Baseerat Online News Portal

مسلم پرسنل لاء اور تحفظ شریعت

مفتی عبدالمنان قاسمی دیناجپوری
*ریسرچ اسکالر حجۃ الاسلام اکیڈمی دارالعلوم وقف دیوبند
وطن عزیز ہندوستان کے آزاد ہوے آج 69 /سال ہوگئے اور اس وطن کی آزادی سے اب تک نہ جانے کتنے مسلمان جاں گسل حالات سے گزرے اور نہ جانے کتنوں سے گزرنا باقی ہے-آزادی سے قبل انگریزوں نے رات ودن کا چین وسکون چھین لیا تھا،ہر وقت کوئی نہ کوئی نیا شوشہ اور پرو پیگنڈہ سامنے آجاتا تھا، ان تن کے گورے اور من کے کالے انگریزوں سے چھٹکارا پائے،تو سوچا کہ اب آزاد ہندوستان میں چین وسکون کی سانس لیں گےـاب ہمیں کو پریشان نہیں کرے گا،لیکن ہوا اس کے برعکس کہ انگریز نے تو صرف غلام بنانے کا سوچا تھا، پر ہم ذہنی غلامیت کے شکار نہ ہوے تھے-یہی وجہ ہے کہ ہر وقت انگریزوں کے خلاف محاذ جنگ سجائے ہوئے تھے،
انگریزوں کے ناپاک ارادے ناکام ہوے اور وطن عزیز 15/اگست 1947ء/کو آزاد ہوگیا،
اس وقت سبھی نے راحت کی سانس لی،
لیکن مسلمانوں کے لئے ایک نئی آزمائش،
نئے امتحان کا دور شروع ہوگیا-جس ملک میں جمہوری نظام قائم کیا گیا، تاکہ ہر ایک ہندوستانی چین کی نیند سوسکے اور سبھی کو مذہبی آزادی نصیب ہو، تب بھی مسلمانوں نے گلے شکوے کے بجائے صبروتحمل سے کام لیا اور ملک کی سالمیت اور بقا و ارتقا کی کوششیں کرتے رہے -انہوں نے ملک کے عدلیہ پر بھروسہ کیا کہ ہمیں یہیں سے انصاف ملے جائے گا، لیکن کیا مسلمانوں کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا، یا ہوسکےگا.؟
آزادی کے بعد سےاب تک کتنے واقعات رونماہوے، اگر انکی فہرست بنائی جائے،
تو طویل دفتر اور طویل وقت درکار ہے-مختصر یہ ہے کہ کبھی بابری مسجد میں مورتیاں رکھنے کا شرمناک واقعہ، توکبھی جبری نس بندی کی ناپاک کوششیں، کبھی بابری مسجد کی شہادت کا کربناک اور اذیت ناک واقعہ، کبھی گجرات میں درندگیت وبہیمیت کا مظاہرہ، جس نے انسانیت کی ساری حدیں پار کرکے پوری انسانیت کو شرمسار کردیا، کبھی بھاگلپور اور میرٹھ میں روح فرساں حالات، کبھی مظفرنگر اور دادری کے واقعات -کتنوں کو گنایا جائے، اور کہاں تک گنائیں، مزید برآں کشمیر کا تو کہنا ہی کیا، جہاں ہر دن قیامت کا منظر پیش کرتا ہے-
ان سب کے باوجود ہم مایوس نہیں ہوے،ہم نے تب بھی عدلیہ پر بھروسہ کیا اور کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کریں گے -ان شاء اللہ، مگر میرا سوال یہ ہے کہ آخر یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟کیا ہمارا وطن عزیز کسی انہونی واقعہ کا منتظر ہے؟ کیا اس ملک کے عوام کے مقدر کے چراغ کا رخ کسی مخالف سمت ہورہا ہے؟ کیا ملک میں چین وسکون سے جینے اور رہنے کا وقت ختم ہوچکا ہے؟ کیا اس ملک میں مسلمان باعزت شہری بن کر نہیں ری سکتا؟کیا مسلمانوں کے لئے ہندوستان کی سر زمین تنگ ہوچکی ہے؟کیا ہندوستانی مسلمان اپنے ملک کے لئے کچھ کر نے سے عاجز ولاچار ہیں؟ کیا مسلمان اس ملک کے وفادار نہیں ہیں؟ کیا ہندوستان کو آزاد کرانے سے اب تک مسلمانوں نے اس ملک کو کچھ نہیں دیا؟
پھر ہندوستان کو سب سے پہلا وزیر تعلیم کس نے دیا؟
کارگل کے میدان میں فتح و جیت کے جھنڈے لہرانے والا فرزند کس نے دیا؟
اس ملک کو میزائیل کس نے دیا؟
ان جیسے ہزار ہا فرزند،ہیں، جنہوں نے اپنے ملک کے خاطر اپنی جانیں تک قربان کردیں -وہ فرزندان وفاشعار کس نے دیا؟ یہ سوالات اور ان جیسے سیکڑوں سوالات، جو اس ملک میں بسنے والے کروڑو فرزندان اسلام کے ذہن ودماغ میں شب و روز گردش کرتے رہتے ہیں، کیا حکومت وقت ان سوالات کا جواب دے گی؟ کیا ہمیں ان سوالات کا جواب کہیں سے ملنے کی امید ہے؟
نہیں! اور کبھی نہیں، توپھر بات صاف ہے کہ ہمیں کچھ کرنا ہو گا ہمیں خود ان سوالات کے جوابات کو تلاش کرنا ہو گا،
ورنہ پھر کہیں ایسا نہ ہو کہ انسانیت کو شرمسار کرنے والا کوئی واقعہ رونما ہو، یا وطن عزیز کی سالمیت پر کوئی حرف آئے -اس گنگا جمنی تہذیب کا تحفظ بھی ہمیں کرنی ہے اور جمہوریت کے بقا کے اسباب بھی تلاش کرنے ہیں –
کل تک تو ہم نے سنا تھا کہ دستور ہند کے مطابق ہر شخص اپنے مذہبی امور بحسن و خوبی انجام دے سکتا ہے، اس کو اس میں کوئی روکنے والا نہیں ہو گا،اس کو اپنے مذہب کے مطابق عمل کرنے پر کوئی ٹوکنے والا نہیں ہو گا –
تو اس بات سے خوش تھے اور ہیں، لیکن نہ جانے حکومت بار بار اس طرح کا مدعا چھیڑ کر کس طرف اشارہ کرنا چاہتی ہے اور کیوں؟
اس کا جواب بھی حکومت کے اوپر واجب ہے، اور کیوں نہ دے گی، جب عوام کو مطمئن کرنا اور ان کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے -وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہو سکتی، لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہا ہے کہ شائد دستور ہندکی ترتیب صرف کاغذ کے حد تک ہوئی تھی اس کو عملی جامہ پہنانا مشکل ہے، کیا بابا جی نے اسی لئے دستور ہند کو مرتب کیا تھا-
آج کی موجودہ حکومت اپنی ناکامیوں پر ہردہ ڈالنے کے لئے اور لوگوں کا ذہن اس طرف سے ہٹانے کے لئے کہ حکومت کیا کر رہی ہے اور کیا کرنا چاہیے،یہ سوچنےاور سمجھنے کا موقع ہی نہ دیا جائے -عوام کے ذہن ودماغ کا رخ دوسری طرف موڑ دو-کبھی سرجیکل اسٹرائیک کا ڈرامہ، تو کبھی یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے لئے مسلم خواتین کے تحفظ کے نام پر ”تین طلاق، نکاح حلالہ اور تعدد ازواج“جیسے خالص مذہبی امور پر اپنی چیرہ دستی کی کوشش –
آخر جس سے ایک عورت کی زندگی کا تحفظ نہ ہوسکا، ایک عورت شوہر کے جیتے جی بیوگی کی زندگی بسر کررہی ہے –
اگر واقعی حکومت کو عورتوں کا تحفظ مطلوب ہے، تو پہلے اس مظلوم و بے بس عورت کو عزدت دلائے، پہلے اس کا گھر بسائے، اس کا اجڑا ہوا سہاگ اس کو واپس کرے-
کیا جواب دی گی اس کی کھوئی ہوئی جوانی کا، جو شب ہجر میں گزرگئی -جو گود ہری بھری ہونی تھی وہ آج ویران پڑی ہے -کیا جواب دے گی اس اجڑی ہوئی گود کا؟
تمہیں اپنوں کی فکر نہیں، غیر محفوظ عورتوں کی فکر نہیں، بن بیاہی بیٹیوں کی فکر نہیں ان پڑھ اور غربت سے جو جھ رہے عوام کی فکر نہیں، امن و شانتی اور صلح و آشتی کی فکر نہیں ملک.کی سالمیت اورجمہوریت کے تحفظ کی فکر نہیں -تم روز کوئی نیا شوشہ چھوڑ کر عوام کو پریشان کرکے رکھ دیتے ہو، کیا تمہارا یہی مشغلہ رہ گیا ہے؟کیا حکومت کو کرنے کا اور کوئی کام نہیں ہے؟
یاد رہے کہ مسلمان اس ملک کے باعزت شہری ہیں، اور بائی چوائس انڈین ہیں، بائی چانس نہیں، ،-مسلمان ملک کے ہر قانون کا پاسدار ہے ملک کے عدلیہ پر بھروسہ رکھتا ہے، .لیکن اپنے مذہب اور مذہبیات سے ہٹ کر نہیں، بلکہ ملک اور مذہب دونوں کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں -کل بھی ملک کے تیئں اچھے اور نیک خواہشات کا اظہار کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں، لیکن اگر شریعت میں دخل اندازی کی کوشش کی گئی اور “یکساں سول کوڈ نفاظ کی سازش رچی گئی، تو اس ملک کی سالمیت کو خطرہ ہو سکتا ہے ،اس ملک کی جمہوریت کو نقصان پہونچ سکتا ہے، اس کی گنگا جمنی تہذیب میں دراڑ پڑ سکتا ہے -اور ہم مسلمان ایسا کچھ ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے، اس لئے حکومت ہند سے یہ کہتے ہیں کہ خدارا! اس قسم کی ناپاک کوششوں کو روکیے اور نیک نیتی سے کام لیجئے -اسی میں ملک کی بھلائی ہے، حکومت کے لیئے اچھائی ہے –
اگر کل کچھ ہوا، یا کوئی طوفان اٹھا، تو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا -وقت سے پہلے اپنے ارادوں کو پاک کیجئے اور لڑاؤ حکومت کرو،“کی پالیسی بند کیجئے -اسی میں سب کی بھلائی ہے –
مسلمانوں کے مذہبی مسائل کو اہل مذہب پر چھوڑ دیجئے اور اپنے مذہبی مسائل میں ان کو خود مختار رہنے دیجئے -مسلم خواتین عزت کی زندگی گزار رہی ہیں، وہ راضی ہیں اپنی شریعت سے -ان پر نہ ظلم ہو رہا ہے اور نہ وہ گھٹن محسوس کر رہی ہیں -آخیر میں، میں یہ کہنا چاہوں گا کہ مسلمان اپنے متحدہ پلیٹ فارم “مسلم پرسنل لا بورڈ کا ساتھ دیں اوراس پر بھروسہ کریں، .کیوں کہ ہمارے اکابر نے اس کی بنیاد ہی ایک نازک مرحلہ میں رکھی تھی تحفظ شریعت کے فرائض کو اول دن سے ہی انجام دے رہے ہیں اور مقصد میں کامیاب ہوے تھے اور آج بھی ان شاء اللہ! کامیابی ہماری قدم چومے گی؛ -ہمیں اپنے اکابر پر کامل اعتماد ہے، ان کی قیادت ہیں تسلیم ہے، ان کی درازئی عمر اوران قیادت میں خدائی نصرت واعانت کی دعا کرتے ہیں –
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر طرح کے فتنوں سے محفوظ فرمائے-آمین یا رب العالمین –
(بصیرت فیچرس)

You might also like