Baseerat Online News Portal
Browsing Category

شعروادب

غزل

افتخاررحمانی فاخرؔ (احمد فاخرؔ) اک ديا روشن ہوا طوفان میں آنکھ جب کھولی ہے ہندُستان میں منصفی کی اب توقع ہے فضول قاتلوں کی بھیڑ ہے ایوان میں قاتلوں کے خنجروں سے خوف کیوں؟ زہر قاتل تو نہیں پیکان میں! کیوں ڈراتے ہو اسارت سے مجھے…
مزید پڑھیں ....

نہ منہ بگاڑ کے بولو نہ منہ بنا کے کہو،

غزل افتخار راغب، دوحہ قطر نہ منہ بگاڑ کے بولو نہ منہ بنا کے کہو خلاف بھی ہو تو ہر بات مُسکرا کے کہو کہو کچھ اور سمجھ لیں کچھ اور اہلِ خرد نہ اتنا کم ہی نہ اتنا گھما پھرا کے کہو میں جانتا ہوں کہ تم سچ ہی بولتے ہو سدا سو اپنی…
مزید پڑھیں ....

دِل ہمارا آج کیوں مغموم ہے

غزل افتخار رحمانی فاخر (احمد فاخرؔ ) ، نئی دہلی دِل ہمارا آج کیوں مغموم ہے زیست کے ہر رنگ سے محروم ہے ہے کچھ ایسی قسمت ِ بے داد بھی اس لئے ہم سے خوشی معدوم ہے یہ بہاریں، ہیں رقیبوں کے لئے اور خزاں کی رُت ہمیں ملزوم ہے ان سخن…
مزید پڑھیں ....

آئی ایف سی، ادبی فورم ریاض کے زیر اہتمام طرحی مشاعرہ کا انعقاد 

ریاض /بی این ایس سعودی عرب،ریاض کی معروف تنظیم انڈین فرینڈس سرکل (آئی ایف سی) کے ادبی فورم کے زیر اہتمام 19 نومبر کو شام 7 بجے بوقت سعودی عربیہ اختر ناصح نصیب اور اعجاز احمد خان اعجاز کی یاد میں  زوم پر ایک شاندار طرحی مشاعرہ…
مزید پڑھیں ....

احمدؔ وَلی ، ابن الوَلی، فخرِ زَماں، روشن جبیں

از: افتخار رحمانی فاخرؔ،(احمد فاخرؔ) دہلی احمدؔ وَلی ، ابن الوَلی، فخرِ زَماں، روشن جبیں اَخلاق کے عالی ہیں وہ، مہر وَفا مہرِ مبیں گرچہ ہمیں اب سایۂ حضرت ولیؒ حاصل نہیں اس سانحہ سے بالیقیں ہے غمزدہ چرخ و…
مزید پڑھیں ....

اب مکمل میری حسرت کیجئے

نعت شریف اب مکمل میری حسرت کیجئے مصطفی ایک بار رحمت کیجیے ہے دل ناساز کی یہ آرزو طیبہ میں مدفن عنایت کیجیے آپ کی سیرت ہے شمع راہ حق ہم ہیں گم گذشتہ ہدایت کیجیے زندگی ہو جائے گی سن تابناک نور سے رب کے محبت کیجئے جا کے…
مزید پڑھیں ....

غزل

خوابوں کی دیکھتے نہیں تعبیر، ہم فقیر کرتے ہیں چشم و نوَم کو تسخیر، ہم فقیر توحيدِ حسن و عشق تو ایمانِ اصل ہے کرتے نہیں کسی کی بھی تکفیر، ہم فقیر بادِ سموم چلتی ہے جب خیمہ گاہ میں اپنی غزل کو کرتے ہیں شہتیر ،ہم فقیر نخلِ ادب کی لاج…
مزید پڑھیں ....

آبرو ماؤں کی یارو! ہم بچاکر آگئے

نظم نگار: انسؔ بجنوری آبرو ماؤں کی یارو! ہم بچاکر آگئے اپنی سرحد سے درندوں کو بھگاکر آگئے حق کا نعرہ آسماں پر ہم لگاکر آگئے پرچم توحید کو پھر سے اٹھاکر آگئے توڑ ڈالا کفر کے ایوان کو افغان میں نغمہ الاللہ کا سب کو سناکر…
مزید پڑھیں ....