اسد الدین اویسی اور مسلم سیاست

 

✒️ محمد نفیس خان ندوی

 

ہندوستانی سیاست میں مختلف سیاسی جماعتیں اور رہنما اپنے مخصوص نظریات، نعروں اور مسائل کو بنیاد بنا کر عوامی حمایت حاصل کرتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت کا ایک مرکزی مدعا ہوتا ہے جس کے گرد اس کی سیاسی حکمتِ عملی اور عوامی مہمات گردش کرتی ہیں۔ تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی جماعت یا رہنما کا کسی مسئلہ کو اپنا سیاسی محور بنانا اس بات کی قطعی دلیل نہیں ہے کہ اس کی تمام سیاسی سرگرمیاں صرف اسی مقصد کے لیے وقف ہیں۔

 

مثال کے طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سیاست کا بنیادی محور "ہندوتوا” ہے، لیکن محض اس بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کہ وہ ہر حال میں ہندوؤں کے مفادات کی حقیقی اور مکمل نمائندہ ہے۔

سیاسی جماعتیں اپنے نظریاتی نعروں کے ساتھ ساتھ اقتدار، سیاسی طاقت اور جماعتی مفادات کو بھی پیشِ نظر رکھتی ہیں، اور بی جے پی بھی اس سیاسی اصول سے مستثنیٰ نہیں۔

 

اسی طرح مایاوتی کی سیاست دلتوں کے حقوق اور مسائل کے عنوان سے ابھری۔ وہ دلتوں کی ایک مؤثر سیاسی آواز کے طور پر سامنے آئیں اور کئی مرتبہ اتر پردیش کی وزیرِ اعلیٰ بھی رہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ان کی ہر سیاسی حکمت عملی کا مقصد صرف دلتوں کی فلاح ہی ہو۔

دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح ان کی سیاست میں بھی اقتدار کا حصول اور ذاتی مفادات شامل رہے ہیں۔

 

کانگریس خود کو سیکولرازم کی علمبردار جماعت کے طور پر پیش کرتی رہی ہے، لیکن اس کے سیکولرازم کی تعبیر اور عملی پالیسیاں ہمیشہ متضاد رہی ہیں.

بلکہ بعض موقعوں پر اس کی سیاسی پالیسیوں نے ملک میں مذہبی منافرت کو خوب فروغ دیا ہے..

 

بالکل اسی طرح بیرسٹر اسد الدین اویسی کی سیاست کا مرکزی محور مسلم قوم اور مسلمانوں کے مسائل ہیں۔ وہ پارلیمنٹ میں مسلمانوں کے مسائل کو مؤثر انداز میں اٹھاتے ہیں، آئینی اور قانونی زبان میں گفتگو کرتے ہیں، اور عوامی اجتماعات میں مسلمانوں کو سیاسی شعور، سیاسی شرکت اور قیادت کے میدان میں آگے بڑھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کی خطابت، قانونی بصیرت اور مناظرانہ صلاحیتیں ان کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتی ہیں۔

تاہم اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ ایک سیاسی جماعت کے قائد اور ایک سیاسی لیڈر ہیں۔ اس لیے مسلم مسائل پر ان کی گفتگو مسلمانوں کے لیے بے لوث اخلاص کی دلیل سمجھ لینا مناسب نہیں۔

 

جس طرح دیگر سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں کی سرگرمیوں کو سیاسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے، اسی طرح اویسی کی سیاست کا جائزہ بھی اسی معیار پر لیا جانا چاہیے۔

 

انہوں نے گرچہ پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی کا ایک مؤثر انداز پیش کیا ہے، جبکہ ان کی خطابت اور پارلیمانی فعالیت کے مقابلہ میں زمینی سطح پر ان کی سیاسی کامیابی کا گراف بہت نیچا دکھائی دیتا ہے..

اسی طرح مختلف ریاستوں کے انتخابات میں ان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں بھی قومی مفادات کے مقابل جماعتی مفادات اور سیاسی اثر و رسوخ کے فروغ سے زیادہ تعلق رکھتی ہیں…

 

اسی طرح آپریشن سندور کے بعد مسلم ممالک میں ہندوستانی موقف کی وضاحت اور اس کے دفاع کے لیے تشکیل دیے گئے سرکاری وفد میں ان کی شمولیت بھی متعدد سوالات کو جنم دیتی ہے۔

 

حقیقت یہ ہے کہ ملک کی سیاست’ قومی خدمات کے ساتھ ساتھ ذاتی مفادات، حصول اقتدار اور اثر و رسوخ کی کشمکش کا میدان بھی ہے۔

اس لیے کسی بھی سیاسی جماعت یا رہنما کے بارے میں غیر معمولی عقیدت یا اندھی وابستگی دانش مندانہ رویہ نہیں کہلائے گی..

 

اصل غلطی اس وقت جنم ہوتی ہے جب ہم کسی سیاسی رہنما کو اپنی قوم کا واحد نجات دہندہ سمجھ لیتے ہیں اور اپنی تمام امیدیں اس کی ذات سے وابستہ کر دیتے ہیں۔ یہ رویہ صرف اسد الدین اویسی کے معاملے میں نہیں بلکہ ہر اس سیاسی رہنما کے بارے میں اختیار کیا جاتا ہے جو کسی موقع پر مسلمانوں کے حق میں کوئی مؤثر بات کہہ دے، یا کوئی نعرہ لگا دیتا ہے.. جس کے نتیجہ میں سیاسی شعور اور حقیقت پسندانہ تجزیہ کے بجائے جذباتی وابستگی پروان چڑھنے لگتی ہے..

 

اس لیے زیادہ مناسب اور متوازن رویہ یہ ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی حمایت یا مخالفت شخصیت پرستی کی بنیاد پر نہیں بلکہ اجتماعی مفاد، عملی کارکردگی، سیاسی حکمتِ عملی اور زمینی نتائج کی بنیاد پر کی جائے۔ کسی بھی رہنما کو ہماری اجتماعی نجات، مستقبل یا جذباتی وابستگی کا واحد مرکز بنا دینا نہ سیاسی بصیرت کے مطابق ہے اور نہ ہی قومی مفاد کے لیے مفید!!

 

(ندوۃ العلماء – لکھنؤ)

Comments are closed.