Baseerat Online News Portal
Browsing Category

شعروادب

بعد میں دنیا داری

ثمر یاب خانہ بدوش اپنے بچوں کو سکھاتا ہوں یہی شام و سحر پہلے اسلام ہے اور بعد میں_____ دنیا داری میں نے دیکھی ہیں بڑے لوگوں کی ٹوٹی تربت وہ بڑے لوگ جو شاہانہ بسر کرتے تھے جن کے پاپوش تھے یاں ریشم و اطلس کے بنے سر نگوں تھے جہاں اشراف…
مزید پڑھیں ....

ورق پہ دل کے یہ تحریر اس کی آج بھی ہے

شہناز عفت ممبئی ورق پہ دل کے یہ تحریر اس کی آج بھی ہے ورق پہ دل کے یہ تحریر اس کی آج بھی ہے کہ عشق غم ہے یہ تفسیر اس کی آج بھی ہے مری نگاہوں سے وہ دور ہے بہت لیکن مرے خیالوں میں تصویر اس کی آج بھی ہے جنوں کی قید سے آزاد ہونے کی خاطر…
مزید پڑھیں ....

اس وائرس کرونا نے رنجور کر دیا

شہناز عفت ممبئی اس وائرس کرونا نے رنجور کر دیا یعنی کہ خون رونے پہ مجبور کر دیا نازل خدائے پاک کا ایسا ہوا عذاب گھر میں ہر ایک شخص کو محصور کر دیا حسرت بھری نگاہ سے بس دیکھتے رہیں اک دوسرے سے اتنا ہمیں دور کر دیا کچھ اس طرح…
مزید پڑھیں ....

نظم : جمہوریت مر گئی

منصور قاسمی صاحب/ ریاض سعودی عرب سنا تھا ملک میں جمہوریت روشن ستارہ ہے چراغِ امن جلتے ہیں ، محبت کا نظارہ ہے جدھر دیکھو ادھر جگنو لہک کر جگمگاتے ہیں شجر کی شاخ پر بیٹھے پرندے گیت گاتے ہیں اذاں…
مزید پڑھیں ....

خانۂ دل تری یادوں سے سجاؤں کیسے

غزل شہناز عفت ممبئی خانۂ دل تری یادوں سے سجاؤں کیسے اپنی دنیا کو میں رنگین بناؤں کیسے کوئی بھی ساتھی نہیں کوئی بھی ہمراز نہیں وقت مجھ پر ہے بہت سخت بتاؤں کیسے کوئی ترکیب نظر آتی نہیں ہے مجھ کو راز اس دل کا زمانے سے چھپاؤں کیسے کوئی…
مزید پڑھیں ....

مالک الملک ہے تو ہی ہے کبریا

حمد باری شہناز عِفّتؔ ممبئی اے خدا اےخدا اےخدا اےخدا مالک الملک ہے تو ہی ہے کبریا تیری نعمت کے محتاج ہیں ہم سدا ہم فقیروں پہ نظر کرم کر ذرا ساری مخلوق اور یہ زمیں آسماں سب ترے حکم کے تابع ہیں اے خدا تو ہے غفار و قادر , رحیم…
مزید پڑھیں ....

ایک شام سنجے مصرا شوق کے ساتھ

مبصر : منصور قاسمی ، ریاض سعودی عرب اردو ہندوستان میں پیدا ہوئی اور یہیں پر پلی بڑھی ؛ تاہم اس کے چاہنے والے مرورایام کے ساتھ کم ہوتے جارہے ہیں ، کچھ تنگ نظریات کے حامل افراداس کو پاکستانی زبان کہہ رہے ہیں تو کسی نے اپنی کم…
مزید پڑھیں ....

عشق رُوٹھا تو غم پھر سوا ہوگیا

غزل احمد فاخرؔ، نئی دہلی عشق رُوٹھا تو غم پھر سوا ہوگیا اور میں وقفِ آہ و بُکا ہوگیا مدتوں میری کشتی بھنور میں رہی اپنی کشتی کا میں ناخدا ہوگیا رنج وغم سے نہیں مُجھ کو شکوہ کوئی زخم جو بھی ملا وُہ دَوا ہوگیا یہ کرشمہ ترے…
مزید پڑھیں ....