"صرف مسلم کمیونٹی کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے؟” "ایک سے زائد شادی کی شرح دوسرے مزاہب میں اجازت نہ ہو کر بھی مسلمانوں سے زیادہ ہے” "چیتا کیمپ کی ایم ایل اے ثنا ملک نے اسمبلی میں اٹھایا اہم سوال”

 

ممبئی(منترالیہ): مہاراشٹر اسمبلی کے مانسون اجلاس میں طلاقِ ثلاثہ کے معاملے پر بحث کے دوران چیتا کیمپ کی رکن اسمبلی ثنا ملک نے ایک اہم سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ خواتین کے مسائل کو مذہب کی بنیاد پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے سوال کیا کہ صرف مسلم کمیونٹی کے معاملات کو ہی بار بار بحث کا موضوع کیوں بنایا جاتا ہے؟

 

اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ثنا ملک نے کہا کہ اگر خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ کی بات کی جا رہی ہے تو تمام طبقات کی خواتین کو درپیش مسائل پر یکساں توجہ دی جانی چاہیے۔ کسی ایک مذہبی برادری کو نشانہ بنا کر مسائل کا حل تلاش نہیں کیا جا سکتا۔

 

انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین بھی اسی ملک کی شہری ہیں اور آئین نے ہر شہری کو مساوی حقوق فراہم کیے ہیں۔ خواتین کے مسائل کے حل کے لیے تعمیری سوچ اور منصفانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

 

اسمبلی کی بحث کے دوران طلاقِ ثلاثہ، مسلم پرسنل لا اور خواتین کے حقوق سے متعلق مختلف پہلوؤں پر اراکین نے اپنی آراء پیش کیں۔ اس موقع پر یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ خواتین کے تحفظ اور انصاف کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا طبقے سے ہو۔

 

ثنا ملک کے اس تبصرے کو اسمبلی میں موجود کئی اراکین نے اہم قرار دیا، کیونکہ انہوں نے بحث کو کسی ایک کمیونٹی تک محدود رکھنے کے بجائے خواتین کے مجموعی مسائل کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

عوام میں ثنا ملک کے اس تیور کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی،اس لیے کہ ان کا تعلق حکمراں پارٹی سے ہے۔

Comments are closed.