شیموگہ میں اردو زبان کی خاموش خدمت گار! 

 

احساس نایاب

ایڈیٹر گوشہ خواتین و اطفال بصیرت آن لائن

شہر کی مصروف سڑکوں پر چلتے ہوئے ہمیں اکثر وہی چہرے نظر آتے ہیں جو شہرت کی سیڑھیوں پر چڑھ کر خودنمائی کرتے ہیں، مگر انہی گلیوں اور راستوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو خاموشی سے خدمت کے چراغ روشن کررہے ہوتے ہیں۔ نہ ان کے نام بڑے بڑے بینروں پر درج ہوتے ہیں، نہ ان کے کارنامے روزانہ خبروں کی زینت بنتے ہیں، لیکن ان کی خاموش محنت بے شمار زندگیوں میں امید کے دیے روشن کر رہی ہوتی ہے۔۔۔

شیموگہ شہر میں بھی ایک ایسی ہی شخصیت موجود ہے، جن کی زندگی خدمت، ایثار اور اخلاص کی ایک خوبصورت داستان ہے۔ یہ نام ہے محترمہ ثریہ عنبر کا، جو برسوں سے خاموشی کے ساتھ قوم، تعلیم اور اردو زبان کی خدمت میں مصروف ہیں۔۔۔ وہ ان لوگوں میں سے نہیں جو خدمت کے بدلے تعریف کے چند الفاظ یا شہرت کے چند لمحے تلاش کرتے ہیں، بلکہ ان کی خوشی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب کسی غریب بچی کے ہاتھ میں داخلے کا فارم آتا ہے، جب کسی طالبہ کی فیس ادا ہو جاتی ہے، جب کسی نوجوان کو اس کا حق مل جاتا ہے یا جب اردو زبان کے کسی مسئلے کا حل نکل آتا ہے۔۔۔

سنہ 2008 سے ان کی تعلیمی خدمات کا باقاعدہ آغاز گورنمنٹ پی یو کالج سائنس میدان شیموگہ سے ہوا۔ تب سے لے کر آج تک وہ مسلسل تدریسی، تعلیمی اور سماجی میدان میں سرگرم ہیں۔ اس وقت وہ گورنمنٹ فرسٹ گریڈ کالج، باپوجی نگر، شیموگہ میں بطور گیسٹ لیکچرر خدمات انجام دے رہی ہیں اور نئی نسل کی فکری و تعلیمی تربیت میں اپنا اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔۔۔

گھریلو اور ذاتی مصروفیات کے باوجود انہوں نے خود کو قوم کی فلاح، بچیوں کی تعلیم اور اردو زبان کی خدمت کے لیے وقف کر دیا ہے۔ ان کی خدمات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ شاید بہت سے لوگ ان کے کئی کارناموں سے واقف بھی نہ ہوں۔۔۔

شیموگہ اور اطراف کے دیہاتوں میں بے شمار ایسی بچیاں موجود ہیں جو رہنمائی، وسائل یا مناسب مواقع نہ ہونے کے سبب اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔ 2011 سے آج تک ثریہ عنبر نے ان بچیوں تک پہنچنے کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ وہ دور دراز دیہاتوں میں جا کر والدین کو تعلیم کی اہمیت سمجھاتی ہیں، بچیوں کو کالجس تک لاتی ہیں، ان کے داخلوں کا انتظام کرتی ہیں اور قدم قدم پر ان کی رہنمائی کرتی ہیں۔۔۔

بچیوں کے داخلوں کے ساتھ ساتھ، دور دراز علاقوں سے آنے والی بچیوں کی تعلیمی ضروریات کا خیال رکھنا، انہیں رہائش اور دیگر مسائل میں رہنمائی فراہم کرنا ان کی زندگی کا معمول بن چکا ہے۔۔۔

جہاں مالی مسائل بچیوں کی تعلیم میں رکاوٹ بنتے ہیں، وہاں بھی وہ خاموشی سے اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ کبھی مخیر حضرات سے تعاون جمع کرکے طالبات کی فیس ادا کرواتی ہیں اور کبھی اپنی ذاتی حیثیت میں مالی مدد فراہم کرتی ہیں۔ ان کی کوشش رہتی ہے کہ کوئی بھی بچی محض وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہ جائے۔۔۔

تعلیم کے میدان میں ان کی خدمات صرف طالبات تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے اساتذہ کے حقوق کے لیے بھی بھرپور جدوجہد کی ہے۔ وہ ہتارکشنا سمیتی میں ضلع لیڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں اور سابق ایم ایل سی جناب آئی نور منجوناتھ کے ساتھ مل کر گیسٹ لیکچررس کے حقوق کے حصول اور ان کے مسائل کے حل کے لیے مسلسل تحریک چلاتی رہی ہیں۔۔۔

اسی طرح وہ جاب اورینٹیڈ کورس (JOC) میں ریاستی سطح کی قائدانہ ذمہ داریاں بھی نبھا رہی ہیں۔ سنہ 2011 میں جن 530 امیدواروں کے نام تقرری کی فہرست سے خارج ہوگئے تھے، ان کے حقوق کی بحالی اور انہیں ملازمت دلانے کے لیے بھی ان کی کوششیں آج تک جاری ہیں۔۔۔

اردو زبان کے فروغ کے لیے بھی ان کی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے مختلف تعلیمی اداروں میں اردو زبان کے مسائل کو اجاگر کیا اور اردو اساتذہ کی تقرری کے سلسلے میں مسلسل کوششیں کیں۔ خصوصاً گورنمنٹ پی یو کالج میں اردو ٹیچرس کی تقرری کے لیے ان کی جدوجہد قابلِ ذکر رہی ہے۔ وہ انجمن ترقی اردو، شاخ شیموگہ میں نائب صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہی ہیں اور اردو زبان کے فروغ کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں۔۔۔

ان کی انہی بے لوث خدمات کے اعتراف میں یومِ آزادی کی ایک تقریب کے موقع پر انہیں "بہترین ٹیچر ایوارڈ” سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز دراصل ان کی برسوں کی خاموش محنت، تعلیمی خدمات اور اردو زبان کے لیے ان کی لگن کا اعتراف تھا۔۔۔

ثریہ عنبر کی شخصیت اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ معاشرے کی تعمیر صرف بڑے عہدوں اور بلند آوازوں سے نہیں ہوتی بلکہ ان گمنام خدمت گاروں سے ہوتی ہے جو خاموشی سے نسلوں کی تقدیر بدلنے میں مصروف رہتے ہیں۔۔۔

بلاشبہ محترمہ ثریہ عنبر شیموگہ میں اردو زبان کی ایک خاموش خدمت گار، بے شمار طالبات کے روشن مستقبل کی معمار، اساتذہ کے حقوق کی علمبردار اور قوم کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہیں۔۔۔ کیونکہ وہ شور مچانے والوں میں شامل نہیں، بلکہ خاموشی سے خدمت کا سفر طے کرنے والوں میں سے ہیں۔ ایسے لوگ بظاہر گمنام رہتے ہیں، مگر ان کی خدمات نسلوں تک یاد رکھی جاتی ہیں، کیونکہ خاموش قدموں کی چاپ بھی وقت کے سینے پر اپنی دائمی تحریر ثبت کر جاتی ہے۔۔۔

ان کی تمام خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ثریہ عنبر صرف ایک معلمہ نہیں بلکہ ایک سماجی کارکن، تعلیمی رہنما، اردو زبان کی مخلص خدمت گار اور حقوقِ انسانی کے لیے آواز بلند کرنے والی ایک باہمت خاتون ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ قوم، تعلیم اور اردو زبان کی خدمت کے لیے وقف کر دیا ہے۔۔۔

Comments are closed.