مدارسِ اسلامیہ کے تحفظ، تعلیمی ترقی اور قانونی رہنمائی کے لیے اہم مشاورتی اجلاس 29 جون کو پٹنہ میں

پٹنہ (پریس ریلیز) بہار میں مدارسِ اسلامیہ کو درپیش تعلیمی، انتظامی، قانونی اور مالی مسائل کے تناظر میں مدارس کے تحفظ، استحکام اور ترقی کے لیےآل انڈیا ملی کونسل بہار کے زیر اہتمام ایک اہم مشاورتی اجلاس 29 جون 2026، بروز پیر، صبح 10:00 بجے گورنمنٹ اردو لائبریری، اشوک راج پتھ، پٹنہ میں منعقد ہورہا ہے اجلاس کی صدارت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی، کارگزار صدر آل انڈیا ملی کونسل فرمائیں گے۔
اس اجلاس میں صوبہ بھر کے مدارسِ اسلامیہ کے مہتممین، ذمہ داران، اساتذہ، اراکینِ انتظامیہ، ماہرینِ تعلیم، قانونی ماہرین، سماجی شخصیات اور مدارس سے وابستہ دیگر افراد شرکت کریں گے۔ اجلاس کا بنیادی مقصد موجودہ حالات میں مدارسِ اسلامیہ کو درپیش مختلف چیلنجز کا جائزہ لینا، ان کے حل کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی تیار کرنا، باہمی تعاون کو فروغ دینا اور مدارس کے تعلیمی و انتظامی نظام کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانے کے لیے قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنا ہے۔
اجلاس میں مدارس کی رجسٹریشن، ٹرسٹ یا سوسائٹی کی تشکیل، قانونی تقاضوں کی تکمیل، مالی شفافیت، سرکاری جانچ کے دوران اختیار کیے جانے والے ضروری اقدامات، تعلیمی معیار کی بہتری، دستاویزی نظام کی مضبوطی اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
آل انڈیا ملی کونسل، بہار کے صدر مولانا ڈاکٹر عالم قاسمی اور جنرل سکریٹری مولانا مفتی نافع عارفی نے اپنے مشترکہ بیان میں صوبہ بھر کے تمام مدارس کے ذمہ داران سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اہم اجلاس میں بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے خاص طور پر ان مدارس کے ذمہ داران سے درخواست کی ہے جنہیں حالیہ عرصے میں کسی بھی سرکاری جانچ، انکوائری، سروے یا انتظامی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ وہ ضرور شریک ہوں اور اپنے عملی تجربات، پیش آنے والی مشکلات اور ان کے حل سے دیگر مدارس کو آگاہ کریں، تاکہ دوسرے مدارس بھی ان تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی انتظامی اور قانونی تیاری بہتر بنا سکیں اور مستقبل میں پیش آنے والے ممکنہ مسائل کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔
مولانا ڈاکٹر عالم قاسمی اور مولانا مفتی نافع عارفی نے کہا کہ موجودہ حالات میں مدارسِ اسلامیہ کے تحفظ، ترقی اور بہتر مستقبل کے لیے انفرادی کوششوں کے بجائے اجتماعی سوچ، باہمی مشاورت اور مشترکہ جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس اجلاس کے ذریعے مختلف علاقوں کے مدارس کے ذمہ داران کو ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ، مسائل کے تبادلۂ خیال اور مشترکہ لائحۂ عمل کی تشکیل کا موقع ملے گا، جس سے مدارس کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس مدارسِ اسلامیہ کے قانونی، انتظامی، تعلیمی اور مالی تحفظ کے سلسلے میں ایک مؤثر اور تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا اور اس کے نتیجے میں مدارس کے استحکام، بہتر نظم و نسق، تعلیمی معیار میں بہتری اور آئندہ درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط اور مشترکہ حکمتِ عملی سامنے آئے گی، جو پورے صوبے کے مدارس کے لیے نہایت مفید اور رہنما ثابت ہوگی۔
انہوں نے صوبہ بھر کے تمام متعلقہ افراد سے بروقت شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم اجلاس کو کامیاب بنانے میں ہر مدرسہ اور ہر ذمہ دار کا تعاون نہایت اہم ہے۔

Comments are closed.