مولانا غلام رسول بلیاوی نے مقتول فیض احمد کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی، ہر ممکن انصاف اور سرکاری تعاون کی یقین دہانی

 

دربھنگہ، 27 جون(پریس ریلیز) بہار ریاستی اقلیتی کمیشن کے معزز چیئرمین مولانا غلام رسول بلیاوی نے آج اپنے طے شدہ دورے کے تحت دربھنگہ کے پرانی منصفی محلہ میں حالیہ دنوں بے رحمی سے قتل کیے گئے مرحوم فیض احمد کے والد ماسٹر اسد احمد اور دیگر اہلِ خانہ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی، اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے ان کے غم میں برابر کے شریک ہونے کا اظہار کیا۔

 

ملاقات کے دوران مولانا بلیاوی نے اہلِ خانہ سے دریافت کیا کہ مقدمے میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے۔ اس پر اہلِ خانہ نے انہیں پورے واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ چندن پٹی گاؤں میں واقع یاماہا ایجنسی کے سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل کی واردات میں متعدد افراد ملوث تھے، جبکہ پولیس نے اب تک صرف ایک ملزم سونو پاسوان کو گرفتار کرکے جیل بھیجا ہے۔

 

اہلِ خانہ نے چیئرمین اقلیتی کمیشن کے سامنے کئی اہم مطالبات رکھے، جن میں قتل میں ملوث تمام ملزمان کی فوری گرفتاری، سی سی ٹی وی فوٹیج کی ایف ایس ایل (Forensic Science Laboratory) سے سائنسی جانچ، متاثرہ خاندان کے ایک فرد کو روزگار، مناسب سرکاری مالی امداد، اور مقدمے کا اسپیڈی ٹرائل چلا کر تمام مجرموں کو سخت سے سخت سزا دلانا شامل ہے۔

 

اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ فیض احمد کا قتل ایک گہری سازش کے تحت کیا گیا ہے، لہٰذا اس معاملے کی کرائم برانچ یا کسی آزاد ایجنسی سے غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ سازش میں شامل تمام افراد بے نقاب ہوں اور قانون کے مطابق انہیں سزا مل سکے۔

 

مولانا غلام رسول بلیاوی نے اہلِ خانہ کو یقین دلایا کہ بہار ریاستی اقلیتی کمیشن کی جانب سے جو بھی قانونی اور آئینی دائرۂ کار میں ممکن ہوگا، وہ ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف ہر حال میں ملنا چاہیے اور اس سنگین جرم میں ملوث کسی بھی مجرم کو بخشا نہیں جانا چاہیے۔

 

اس موقع پر آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے صدر اور جنتادل (یو) کے رہنما نظرعالم، دیدار حسین چاند، ریاض خان قادری، ڈاکٹر انتخاب ہاشمی، مولانا مہدی رضا روشن القادری، مولانا بشیر الہدیٰ قادری، حافظ نصیر احمد سرپنچ، محند شاہد، محمد سیفو، حافظ محمد ابو شحمہ، نواب، حبیب اصغر، ڈاکٹر آفتاب عالم، ڈاکٹر منصور خشتر، حامد انصاری، سمیر خان، اشرف احمد، ضمیر خان سمیت کثیر تعداد میں معززینِ شہر اور مقامی باشندے موجود تھے۔ تمام شرکاء نے اہلِ خانہ سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے چیئرمین اقلیتی کمیشن سے انصاف، سرکاری امداد اور قاتلوں کو قرار واقعی سزا دلانے کے لیے مؤثر اقدامات کی اپیل کی۔

Comments are closed.