ایک باپ، ایک استاد اور تین حافظِ قرآن

کم سنی، کم مدت اور غیر معمولی سعادت کی روشن داستان

محمد بلال الدین ابراہیمی

ماشاء اللہ! ثم ماشاء اللہ!

کل ۱۴ اگست ۲۰۲۶ء کا دن ہمارے نہایت عزیز، محنتی اور خوش نصیب ساتھی مولانا قمر عالم صاحب مدھوبنی کے لیے ہی نہیں، بلکہ ان کے پورے گھرانے کے لیے ایک یادگار اور قابلِ فخر دن بن گیا، جب ان کے تیسرے صاحبزادے حافظ ابوبکر نے صرف دس سال کی عمر میں، محض نو ماہ کی مختصر مدت میں حفظِ قرآن کریم کی تکمیل کرکے اپنے سینے کو کلامِ الٰہی کے نور سے منور کرلیا۔

یہ صرف ایک بچے کے حافظ بننے کی خبر نہیں؛ یہ ایک باپ کی مسلسل محنت، ایک استاد کی کامیاب تربیت، ایک گھر کے قرآنی ماحول اور اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم کی ایسی حسین داستان ہے جس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔

اس سعادت کی سب سے منفرد اور قابلِ رشک بات یہ ہے کہ مولانا قمر عالم صاحب کے تینوں صاحبزادے حافظِ قرآن ہوئے، اور تینوں نے صغرِ سنی ہی میں قرآن کریم اپنے سینے میں محفوظ کرلیا۔ اس سے بڑھ کر حیرت انگیز اور خوش آئند پہلو یہ ہے کہ ان تینوں نے حفظ کی منزل نہایت مختصر مدت میں طے کی۔

ان کے پہلے صاحبزادے حافظ عمر فاروق نے صرف دس سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا اور گیارہ ماہ کی مدت میں تکمیل کی۔ دوسرے صاحبزادے حافظ ابوذر نے محض آٹھ سال کی عمر میں صرف چھ ماہ کی مختصر مدت میں حفظ مکمل کیا، جس کی تکمیل ۲۳ اپریل ۲۰۲۳ء کو ہوئی۔ اور اب تیسرے صاحبزادے حافظ ابوبکر نے بھی دس سال کی عمر میں صرف نو ماہ کے اندر، ۱۴ اگست ۲۰۲۶ء کو حفظ قرآن کریم کی تکمیل کرکے اس روشن سلسلے کو مکمل کردیا۔

یوں ایک ہی گھر میں قرآن کریم کے تین حافظ، وہ بھی دس سال یا اس سے کم عمر میں، اور وہ بھی چھ، نو اور گیارہ ماہ جیسی مختصر مدت میں!

یہ معمولی بات نہیں۔

قرآن کریم کی تعلیم و حفظ کی یہ غیر معمولی رفتار اس کتابِ الٰہی کی عظیم برکت، اس کی دلوں پر اثر انگیزی اور اللہ تعالیٰ کے اس خصوصی فضل کی روشن علامت ہے کہ جس کتاب کے بارے میں خود رب العالمین نے فرمایا:

﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾

"اور یقیناً ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لیے آسان کردیا ہے، پس ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟”(سورۃ القمر: 17)

 

قرآن کریم کا حفظ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، لیکن کم عمری میں حفظ ہوجانا اور پھر انتہائی مختصر مدت میں اس منزل کو طے کرلینا اس نعمت کی غیر معمولی کیفیت کو مزید نمایاں کردیتا ہے۔ چھ ماہ، نو ماہ اور گیارہ ماہ میں مکمل قرآن کریم کو سینے میں محفوظ کرلینا اس کتابِ الٰہی کی برکت اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی توفیق کا ایسا قابلِ تحسین مظہر ہے جس پر دل بے اختیار شکر سے لبریز ہوجاتا ہے۔

تین بیٹے، تین حافظ — اور استاد بھی باپ!

مولانا قمر عالم صاحب کی اس کامیابی کا سب سے خوب صورت پہلو یہ ہے کہ وہ صرف ان بچوں کے والد ہی نہیں، بلکہ ان کے استاد اور مربی بھی ہیں۔ ان کے تینوں صاحبزادوں نے مکتب قادریہ مسجد، راہوری، احمد نگر میں ان ہی کی نگرانی اور تربیت میں قرآن کریم کی حفظ مکمل کیا، جو مدرسہ مدینۃ العلوم، شری رامپور، احمد نگر، مہاراشٹر کے زیرِ نگرانی ہے۔

جن کے ناظم حضرت مولانا ارشاداللہ صاحب قاسمی مخدومی ہیں ایک استاد کے لیے اس سے بڑی خوش نصیبی کیا ہوسکتی ہے کہ اس کی اپنی اولاد اس کے سامنے قرآن پڑھنے بیٹھے، اس کی زبان سے قرآن سیکھے، اس کی نگرانی میں حفظ کرے اور بالآخر اس کے سامنے قرآن کریم مکمل کرکے حافظِ قرآن کا اعزاز حاصل کرے!

اور ایک باپ کے لیے اس سے بڑی سعادت کیا ہوگی کہ اس کے گھر کے تینوں بیٹے، دنیا کی کسی معمولی ڈگری یا منصب کے بجائے، اللہ تعالیٰ کی کتاب کو اپنے سینوں میں محفوظ کرنے والے بن جائیں!

یہاں مولانا قمر عالم صاحب کی شخصیت میں والد اور استاد دونوں کردار یکجا نظر آتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کو صرف سبق نہیں پڑھایا؛ بلکہ ان کے لیے وقت دیا، محنت کی، مسلسل نگرانی کی، حوصلہ بڑھایا، کمزوریوں کی اصلاح کی اور حفظ قرآن کی منزل تک پہنچنے کے لیے قدم قدم پر ان کا ساتھ دیا۔

اسی لیے ان تینوں حفاظ کی کامیابی میں بچوں کی محنت کے ساتھ ساتھ ایک ایسے باپ کی خاموش، مسلسل اور بے لوث محنت بھی شامل ہے جس نے اپنی اولاد کے مستقبل کو قرآن کے ساتھ وابستہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

کامیاب استاد کی سب سے خوب صورت سند

استاد کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جاتی کہ اس کے شاگرد کتنے ہیں، بلکہ اس سے بھی کہ اس کی تربیت نے کتنے دلوں کو علم و عمل سے منور کیا۔ مولانا قمر عالم صاحب کے لیے ان کے تینوں صاحبزادوں کا حافظ قرآن بن جانا ان کی تدریسی و تربیتی کامیابی کی ایک زندہ سند ہے۔

وہ ایک ایسے خوش نصیب استاد ہیں جنہوں نے اپنے علم اور تجربے کا سب سے پہلا اور سب سے قیمتی فیض اپنے گھر سے شروع کیا۔ ان کے تینوں بچے ان کے لیے صرف اولاد نہیں بلکہ ان کی محنت کے ثمرات، تربیت کے نتائج اور دینی خدمت کی زندہ یادگاریں ہیں۔

اور یہی وجہ ہے کہ ہم انہیں صرف مبارک باد نہیں دیتے بلکہ اس عظیم سعادت پر دل سے رشک کرتے ہیں۔

قرآن کے حافظ بنانے کی سب سے بڑی خوش نصیبی

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ»

"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔”

اس ارشادِ نبوی ﷺ کی روشنی میں مولانا قمر عالم صاحب کی خوش نصیبی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ خود بھی قرآن کی تعلیم دینے والے ہیں اور ان کے اپنے تینوں بچے بھی قرآن کریم کے حافظ بن گئے۔ گویا سیکھنے اور سکھانے دونوں شرف ان کی زندگی میں جمع ہوگئے، اور پھر اپنی اولاد کے ذریعے اس سعادت کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا۔

یہ کسی بھی باپ کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ عظیم ترین انعامات میں سے ایک ہے۔

ہمارے ہر دل عزیز ساتھی کے لیے دلی مبارک باد

ہم رفقائے درس جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم، اکل کوا، ۲۰۱۰ء کی جانب سے اپنے ہر دل عزیز، محنتی، مخلص اور خوش نصیب ساتھی مولانا قمر عالم صاحب مدھوبنی کو ان کے تیسرے صاحبزادے حافظ ابوبکر کی حفظ قرآن کریم کی تکمیل پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

ہمیں اس بات کی بھی خوشی ہے کہ آج ان کے گھر میں حفظ قرآن کی وہ حسین کہانی مکمل ہوئی جس کے تین روشن عنوان ہیں: حافظ عمر فاروق، حافظ ابوذر اور حافظ ابوبکر۔

ایک باپ کے تینوں بیٹے حافظ قرآن ہوں، وہ بھی کم عمری میں؛ ایک استاد اپنے تینوں بیٹوں کو خود قرآن کا حافظ بنائے؛ اور تینوں نہایت مختصر مدت، یعنی گیارہ ماہ، چھ ماہ اور نو ماہ میں حفظ کی تکمیل کریں—یقیناً یہ ایک ایسی سعادت ہے جس پر خوشی بھی بجا ہے، فخر بھی بجا اور اللہ تعالیٰ کا شکر بھی لازم ہے۔

اللہ تعالیٰ اس نعمت کو قبول فرمائے، تینوں حفاظ کو قرآن کریم کا حافظ، عامل، خادم اور داعی بنائے، ان کے سینوں میں محفوظ کلامِ الٰہی کو تاحیات قائم و دائم رکھے، ان کے والدین خصوصاً مولانا قمر عالم صاحب کی محنتوں کو شرفِ قبول بخشے، ان کے لیے اسے دنیا میں عزت و برکت اور آخرت میں ذخیرۂ نجات بنائے، اور اس گھر کو ہمیشہ قرآن کے نور، علم کی برکت اور دین کی خدمت سے آباد رکھے۔

بلاشبہ یہ صرف تین بچوں کے حافظ بننے کی خوشی نہیں؛ یہ ایک باپ کی تربیت کی کامیابی، ایک استاد کی محنت کی فتح، ایک گھر کے قرآنی ماحول کی برکت اور اللہ تعالیٰ کے خصوصی فضل کی روشن داستان ہے۔

 

اس عظیم کارنامے پر مرکز المعارف کے مفتی و استاذ مفتی جسیم الدین قاسمی نے ان تینوں خوش نصیب بچوں اور ان کے والدین کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے یہ کہا کہ یقینا یہ اللہ رب العزت کا خاص عنایت و کرم ہے کہ اتنی کم مدت میں ایک ہی والدین کے تین تین بچے حافظ قرآن بن گئے۔

Comments are closed.