلاق یافتہ اور بے سہارا خواتین کو ترس، ہمدردی یا وقتی سہاروں کا محتاج نہ بنائیں، بلکہ انہیں نکاح کے ذریعے عزت، تحفظ اور باوقار زندگی دینے کی سوچ کو فروغ دیں۔۔۔
سہارے کے نام پر انہیں استعمال کی چیز نہ بنائیں، ان کی مجبوریوں، تنہائی یا معاشی حالات سے فائدہ نہ اٹھائیں۔۔۔
یاد رکھیں، عورت کسی کی تفریح، ضرورت یا وقتی سہولت کا نام نہیں، بلکہ عزت و احترام کی مستحق ایک مکمل انسان ہے۔۔۔
اگر کسی مرد کو بڑھاپے میں ایک ساتھی، ایک ہمراز اور ایک سہارا چاہیے، تو بہت سی ایسی خواتین بھی ہیں جو تنہائی، معاشی مشکلات اور سماجی بےحسی کا شکار ہیں۔۔۔
نکاح دو تنہائیوں کو سکون دیتا ہے، دو ٹوٹے دلوں کو سہارا دیتا ہے اور دو انسانوں کو عزت کے ساتھ جینے کا حق دیتا ہے۔۔۔
اس لئے بڑھاپے میں کئے گئے نکاح کو مذاق نہ بنائیے، بلکہ اسے عام کیجیے۔۔۔
بیواؤں کو بوجھ نہ سمجھیے، انہیں عزت دیجیے، طلاق یافتہ خواتین کو طعنے نہ دیجیے، انہیں نئی زندگی کا حق دیجیے۔۔۔
کیونکہ جس معاشرے میں حلال رشتوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، وہاں عزت بھی محفوظ رہتی ہے، خاندان بھی محفوظ رہتے ہیں اور انسانیت بھی زندہ رہتی ہے۔۔۔
اور یاد رکھیے !
آج اگر آپ کسی کی ماں، بہن یا بیٹی کے جذبات کے ساتھ کھیل رہے ہیں، سہارے، محبت یا ہمدردی کے نام پر اس کا استعمال کر رہے ہیں، اس کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، تو ایک لمحے کے لئے رک کر سوچئے۔۔۔
کل یہی درد آپ کے گھر کا دروازہ بھی کھٹکھٹا سکتا ہے۔۔۔
آج جس عورت کو آپ کمزور سمجھ کر استعمال کر رہے ہیں، کل اسی جگہ آپ کی اپنی ماں، بہن، بیٹی بھی ہوسکتی ہے، اور آپ کی جگہ کوئی دوسرا شخص ہوگا۔۔۔
اس لئے رشتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرئیے، عورت کی عزت کیجیے، اور اس کی مجبوری کو اپنی خواہشات کا ذریعہ مت بنائیے۔۔۔
کیونکہ یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے، یہاں انسان جو بیج بوتا ہے، دیر سے ہی سہی مگر ایک دن وہی فصل کاٹتا ضرور ہے۔۔۔
اس لیے سہارے کے نام پر استحصال نہیں، نکاح کے ذریعے عزت دیجیے۔۔۔
محبت کے نام پر دھوکہ نہیں، ذمہ داری قبول کیجیے۔۔۔
وقتی خواہشات نہیں، بلکہ ایسے پاکیزہ رشتے قائم کیجیے جن پر دنیا میں بھی سر اٹھا کر چل سکیں اور اللہ کے سامنے بھی شرمندہ نہ ہوں۔۔۔ آخر میں ایک بار پھر
” نکاح پر عمر کی بندشیں مت لگائیے ۔۔۔۔
Comments are closed.