Baseerat Online News Portal
Browsing Category

شعروادب

…………غزل…………. کمال و فن کا ترے اعتراف میں نے کیا،…

از: آبروئے شعر وادب ،لسان الوری ،استاذ الشعراء حضرت علامہ مسیح الدین نذیری کمال و فن کا ترے اعتراف میں نے کیا غلط جہاں بھی لگا اختلاف میں نے کیا وہ ایک عام جگہ تھی مطاف میں نے کیا تری گلی کا مسلسل طواف میں نے کیا تو ایک…
مزید پڑھیں ....

اور ہونگے جو کہانی کی طرف دیکھتے ہیں….. ہم تری شعلہ بیانی کی طرف دیکھتے ہیں

جام و مینا سلسلہ ۔ 26 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ از:آبروئے شعر وادب، لسان الوری، استاذ الشعراء حضرت علامہ مسیح الدین نذیری صاحب قبلہ اور ہونگے جو کہانی کی طرف دیکھتے ہیں ہم تری شعلہ بیانی کی طرف دیکھتے ہیں آپ دریا کی روانی کی طرف…
مزید پڑھیں ....

جام و مینا سلسلہ ۔ 24 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کون فریادی ہے کس نے یہ دہائی دی ہے کس کی ویرانے میں آواز سنائی دی ہے کیا دیا دولتِ دنیا نے بھلا دنیا کو بھائی بھائی میں فقط اس نے لڑائی دی ہے یہ مرے باپ کے سجدوں کا اثر ہے یارو اس اندھیرے میں مجھے راہ دکھائی دی ہے میں کہاں اور…
مزید پڑھیں ....

دیپ خوشیوں کے جلائیں دیر تک

غزل افتخاررحمانی فاخرؔ ، نئی دہلی روٹھے دلبر کو منائیں دیر تک چھیڑیں اس کو اور ہنسائیں دیر تک اس کے آنے کی خوشی میں اے رقیب دیپ خوشیوں کے جلائیں دیر تک جستجو ہے، اپنی اس آغوش میں اختر تاباں سلائیں دیر تک اس کے ہی الطاف کی…
مزید پڑھیں ....

احتجاجی نظم

ڈاکٹر نصیر احمد عادل کمہرولی کمتول دربھنگہ بہار قریہ قریہ گاؤں قصبہ شہر کا ہر شہر آج بن گیا سارا وطن ہے اب سراپا احتجاج مرد و عورت ہوں کہ ہمارے دیش کے پیر و جوان ہے یہی ایک آرزو قائم کریں امن و اماں ملک کے ہر فرد کے لب پر ہے یہ…
مزید پڑھیں ....

نہ کوئی جھیل سکے گا عِتابِ کورونا

عزیزبلگامی زمیں کوگھیرے ہوئے ہے عذابِ کورونا پلایا چین نے جگ کو شرابِ کورونا گلے میں ، چھینک میں،سانسوں کے آنے جانے میں کہاں نہیں ہے یہ خانہ خرابِ کورونا! کوئی عتاب ہو،ممکن ہے جھیل لیں، لیکن نہ کوئی جھیل سکے گا عِتابِ کورونا جہاں…
مزید پڑھیں ....

نئی تاریخ

نیاز جَیراجپُوری اے مورِّخ لِکھ نئی تاریخ میرے دیش کی لِکھ یہاں ہے روشنی مغلوب ، غالِب تیرگی لِکھ یہاں قیمت نہیں قانون کی دستور کی لِکھ بِساطِ زیست پر پرچھائیاں ہیں موت کی لِکھ فصیلِ جِسم و جاں پر جم رہی ہے برف سی اے مورِّخ لِکھ نئی…
مزید پڑھیں ....

ہم لے کر رہیں گے آزادی۔۔۔۔۔

ہم لے کر رہیں گے آزادی نفرت کی کالی سیاہی سے جو لکھا ہے تم نے قانون سیاہ اس آگ کے بڑھتے شعلوں میں جلنے نہ دینگے ہم ملک اپنا اے شاہ تیری تانا شاہی سے ہم لے کر رہیں گے آزادی۔۔۔۔ یہ ملک ہمارا اپنا ہے یہ مٹی ہماری اپنی ہے یہ…
مزید پڑھیں ....

سیہ کو سپید اور دن کو رات لکھ

سیہ کو سپید اور دن کو رات لکھ سوچتا کیا ہے؟ سب صاف صاف لکھ ہر حرف غلط پہ تو غلاف مصلحت چڑھا جو ہو بزدلی کہیں، اسے حکمت کی بات لکھ آگے جو بڑھے ہے تو بڑھنے نہ دے اسے اگر بڑھ گیا کوئی تو لڑکپن کی بات لکھ ہیں باعث شقاوت، یاں تکرار و…
مزید پڑھیں ....