ظالم کی مخالفت

 

شمع فروزاں

فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف الله رحمانی دامت برکاتہم

صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

اگر قرآن و حدیث کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور اسلامی تعلیمات کی روح کو سامنے رکھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کے بعد عدل و انصاف سے زیادہ کوئی چیز اسلام کی نظر میںمحبوب نہیں ، اور کفر کے بعد ظلم سے زیادہ کوئی عمل اس کی نگاہ میں مذموم اور ناپسندیدہ نہیں ؛ چوںکہ دنیا دارالامتحان ہے ؛ اس لئے اس دنیا کی حد تک کفر و شرک کو تو گوارا کیا جاسکتا ہے اور کسی کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ؛ لیکن ظلم ناقابل برداشت عمل ہے اور یہ کسی طور پر رَوا نہیں ، نہ مسلمانوں پر اور نہ غیر مسلموں پر ، نہ فرمانبرداروں پر اور نہ نافرمانوں پر ؛ چنانچہ قرآن مجید میں ۱۸۵ مواقع پر ظلم کی براہ راست یا بالواسطہ طورپر مذمت کی گئی ہے اور بار بار فرمایا گیا ہے کہ اﷲ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ، ظالموں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ اﷲ کے وعدۂ انعام کو نہیں پاسکتے: لا ینال عہدی الظالمین، ( بقرہ : ۱۲۴ ) جو لوگ ظلم پر کمر بستہ ہوتے ہیں ، وہ اﷲ کی ہدایت سے محروم رہتے ہیں: واﷲ لایہدی القوم الظالمین، ( بقرہ : ۲۵۸ ) ظالموں کے لئے مآل کار ناکامی ہی مقدر ہے : إنہ لا یفلح الظالمون (انعام : ۲۱ ) ظالموں پر اﷲ تعالیٰ کی لعنت ہوتی رہتی ہے ، لعنۃ اﷲ علی الظالمین۔ ( اعراف : ۴۴ )

قرآن کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جن قوموں پر اﷲ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا ہے ، ان پر نزول عذاب کا باعث صرف کفر و شرک اور ایمان سے انکار نہیں تھا؛ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ظلم و جور کا حد سے بڑھ جانا ان پر عذاب خداوندی کا باعث بنتا تھا ، قوم نوح کا حال یہ تھا کہ وہ حضرت نوح علیه السلام اور ان کے رفقاء پر پتھر برسایا کرتے تھے ، حضرت ابراہیم علیه السلام کو نمرود اور اس کی رعایا نے زندہ نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی ، حضرت لوط علیه السلام کی قوم خلاف فطرت فسق و فجور میں مبتلا تھی، جو انسانی سماج کے لئے ایک بہت بڑا ظلم ہے ، یہاں تک کہ وہ اس سے نووارد مہمانوں تک کو نہیں بخشتے تھے ، حضرت شعیب علیه السلام کی قوم پیمانہ میں ظلم کا ارتکاب کرتی تھی اور اس نے لین دین کے لئے الگ الگ پیمانے مقرر کئے ہوئے تھے ، فرعون نے صرف حضرت موسیٰ علیه السلام پر ایمان لانے سے انکار ہی نہیں کیا ؛ بلکہ اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ بدترین قسم کا ظلم روا رکھا ، یہاں تک کہ وہ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کردیتا تھا اور عورتوں کو زندہ رکھتا تھا ، پس قوموں کی ظالمانہ روش اور جفا انگیز حرکتوں کی وجہ سے ان پر اﷲ کا عذاب آیا ؛ اسی لئے اﷲ تعالیٰ نے مختلف قوموں پر عذاب کے پس منظر میں ان کی ظالمانہ روش کا ذکر فرمایا ہے ۔ ( دیکھئے ، بقرہ : ۵۹ ، نساء : ۱۵۳ ، انعام : ۹۳ ، ہود : ۳۷،۴۴، ۸۳ وغیرہ )

اسلام نے مظلوموں کی مدد اور ظالموں کی مزاحمت کا حکم دیا ہے ، حضرت براء بن عازب رضی الله تعالیٰ عنه روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی الله علیه وآله وسلم نے ہمیں سات باتوں کا حکم دیا ہے ، ان میں سے ایک مظلوموں کی مدد کرنا ہے ،( بخاری : ۲۴۴۵ ) آپ صلی الله علیه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنی اُمت کے لئے عرفات میں مغفرت کی دُعاء کی تو اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے ان کی مغفرت کی ،سوائے ظالم کے ( ابن ماجہ : ۳۰۱۳ ) حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی الله تعالیٰ عنه حضور صلی الله علیه وآله وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ جب اس کی پکڑ ہوتی ہے تو پھر اسے نجات نہیں ملتی ، ( بخاری : ۴۶۸۶ ) آپ صلی الله علیه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد امراء ہوں گے ، جو اُن کے پاس آمد و رفت رکھے ، ان کے جھوٹ کی بھی تصدیق کرے اور ان کے ظلم میں مدد گار ہو ، میرا اُس سے کوئی تعلق نہیں اور وہ حوض کوثر پر میری عنایت حاصل نہیں کرسکے گا او رجو اُن کے پاس آنا جانا نہیں کرے ، ان کے ظلم میں معاون نہ ہو ، وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اورحوض کوثر پر میری اس سے ملاقات ہوگی ، ( ترمذی : ۲۲۵۹ ) حضرت اوس بن شرحبیل رضی الله تعالیٰ عنه سے مروی ہے انھوں نے آپ صلی الله علیه وآله وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ظالم کے ساتھ اس کو تقویت پہنچانے کے لئے چلے حالاںکہ اس کو اس کا ظالم ہونا معلوم ہو ، وہ دائرۂ اسلام سے باہر نکل گیا۔ ( مشکوٰۃ شریف : ۴۳۶ ، باب الأمر بالمعروف )

اس پر حدیث سے بھی روشنی پڑتی ہے جس میں آپ صلی الله علیه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھے اسے چاہئے کہ اس کو اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے ، اگر ہاتھ سے نہ روک سکے تو زبان سے روکے ، اگر زبان سے بھی نہ روک سکے تو دل سے برا سمجھے اور عزم رکھے کہ جب بھی اﷲ تعالیٰ قدرت دیں گے، وہ اس برائی کو روکنے کی کوشش کرے گا، پھر آپ صلی الله علیه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ ایمان کا سب سے کم تر درجہ ہے : وذلک أضعف الایمان، ( مسلم ، حدیث نمبر : ۱۷۷) اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص بزور قوت ظلم کو روکنے سے عاجز ہوتو کم از کم یہ بات ضروری ہے کہ وہ زبان سے اس کی مذمت کرے اور اس پر اپنی ناراضگی و ناخوشی کا اظہار کرے ، آپ صلی الله علیه وآله وسلم نے اس کو سب سے افضل جہاد قرار دیا ہے کہ ظالم حکمراں کے سامنے انصاف کی بات کہی جائے: أفضل الجہاد کلمۃ حق عند سلطان جائر۔ ( ابوداؤد ، حدیث نمبر : ۴۳۴۴ )

ظلم کے خلاف مقاومت اور اس کو روکنے کی کوشش کو رسول اﷲ صلی الله علیه وآله وسلم نے ایک موقعہ پر بڑے خوبصورت طریقہ پر بیان فرمایا ہے ، آپ صلی الله علیه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا :’’ تم اپنے بھائی کی مدد کرو ، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم ‘‘ ایک صاحب نے عرض کیا : اﷲ کے رسول ! مظلوم کی تو ہم مدد کریں گے ؛ لیکن ظالم کی مدد کس طور کریں ؟ آپ صلی الله علیه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ ظالم کی مدد یہ ہے کہ ظلم کرنے سے اس کا ہاتھ تھام لو ‘‘ تأخذ فوق یدیہ ، ( بخاری ، حدیث نمبر : ۱۴۴۴) ایک اور موقعہ پر آپ صلی الله علیه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب لوگ کسی کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں اور اس کے ہاتھ نہ تھامیں تو قریب ہے کہ اﷲ کا عذاب انھیں اپنی لپیٹ میں لے لے ، ( ترمذی ، حدیث نمبر : ۳۰۵۷ ) پس جیسے ظلم کا ارتکاب ایک بڑا گناہ ہے اسی طرح ظالم کی مدد کرنا ، اس کی تقویت کا باعث بننا اور ظلم پر خاموشی اختیار کرنا بھی کچھ کم بڑا جرم نہیں ۔

رسول اﷲ صلی الله علیه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مومن کی مثال ایک جسم کے اعضاء کی ہے جیسے تلوے میں کوئی کانٹا چبھتا ہے اور آنکھیں اس کے لئے بے سکون ہوجاتی ہیں ، اسی طرح دنیا میں کہیں کوئی مسلمان تکلیف میں مبتلا ہوتو دوسرے مسلمان کو اپنے سینہ میں اس کا درد محسوس کرنا چاہئے ، اسلامی اُخوت ، دینی حمیت اور ایمانی غیرت کے خلاف یہ بات ہے کہ دنیا کے دوسرے خطوں میں مسلمانوں پر ظلم وجور کے پہاڑ توڑے جارہے ہوں اور ہم راحت و سکون کی سانس لیتے رہیں کہ یہ سیلاب بلا ابھی ہمارے گھر نہیں پہنچی ہے !

اس پس منظر میں ہمارا مذہبی فریضہ ہے كه موجوده ظالم اور مسلمانوں كے ساتھ امتیاز برتنے والی حكومت كے خلاف اٹھنے والی طاقتوں كا مصلحت كے ساتھ ساتھ دیا جائے اور مصلحت سےمراد یه هے كه مسلمان پیچھے ره كر اس احتجاج كو تقویت دینے كی كوشش كریں ، اس طرح ہم اپنا ایک مذہبی فریضہ ادا کرسکیں گے ، حب الوطنی کے تقاضہ کی تکمیل ہوگی اور اس طرح کم سے کم ہمارا شمار ظالموں کے ناصرین و معاونین میں تو نہیں ہوگا ۔

یہ بھی ضروری ہے کہ ہماری اظہار ناراضگی شریعت کی حدود میں ہو ، پر اُمن طریقہ پر ہو ، برداران وطن کو ہم اپنے ساتھ لے کر چلیں ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے بچیں کہ یہ پوری قوم کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے ، ہم یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھیں کہ حکومت کے عمل کے لئے پوری عوام کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا ؛ اس لئے کہ حکومتیں بہت سارے کام عوام کی منشا کے خلاف بھی کرتی ہیں ؛اس لئے غیر متعلق لوگوں کو ہمارے احتجاج سے کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہئے ۔

ہم خطوط ، ای میل ، ٹیلی گرام اور اظہار رنج کے علامتی طریقوں کے ذریعہ اپنی ناراضگی کا اظہار کرسکتے ہیں اور دنیا کے سامنے اس ظالم کی بے توقیری کا مظاہرہ کرکے ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرسکتے ہیں ؛ اس کے لئے ہمیں معتدل رویہ اختیار کرنا چاہئے ، نہ یہ مناسب ہے کہ ہم اپنی آنکھوں سے جور وظلم کو دیکھتے رہیں اور ہماری زبانیں گنگ رہیں اور نہ یہ درست ہے کہ ہم احتجاج اور اظہار مذمت میں عدل و انصاف کے حدود سے بھی تجاوز کر جائیں !!

Comments are closed.