Baseerat Online News Portal
Browsing Category

شعروادب

جس کو بھی محبت نہیں محبوبِ خدا سے

نعت از قلم : افتخار راغب دوحہ قطر جس کو بھی محبت نہیں محبوبِ خدا سے ممکن نہیں بچ جائے وہ دوزخ کی سزا سے تھامے ہوئے رہتے ہیں سدا صبر کا دامن مومن نہیں گھبراتے کبھی کرب و بلا سے ناموسِ رسالت کے تحفّظ کے لیے ہم ٹکرائیں گے ہر دور…
مزید پڑھیں ....

عید آئی

بلبلو چہچہاؤ عید آئی اے گلوں مسکراؤ عید آئی مطربِ شوق پھر محبت کا زمزمہ کچھ سناؤ عید آئی کوچہ کوچہ گلی گلی امروز مشک و عنبر اڑاؤ عید آئی دشمنوں کو لگاؤ سینے سے دل سے کینہ مٹاؤ عید آئی پی کے پھر جام آج عشرت کا کیف میں…
مزید پڑھیں ....

ہر طرف نور جلوہ نما دیکھئے

شہناز عِفّت ممبئی ہر طرف نور جلوہ نما دیکھئے آپ بھی چل کے طیبہ ذرا دیکھئے طہ یسین اور خاتم الانیباء رب نے کیا کیا لقب ہے دیا دیکھئے کیا بیاں ہو بھلا عظمت مصطفےٰﷺ مدح کرتا ہے خود کبریا دیکھئے چاند ٹکڑے کیا…
مزید پڑھیں ....

گفتگو کا یہ تماشا نہیں دیکھا جاتا

شہناز عِفّت ممبئی  گفتگو کا یہ تماشا نہیں دیکھا جاتا ان کی باتوں کا سلیقہ نہیں دیکھا جاتا اس لئے شعروں کی اصلاح کیاکرتی ہوں مجھ سے فن میں کوئی شوشہ نہیں دیکھا جاتا آپ مسکان ذرا لب پہ سجائیں اپنے آپ کا اترا یہ چہرا نہیں…
مزید پڑھیں ....

عاصیوں کو بخشوانے کے لئے رمضان ہے

شہناز عِفّت ممبئی عاصیوں کو بخشوانے کے لئے رمضان ہے یہ خدائےپاک کاقرآن میں فرمان ہے عاصیوں کو بخشوانے کیلئے رمضان ہے ہر گلی میں ہر محلے میں بسی ہیں رونقیں دیکھئے ہر اک کے چہرے پر سجی مسکان ہے تم اٹھو سحری کرو روزہ…
مزید پڑھیں ....

اے کھجوروں کے جھرمٹ میں سوئے ہوئے

ثمر خانہ بدوش اے کھجوروں کے جھرمٹ میں سوئے ہوئے اے یتیموں کے والی ،اے خیر الانام سر بھی اپنے کٹے گھر بھی اپنے جلے جرم جتنے تھے سب اپنے سر پر ٹکے تیر و تلوار نیزے ہیں پھر مستعد اپنی خاطر یہاں پھر سے مقتل سجے روز کٹتے ہیں…
مزید پڑھیں ....

یہ ہجر کی شدت مجھے تڑپاتی ہے جاناں

غزل احمد فاخرؔ یہ ہجر کی شدت مجھے تڑپاتی ہے جاناں مشکل یہ حیات اور ہوئی جاتی ہے جاناں افسانہ نہیں سچ ہے کہ یہ شاعری میری تم جیسے پری رُخ سے جِلا پاتی ہے جاناں اَب کیسے کہوں تم سے میں اس غم کا فسانہ یہ دُوری تمہاری تو جگر…
مزید پڑھیں ....

وُہ عبقری شی بتائیں کیا ہے سنائیں کیسی وہ سروری ہے

غزل احمد فاخر وُہ عبقری شی بتائیں کیا ہے سنائیں کیسی وہ سروری ہے وہ سروری ہے، نہ زیرکی ہے وہ پر تغزل سخن وری ہے کرو نہ نازل عتاب اپنا کہ ہم ترے ہیں ازل سے شیدا خفا ہو کیوں تم، قریب آؤ نہ جانے کیسی یہ کجروی ہے یہ چشم ِ نرگس یہ…
مزید پڑھیں ....