محرم الحرام اصلا خود احتسابی کا مہینہ ہے۔ ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی
مدرسہ انوار العلوم مسیڑھا ملیح آباد میں جلسہ شہدائے اسلام سے علماء کا خطاب
لکھنؤ (پریس ریلیز) مدرسہ انوارالعلوم مسیڑھا۔ مال ملیح آباد میں جلسہ شہدائے اسلام کا انعقاد آل انڈیا ملی کونسل مشرقی یوپی کے جنرل سکریٹری مولانا نجیب الرحمان ململی ندوی کی صدارت میں کیا گیا۔
جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مؤقر استاد مولانا ڈاکٹر عبید الرحمن ندوی نے ماہ محرم الحرام اور یوم عاشورہ کی اہمیت و فضیلت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اسلامی کیلنڈر کی ابتدا اسی ماہ محرم الحرام سے ہوتی ہے۔ یہ اشہر حرم میں سے ہے۔ یہ اصلا محاسبہ کا مہینہ ہے۔ اس میں ہمیں پورے سال کا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے اور اس مہینہ میں ہمیں زیادہ سے زیادہ استغفار کرنا چاہیے اور گناہوں سے بچنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے اندر سب سے بڑی کمی تو کل علی اللہ یعنی الله تعالیٰ پر مکمل بھروسہ نہ کرنے کی ہے۔
آج ہم نے اپنے خالق حقیقی پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ معمولی سے معمولی کام کے لیے بھی ہم غیر اللہ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتے ہیں۔ یہ اسلامی عقیدے کے بالکل منافی ہے-
اس موقع پر ڈاکٹر صاحب نے خاص طور سے مدرسہ کے طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے پاس ہر چیز ہے اسکے باوجود ہماری زندگی میں سکون وآرام نہیں ہے۔ ہر چیز ہوتے ہوئے بھی ہم ٹینشن والی زندگی گزار رہے ہیں۔اگر ہم واقعی سکون کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو ہمیں چار چیزوں پر عمل پیرا ہونے پڑے گا-
(1) اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ کرنا۔ ہمیں جو بھی مانگنا اور سوال کرنا ہے اسی سے کرنا ہے غیر اللہ کے سامنے کسی بھی قیمت پر ہمیں نہیں جھکنا چاہیے-
(2) دوسرا ہمیں تکبر سے بچناچاہئے، کبریائی اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو بلکل پسند نہیں کر تا ہے۔ جس نے بھی تکبر کیا اسکا خمیازہ اسکو اسی دنیا میں بھگتنا پڑا۔
(3) تیسرا والدین کی اطاعت و خدمت کرنا۔
والدین کو ناراض کرنا اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنا ہے-
لہذا والدین کو اف تک نہ کہیں-
(4) چوتھا اپنے اندر خوف خدا پیدا کیجیے۔ خوف خدا ہی ہمیں بے شمار برے کاموں اور گناہوں سے روکتا ہے۔ آج ہمارا پورا معاشرہ گناہوں میں اور مختلف قسم کے جرائم میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس کی اصل وجہ صرف اور صرف ہمارے اندر خوف خدا کا فقدان ہے۔
اس موقعہ پر معہد دارالعلوم سکروری کے استاد مولانا عبیدالرحمان ندوی بہرائچی۔ مولانا ابوالحیات ندوی مولانا عمر بن عبدالعزیز ندوی اور کمال احمد لکھنوی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ آخر میں مولانا نجیب الرحمان صاحب کی دعاء جلسہ کا اختتام ہوا۔ پروگرام کے آغاز میں مدرسہ کے ناظم مولانا انیس احمد ندوی نے تمام مہمانوں کا استقبال کیا اور آخر میں مدرسہ کے اساتذہ و طلبہ نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
Comments are closed.