مر کز المعارف ممبئی میں انگریزی تقریری مقابلے کا انعقاد
صرف دو مہینے میں اس انداز سے انگریزی میں تقریر کرنا واقعی ایک حیرت انگیز کامیابی ہے۔۔۔۔ جناب گوری
مناسب ادارے کا دستیاب ہوجانا کسی جدید زبان کو سیکھنے کے لیے بڑی نعمت ہے۔ عیسی ندوی
ممبئی: فضلاء مدارس کو انگریزی زبان وادب کی تعلیم دینے کے حوالےسے اپنی منفرد شناخت رکھنے والا ملک کا مشہور ومعروف ادارہ مر کز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر (ایم ایم ای آر سی) ممبئی میں تعلیم حاصل کر رہے فضلاء مدارس کے درمیان انگریزی زبان میں تعلیمی سال ٢٠٢٦ -٢٧ کا پہلا تقریری مسابقہ انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں فائنل راؤنڈ کے لیے منتخب ہونے والے کل آٹھ طلبہ نے مختلف اہم عناوین پر انگریزی زبان میں تقاریر پیش کرکے اپنی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ اس پروگرام میں شہر کی کئی معزز شخصیات نے بھی شرکت کی۔
پروگرام کا آغاز قاری بادشاہ اور مولانا عجاز کی تلاوتِ قرآنِ مجید مع انگریزی ترجمہ سے ہوا، جس کے بعد بارگاہ رسالت ﷺ میں محبت سے لبریز نعت مولانا نصیب اللہ کے ذریعے پیش کی گئی۔ پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے مفتی جسیم الدین قاسمی نے مرکز المعارف کا مختصر تعارف کرایا اور مرکز المعارف کے بانی مولانا محمد بدر الدین اجمل القاسمی کی ملک و ملت کے تئیں گراں قدر خدمات کو بھی اجاگر کیا۔ نیز مہمانوں کا والہانہ خیرمقدم کیا۔
پروگرام میں حکم کی حیثیت سے تین معزز شخصیات نے شرکت کی جس میں مرکز المعارف کے سینئر استاذ مولانا محمد اسلم جاوید قاسمی، سابق پروفیسر طببیہ کالج ورسوا، ڈاکٹر عیسی ندوی اور انجینیر جناب اسامہ گوری صاحب شامل تھے۔
پروگرام کی صدارت مرکز المعارف کےانچارچ مولانا محمد عتیق الرحمن قاسمی نے فرمائی، مہاراشٹرکالج کے سابق پروفیسر حنیف شیخ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ جبکہ جناب حافظ اقبال چوناوالا بطور مہمان اعزازی پروگرام میں شریک ہوئے۔
مساہمین کی تقاریر کے بعد حکم حضرات نے طلباء کو اپنی قیمتی آراء اور نصائح سے نوازا۔ پروفیسر عیسیٰ ندوی نے کہاکہ فضلائے مدارس کو فراغت کے بعد مرکز المعارف یا اس جیسے ادارے میں جدید زبان سے آراستہ ہونے کے لیے داخلہ مل جانا بڑی نعمت ہے۔
دوسرے جج کے طور پر شریک پروگرام، جناب اسامہ گوری نے طلبہ کی کارکردگی کو سراہا اور اس پر حیرت کا اظہار فرمایا کہ صرف دو مہینے میں اس انداز سے تقریر کرنا واقعی ایک حیرت انگیز کامیابی ہے۔
پروفیسر حنیف صاحب نے تقریر کو جامع اور اثر انگیز بنانے کے لیے تلفظ کے حوالے سے چند اہم نکات کیجانب رہنمائی کی اور کہا کہ مؤثر تقریر میں مواد سے زیادہ انداز بیان اور تلفظ کا زیادہ دخل ہوتا ہے۔
ادارے کے معزز استاذ اور پروگرام کے تیسرے حکم مولانا اسلم جاوید قاسمی نے طلبہ کی کارکردگی کی تعریف کی اورنتائج کا اعلان کیا۔ فائنل راؤنڈ کے کل آٹھ منتخب طلبہ سے مولوی محمد حمزہ قاسمی، یوسف چودھری قاسمی اور مولانا ابو سفیان قاسمی نے بالترتیب اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کی۔
پروگرام کے مہمان اعزازی جناب حافظ اقبال صاحب چوناوالا نے کہا کہ حالات حاضرہ کے حساب سے عناوین کا انتخاب بے حد ضروری ہے تاکہ حقیقت سے دنیا کو آگاہی ہو اور یہ آج کے پروگرام سے بخوبی جھلکتا ہے۔
پروگرام کے صدر مولانا عتیق الرحمن قاسمی نے اپنے صدارتی خطاب میں تمام مہمانوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے طلباء کی کارکردگی کو خوب سراہا اور مسلسل محنت کرنے کی طرف توجہ بھی دلائی۔ مرکز المعارف مسجد کے مؤقر امام مولانا شاہد قاسمی نے مختصر دعا پر پروگرام کا اختتام فرمایا۔
پروگرام کو کامیاب بنانے میں مرکزالمعارف کے لیکچررز مولانا جمیل احمد قاسمی اور مولانا محمد سلمان عالم قاسمی و ادارے کے دیگر عملے نے گراں قدر تعاون پیش کیا۔
Comments are closed.