محرم الحرام: فکر و احتساب کا مہینہ
تحریر :محمد نفیس خان ندوی
اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے۔ یہ محض تاریخ کے اوراق پر ایک نئے عدد کا اضافہ نہیں، بلکہ وقت کے بے رحم سفر میں ایک ایسا پڑاؤ ہے جو انسان کو رک کر اپنے سفر کا جائزہ لینے اور منزل کی سمت کو ازسرنو متعین کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ انسان اس دنیا میں ایک مسافر ہے اور یومِ قیامت اس کی آخری منزل۔ زندگی کی یہ طویل شاہراہ مختلف مرحلوں، موڑوں اور پڑاؤوں پر مشتمل ہے؛ کہیں راحت کے سائے ہیں تو کہیں آزمائشوں کی تپتی دھوپ، کہیں کامیابی کی منزلیں ہیں تو کہیں صبر و استقامت کے کٹھن مرحلے۔
محرم الحرام کا آغاز گویا اس سفر حیات میں ایک ایسا مقام ہے جہاں مسافر اپنے زادِ راہ کا جائزہ لیتا ہے، پیچھے رہ جانے والے مراحل پر نظر ڈالتا ہے اور آنے والے راستوں کے لیے خود کو تیار کرتا ہے۔ وہ چند لمحے ٹھہر کر سوچتا ہے کہ سفرِ حیات کے گزشتہ مرحلوں میں اس نے اپنے دامن میں کیا سمیٹا، کن مواقع کو گنوا دیا اور منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لیے اس کے زادِ راہ میں کتنا اضافہ ہونا باقی ہے۔
محرم الحرام محاسبۂ نفس، بیداریِ شعور اور اصلاحِ احوال کا پیغام لے کر آتا ہے۔ زندہ قومیں اپنے حالات کا جائزہ لیتی ہیں، اپنی غلطیوں سے سبق سیکھتی ہیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کرتی ہیں۔ امتِ مسلمہ کے پاس آج بھی انسانیت کی رہنمائی کا عظیم سرمایہ موجود ہے، لیکن اسے مؤثر بنانے کے لیے سب سے پہلے اپنے اندر احساسِ ذمہ داری اور خود احتسابی پیدا کرنا ہوگی۔ محاسبہ ہی اصلاح کا پہلا زینہ اور ترقی کا بنیادی راز ہے۔
علامہ اقبال نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے:
صورتِ شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
اللہ تعالیٰ نے جن چار مہینوں کو خصوصی حرمت عطا فرمائی ہے، محرم ان میں سے ایک ہے۔ اس مہینے کی عظمت کا تقاضا ہے کہ انسان گناہوں سے بچے، اپنے تعلقِ مع اللہ کو مضبوط بنائے اور اپنی زندگی کو خیر و تقویٰ کے راستے پر استوار کرے۔ اسی مہینے کی ایک بڑی فضیلت عاشورہ کا روزہ ہے۔ احادیث مبارکہ کے مطابق اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو فرعون کے ظلم سے نجات عطا فرمائی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے اس دن روزہ رکھا، اس کی ترغیب دی اور فرمایا کہ عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ اس لیے اس مبارک دن کو عبادت، دعا، ذکر اور شکر الٰہی کے ساتھ گزارنا چاہیے۔
بدقسمتی سے محرم کے حقیقی پیغام کو پس پشت ڈال کر امت کا ایک بڑا طبقہ مختلف رسوم و رواج اور غیر شرعی اعمال میں مبتلا ہوگیا ہے۔ حضرت حسینؓ کی شہادت بلا شبہ تاریخِ اسلام کا ایک عظیم اور دل خراش سانحہ ہے۔ اہل بیتِ نبوی ﷺ سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے، لیکن اسلام نے غم کے اظہار کے لیے بھی اعتدال اور حکمت کا راستہ متعین کیا ہے۔ مصیبت کو ہر سال تازہ کرکے سوگ و ماتم کو مذہبی شعار بنالینا، نوحہ و ماتم کو عبادت کا درجہ دینا یا جائز خوشیوں سے اجتناب کرنا اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے مصیبت کے موقع پر صبر، رضا اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کی تعلیم دی ہے۔
اہل بیتؓ سے محبت کا تقاضا یہ نہیں کہ ان کے نام پر نئی نئی رسمیں ایجاد کی جائیں، شبیہیں بنائی جائیں، تابوت سجائے جائیں، جلوس نکالے جائیں یا خود کو لہولہان کیا جائے؛ بلکہ محبت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ان کی سیرت، ان کی قربانی، ان کے صبر اور حق پسندی کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ حضرت حسینؓ نے باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کیا بلکہ حق کی خاطر ہر چیز قربان کردی۔ ان کی یاد کا سب سے مؤثر اور پائیدار طریقہ یہی ہے کہ ہم بھی حق و انصاف پر ثابت قدم رہیں اور دین کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار رہیں۔
آج کا مسلمان جن فکری، اخلاقی اور سماجی چیلنجوں سے دوچار ہیں‘ان کا مقابلہ مصنوعی جذبات، رسمی نعروں، نمائشی ماتم اور جذباتی فنکاری سے نہیں کیا جاسکتا، بلکہ صحیح فکر، مضبوط کردار اور عملی جدوجہد ہی اس کا راستہ ہے۔ اگر محرم ہمیں یہ شعور عطا کردے کہ ہم رسموں کے بجائے اقدار، نعروں کے بجائے کردار اور جذباتی مظاہروں کے بجائے عملی وفاداری کو اختیار کریں، تو یہی واقعۂ کربلا کی صحیح یاد اور حضرت حسینؓ کے ساتھ حقیقی محبت کا ثبوت ہوگا!!
26/جون2026
(بشکریہ تعمیر حیات-لکھنؤ)
Comments are closed.