سپریم کورٹ نے زرعی قوانین پر روک لگادی!!
محمد صابر حسین ندوی
Mshusainnadwi@gmail.com
7987972043
یہ خبر حیران کن ہے کہ سپریم کورٹ نے رواں حکومت کے خلاف قدم اٹھاتے ہوئے زرعی قوانین پر وقتی روک لگادی ہے، مستزاد یہ ہے کہ انہوں نے ایک جماعت تشکیل دی ہے جو اس قانون کا غائرانہ جائزہ لے گی اور رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کرے گی، یہ تعجب خیز خبر اس لئے ہے کہ سپریم کورٹ کا رویہ ہمیشہ یا یوں کہیں کہ پچھلے چھ سالوں سے یہی رہا ہے کہ وہ حکومت کو سپورٹ کرتی ہے، انہیں کسی آن ناراض کرنا نہیں چاہتی، چیف جسٹس اور سرکار کا یارانہ خوب چرچے میں رہتا ہے، جسٹس رنجن گگوئی تو ان کا عشق تھے اور اب بوبڈے بھی دام فریب میں مبتلا ہیں، چنانچہ وہ محبوب یار کی الجھی ہوئی لٹوں کو سلجھانے اور اس کے حسن کی پرستاری میں لگے ہی رہتے ہیں، اس وقت بھی کسانوں کو آندولن ایک نازک مرحلے پر ہے، انہوں نے رواں حکومت کی ناک میں دم کردیا ہے، دو مہینے ہونے والے ہیں، بوڑھے بزرگ اور خواتین کی تعداد معتد بہ ہے، لاکھ دقتوں کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوتے، اب انہوں نے صاف صاف یہ کہہ دیا ہے کہ وہ ٢٦/ جنوری کے بعد دہلی کی طرف بڑھیں گے، بلکہ ٢٦/ جنوری کو ٹریکٹر سے پریڈ گریں گے، یہ بات بھی کہہ دی گئی ہے کہ وہ سپریم کورٹ جانے کے حق میں نہیں ہیں؛ کتنی عجیب بات ہے کہ محبوب کی نگاہوں میں جھانکتے جھانکتے خود ہی غرق ہونے کو آئے، شاید یہی سنگینی ہے جس نے سپریم کورٹ کو متوجہ کیا ہے؛ لیکن اصل میں بات کچھ اور لگتی ہے، آپ جانتے ہیں کہ سرکار ہمیشہ سپریم کورٹ کو ایک ثالث کے طور پر استعمال کرتی ہے، بابری مسجد، کشمیر اور شاہین باغ، رافیل وغیرہ کے سلسلہ میں یہ بات کھل کر سامنے آگئی تھی؛ کہ جو کام حکومت براہ راست خود نہیں کرسکتی ہے وہ عدالت عظمیٰ سے کرواتی ہے، چونکہ کسان بل اور کسان آندولن ایک خطرناک موڑ اختیار کر چکا ہے اور سرکار اپنی ناک بچانے بلکہ قائم رکھنے پر بضد ہے؛ ایسے میں سپریم کورٹ کے شانہ کا سہارا لیا جارہا ہے، قانون کی بالادستی اور فوقیت برقرار رکھنے کا ڈھونگ رچا جارہا ہے، مگر اس عدالت عظمیٰ کے اندر ہونے والی کارروائی پر ہی غور کیا جائے تو بہت کچھ صاف ہوجائے گا، تو منافقت کے دبیز پردے چاک ہوسکتے ہیں، مثلاً ایک طرف عدالت نے کسانوں کے احتجاج کو جائز تسلیم کیا تو وہیں اٹارنی جنرل سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا اس احتجاج میں غیر قانونی اثرات آگئے ہیں، تو انہوں نے صاف کہا کہ ہاں اس آندولن میں خالصتان گھس آئے ہیں. اسی طرح کسانوں کی جانب سے متعین وکیل نے صفائی دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ شاہین باغ اور کسان آندولن کا موازنہ نہ کیا جائے؛ کیونکہ وہ تحریک دیش مخالف اور ہماری تحریک دیش حق میں ہے، ان دو تضاد کے بعد مزاق یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے قوانین پر وقتی روک لگائی اور ایک کمیٹی تشکیل دی، غضب کی بات یہ ہے کہ اس کمیٹی میں ان لوگوں بھوپیندر سنگھ، انل گھنونت، اشوک گلاٹی، پرمود کے جوشی کو رکھا گیا ہے، جو پہلے ہی عوام کے درمیان ان قوانین کو برحق اور سرکار کے قدم کو مناسب بتا چکے ہیں.
اس کارروائی پر نگاہ رکھنے والے ماہرین صحافیوں نے بھی تجزیہ کرتے ہوئے یہی کہا ہے کہ سرکار اپنے رخ کے تئیں واضح نہیں ہے، یقیناً دال میں کالا بلکہ پوری دال کالی لگ رہی ہے، اندازہ تو یہی ہے کہ ٢٦/ جنوری سے پہلے اس احتجاج کو کسی بھی طرح رفع دفع کرنے کی کوشش ہے، اور یہ بات صد فیصد درست ہے کہ اگر ایک دفعہ کسانوں نے راستے خالی کردیئے اور اس فیصلے پر یقین کرلیا تو پھر دوبارہ اس تحریک کو اٹھنے نہیں دیا جائے گا، سرکار اس سلسلہ میں اشد ماہر ہے کہ کیسے تحریکوں کو دبا دیا جائے اور ان کا گلہ مروڑ دیا جائے، چونکہ رواں حکومت انتخابی نتائج اور پالیسیوں کے اعتبار سے بھی بہت زیادہ طاقتور ہے، ایک خاص فکر اور انداز کی بنا پر عوام میں مقبولیت نہیں بلکہ جنونیت پیدا کردی ہے، وہ جانتے ہیں کہ ان مجنونوں سے کیسے کام لینا ہے، اور پس پردہ کسی تحریک کو دیش مخالف ثابت کر کے اور دہشت گردانہ پروپیگنڈے کرکے کیسے اکھیڑنا ہے، مگر رپورٹس بتاتی ہیں کہ کسان پوری طرح سے مطمئن ہیں، بی بی سی نے اس فیصلے کے فوراً بعد دہلی سرحدوں پر براجمان کسانوں سے بات کی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے؛ کہ وہ کسی آن بہکاوے میں آنے والے نہیں بلکہ ان میں سے ہر ایک تازہ دم ہے کہ وہ اس آندولن کو یونہی آگے بڑھائے گے، سرکار جب تک ان قوانین کو منسوخ نہیں کرتی تب تک جگہ نہیں چھوڑی جائے گی، ایسا لگتا ہے کہ اب اونٹ پہاڑ کے نیچے آیا ہے کہ ایک طرف سپریم کورٹ اپنی ساکھ بچانے اور اپنی عزت بحال کرنے میں مصروف ہے تو سرکار بھی کسی بھی طرح گلے میں پھنسی ہڈی سے نجات پانا چاہتی ہے، مگر یہ بھی یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ سرکار ان قوانین کو آج نہیں تو کل کسی جدید پیرایے اور حسین لبادے میں ضرور پیش کرے گی، یہ سرکار سپریم کورٹ سے بڑھ کر بلکہ جاننے والے جانتے ہیں کہ اشارے کہاں سے ہوتے ہیں اور کس کے صدقے عظمی کی عظمت چل رہی ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؛ لیکن مسلمانوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ احتجاج کسے کہتے اور دوسری بات یہ ہے کہ کفار ان سے نفرت میں سبھی برابر ہیں، بس خود کو ہوش میں رکھنے اور منصوبہ بند طریقے پر عمل درآمد کی ضرورت ہے.
Comments are closed.