Baseerat Online News Portal
Browsing Category

شعروادب

نمناک تھیں ، کھنڈر تھیں ، ترے انتظار میں ( غزل)

طارق مسعود نمناک تھیں ، کھنڈر تھیں ، ترے انتظار میں آنکھیں لہو کا گھر تھیں ترے انتظار میں وحشت ، جنوں ، شکستہ در و در مرے قریب یہ چیزیں خاص کر تھیں ترے انتظار میں خوابِ وصال غم کے لفافے میں بند تھے تعبیریں در بدر تھیں ترے انتظار…
مزید پڑھیں ....

غزل کے روپ میں ہم آج زخم دِل دکھاتے ہیں

غزل احمد فاخرؔ، نئی دہلی غزل کے روپ میں ہم آج زخم دِل دکھاتے ہیں نہ سمجھو آپ بیتی تم کو جگ بیتی سناتے ہیں نہیں ہو تم تو سونی سونی سی لگتی ہے یہ دنیا چلے آؤ تمہاری راہ میں پلکیں بچھاتے ہیں تمہیں اس کا پتہ شاید نہیں ہوگا کہ…
مزید پڑھیں ....

نظم: علم کی فضیلت

تخلیق:ڈاکٹر آصف لئیق ندوی عربی لیکچرر،مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،حیدرآباد یقیناً علم ہے اک نور، اور یہ نور رہبر بھی ترقی کے مدارج کا ہنر بھی اور گوہر بھی یہ طاقت بھی ہے دولت بھی یہ ملت کا ہے سرمایہ یہ رفعت بھی یہ عظمت بھی یہ…
مزید پڑھیں ....

آبروئے ملت ِ بیضا بہن مسکان ہے

( نوٹ : اس نظم میں علامہ اقبال کا ایک مصرعہ بطور تبریک استعمال کیا گیا ہے ) احمد فاخر ، نئی دہلی آبروئے ملت بیضا بہن مسکان ہے باعث ِصد رشک اور فخر ِ زمن مسکان ہے شعلہ افشاں، کیسی جرأت، اِس خزاں منظر میں تھی ”ایسی چنگاری بھی یارب…
مزید پڑھیں ....

پاؤں رکھنے کا ارادہ ہے کیا انگار میں اب(غزل)

غزل پاؤں رکھنے کا ارادہ ہے کیا انگار میں اب وہ جلن خور سقم ڈھونڈے گا اشعار میں اب حوصلے پست نظر آئے معالج کے مجھے کیسے امید نظر آئے گی بیمار میں اب وہ انا دار سا لہجہ بھی نہیں ہے باقی وہ کڑک پن بھی نہیں آپ کی دستار میں اب…
مزید پڑھیں ....

بعد میں دنیا داری

ثمر یاب خانہ بدوش اپنے بچوں کو سکھاتا ہوں یہی شام و سحر پہلے اسلام ہے اور بعد میں_____ دنیا داری میں نے دیکھی ہیں بڑے لوگوں کی ٹوٹی تربت وہ بڑے لوگ جو شاہانہ بسر کرتے تھے جن کے پاپوش تھے یاں ریشم و اطلس کے بنے سر نگوں تھے جہاں اشراف…
مزید پڑھیں ....

ورق پہ دل کے یہ تحریر اس کی آج بھی ہے

شہناز عفت ممبئی ورق پہ دل کے یہ تحریر اس کی آج بھی ہے ورق پہ دل کے یہ تحریر اس کی آج بھی ہے کہ عشق غم ہے یہ تفسیر اس کی آج بھی ہے مری نگاہوں سے وہ دور ہے بہت لیکن مرے خیالوں میں تصویر اس کی آج بھی ہے جنوں کی قید سے آزاد ہونے کی خاطر…
مزید پڑھیں ....