Baseerat Online News Portal
Browsing Category

شعروادب

جناب شہزاد احمد صاحب مرحوم کی شاعری تحریر: مفتی محمد صابر حسین ندوی

اس راہ سے گزرے تھے کبھی اہل نظر بھی اس خاک کو چہرے پہ ملو آنکھ میں ڈالو جو خاک کو چہرے پر ملنے کی بات کرے، ایک حسرت و یاس میں ڈوبا ہوا شخص، عشق میں چور، شکستہ دل اور غمگین جگر کا مالک، سوز قلب اور مجروح احساس و جذبات میں تَپا ہوا، دل…
مزید پڑھیں ....

"سلام” کلام:ذکی طارق بارہ بنکوی

تمہیں بتائیں کہ محشر کے روز کیا ہوگا جدھر حسین رہیں گے ادھر خدا ہوگا نبی کی آل سے الفت جو شرک ہے تو پھر یہ شرکِ خوبرو ہی مجھ سے بارہا ہوگا برستی رہتی ہے شبنم فلک سے کیا یونہی ضرور اس کو غمِ شاہِ کربلا ہوگا کہاں چھپے گا تو اے…
مزید پڑھیں ....

جس کو بھی محبت نہیں محبوبِ خدا سے

نعت از قلم : افتخار راغب دوحہ قطر جس کو بھی محبت نہیں محبوبِ خدا سے ممکن نہیں بچ جائے وہ دوزخ کی سزا سے تھامے ہوئے رہتے ہیں سدا صبر کا دامن مومن نہیں گھبراتے کبھی کرب و بلا سے ناموسِ رسالت کے تحفّظ کے لیے ہم ٹکرائیں گے ہر دور…
مزید پڑھیں ....

عید آئی

بلبلو چہچہاؤ عید آئی اے گلوں مسکراؤ عید آئی مطربِ شوق پھر محبت کا زمزمہ کچھ سناؤ عید آئی کوچہ کوچہ گلی گلی امروز مشک و عنبر اڑاؤ عید آئی دشمنوں کو لگاؤ سینے سے دل سے کینہ مٹاؤ عید آئی پی کے پھر جام آج عشرت کا کیف میں…
مزید پڑھیں ....

ہر طرف نور جلوہ نما دیکھئے

شہناز عِفّت ممبئی ہر طرف نور جلوہ نما دیکھئے آپ بھی چل کے طیبہ ذرا دیکھئے طہ یسین اور خاتم الانیباء رب نے کیا کیا لقب ہے دیا دیکھئے کیا بیاں ہو بھلا عظمت مصطفےٰﷺ مدح کرتا ہے خود کبریا دیکھئے چاند ٹکڑے کیا…
مزید پڑھیں ....

گفتگو کا یہ تماشا نہیں دیکھا جاتا

شہناز عِفّت ممبئی  گفتگو کا یہ تماشا نہیں دیکھا جاتا ان کی باتوں کا سلیقہ نہیں دیکھا جاتا اس لئے شعروں کی اصلاح کیاکرتی ہوں مجھ سے فن میں کوئی شوشہ نہیں دیکھا جاتا آپ مسکان ذرا لب پہ سجائیں اپنے آپ کا اترا یہ چہرا نہیں…
مزید پڑھیں ....

عاصیوں کو بخشوانے کے لئے رمضان ہے

شہناز عِفّت ممبئی عاصیوں کو بخشوانے کے لئے رمضان ہے یہ خدائےپاک کاقرآن میں فرمان ہے عاصیوں کو بخشوانے کیلئے رمضان ہے ہر گلی میں ہر محلے میں بسی ہیں رونقیں دیکھئے ہر اک کے چہرے پر سجی مسکان ہے تم اٹھو سحری کرو روزہ…
مزید پڑھیں ....

اے کھجوروں کے جھرمٹ میں سوئے ہوئے

ثمر خانہ بدوش اے کھجوروں کے جھرمٹ میں سوئے ہوئے اے یتیموں کے والی ،اے خیر الانام سر بھی اپنے کٹے گھر بھی اپنے جلے جرم جتنے تھے سب اپنے سر پر ٹکے تیر و تلوار نیزے ہیں پھر مستعد اپنی خاطر یہاں پھر سے مقتل سجے روز کٹتے ہیں…
مزید پڑھیں ....