دنیاوی پرائیویسی کی فکر اخروی کیوں نہیں ـــــ
ــــ ـــــ ـــــ ـــــ ـــــ ـــــ
?️از: محمد عظیم فیض آبادی دارالعلوم النصرہ دیوبند
9358163428
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
اگر اسلامی اصول وضوابط نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی ہدایات وتعلیمات کو پیش نظر رکھ کر گناہوں نافرمانیوں سے اجتناب کرتے ہوئے کسی کی ایذا رسانی، کسی کے ساتھ ظلم وستم سے بچتے ہوئے خداکا خوف موت کا ڈر خدا کے سامنے پیشی، اور حساب وکتاب کا استحضار اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے دینی ودنیاوی قانوں کے دائرے میں رہ کر کسی بھی جگہ کوئی بھی موبائل استعمال کریں تو قیقن مانیئے کہ کبھی کسی طرح کا کوئی خطرہ آپ کو درپیش نہیں ہوگا اور ہمیشہ کے لئے آپ کی دینی ودنیاوی دونوں پرائیویسی محفوظ رہے گی نہ دنیاوی اعتبار سے کوئی کھٹکا نہ ہی آخروی لحاظ سے کسی پکڑکا خوف ہوگااورموبائل اوراسمارٹ فون کے وجود میں آنے کے بعد سے گناہوں کی بڑھتی ہوئی شرح میں ان شاء کمی آئے گی
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
نہ تو میں شوشل میڈیا کا ماہر ہوں اور نہ ہی انٹرنیٹ کی دنیا کاخوشہ چیں جو ہر طرح کے ایپس کے اصول وضوابط ،اسکے استعمال کرنے کے شرائط سےآشنا ہو نہ مجھے ٹیلیگرام کے فضائل بیان کرنے کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی بیپ bip کی خوبیاں اجاگر کرنے کی حاجت ، نہ Signal سِگنل (یہ بھی ایک ایپ ہے ) کے فوائد سے کوئی سروکار ہے نہ ہی واٹساپ کے ڈیٹا فیسبک یا کسی دوسرے کودینے سے ہونے والے نقصانات کی کوئی فکر ہے جیساکہ آ ج کل پوری شوشل میڈیا پرایک ہنگامہ سا مچا ہے جیسے کوئی قیامت ٹوٹ پڑی ہو ایسا محسوس ہو تا ہے جیسے پرائیویسی کا غیر محفوظ ہونا کوئی آج کانیا مسئلہ ہو وہ تو کب سے غیر محفوظ ہو چکی ہے
ابھی زیادہ دنوں کی بات نہیں ہےکہ پورے ہندوستان میں تمام موبائل کمپنیوں نے ہر شخص کے آدھار کو لازمی قرار دے کرسب کاادھار جمع کرلیا تھا اگرچہ اس لازمیت کو بعد میں ختم کردیاگیا لیکن ایک بار جمع ہوجانے کے بعد اس کے بارے میں آ پکا کیا خیال ہے …؟ کیا وہ ان کے پاس محفوظ نہیں، کیا اس سے آپ کے بارے میں ساری تفصیلات ان کومیسر نہیں …؟
یقین جانیئے کہ اسمارٹ فون استعمال کرنے والا کوئی بھی شخص اگراپنےآپ کو اس حوالے سے محفوظ سمجھتا ہو تواس زمانےمیں اس سے زیادہ بھولا پن کوئی اور نہیں ہوسکتا
اس سے درکنار آپ کسی بھی ملک میں کسی بھی جگہ رہ رہے ہوں اورکوئی بھی موبائل اور کوئی بھی ایپ استعمال کررہے ہوں اگر وہاں کی مقامی حکومت یا حکومت کی خفیہ ایجنسیاں آپ کا ڈیٹا یا آپ کے ذریعہ وجود میں آنے والا کوئی بھی میسج یا لوکیشن یاآپ کے متعلق اس کے پاس موجود کسی بھی طرح کی معلومات حاصل کرے تو لامحالہ آپ کی پرائیویسی کا خطرات سے دوچار ہونا لازمی ہے
انٹر نیٹ پر ہونے اوراسمارٹ فون لے کردنیا بھر کے شوق اور دنیا کی رنگینوں سے لطف اندوز ہونے کا جنون رکھنے والے شخص کوحکومت ، خفیہ ایجنسیوں کی نگرانی اور جو ایپس استعمال کرتے ہوں اس کے مالکان کی نگرانی سے بچنے کا خیال دل ودماغ سے کھرچ دینا چاہئےاگر ابھی کوئی اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا ہے تو بس
ایں خیال است ومحال است جنوں کے
علاوہ کچھ نہیں
ہاں اگر آپ کا کوئی میسیج کوئی تحریر کوئی گفتگو ملک وقانون کے خلاف نہیں ہے تو آپ کو کسی فکر کی ضرورت نہیں
واٹساپ کی اس جدید پالیسی ،اپنا ڈیٹا فیسبک کو دینے کے اعلان اور اس پر ہونے والےچوطرفہ گنگامے سے ایک چیز ضرور سمجھ میں آتی ہے کہ ہر شخص کواپنی دنیاوی زندگی کی حفاظت اور اسکے گرد ہونے والے حسارسے بچنے کی فکر دامن گیر ہوگئی لیکن جس ذات کے سامنے پوری زندگی کے ایک ایک لمحے کا ڈاٹا جمع ہورہا جو کسی بھی طرح نہ غائب ہونے والا ہے اور نہ ہی ڈلٹ ہونے والا اور رب ذوالجلال کی عدالت میں سب کاحساب وکتاب ہوگا مزید وہاں کوئی کسی کا مددگار بھی نہیں ہوسکتا
اور نہ اس سے بچنے کی کوئی سبیل ہو سکتی ہے اس سے ہم ابھی بھی بے پرواہ ہی ہیں ایسے ہی موقع کے لئے قران کریم نے ہمیں
اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ کہہ کر متنبہ بھی کیا ہے
کہ "جو لوگ ایمان لے آئے ہیں، کیا ان کے لیے اب بھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے اور جو حق اترا ہے اس کے لیے پسیج جائیں ؟ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ بنیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ان پر ایک لمبی مدت گزر گئی، اور ان کے دل سخت ہوگئے، اور (آج) ان میں سے بہت سے نافرمان ہیں ـ”
اوراللہ کے سامنے پیشی اور حساب وکتاب کی خبر بھی ایسی ذات نے دی ہے جس کی خبر میں شک وشبہ بھٹک بھی نہیں سکتا جس کی حقانیت اور اس کے صادق الامین ہونے کا اعتراف تو کفار مکہ بھی کرنے پر مجبور تھے
جو امام الانبیاء اور محبوب رب العالمین ہیں
غور کیجئے کہ واٹساپ جیسی ایک معمولی کمپنی نے اپناڈیٹا فیسبک کو کو شیئر کرنے کا اعلان کیا تو ہر شخص حیران پریشان اور اپنی پرائیویسی کے حوالے سے نہ صرف انتہائی متفکر نظرآتاہے بلکہ حتی الامکان اس سے حفاظت کی تدابیر تلاش کر رہاہے
اگر اسلامی اصول وضوابط نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی ہدایات وتعلیمات کو پیش نظر رکھ کر گناہوں نافرمانیوں سے اجتناب کرتے ہوئے کسی کی ایذا رسانی، کسی کے ساتھ ظلم وستم سے بچتے ہوئے خداکا خوف موت کا ڈر خدا کے سامنے پیشی، اور حساب وکتاب کا استحضار اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے دینی ودنیاوی قانوں کے دائرے میں رہ کر کسی بھی جگہ کوئی بھی موبائل استعمال کریں تو قیقن مانیئے کہ کبھی کسی طرح کا کوئی خطرہ آپ کو درپیش نہیں ہوگا اور ہمیشہ کے لئے آپ کی دینی ودنیاوی دونوں پرائیویسی محفوظ رہے گی نہ دنیاوی اعتبار سے کوئی کھٹکا نہ ہی آخروی لحاظ سے کسی پکڑکا خوف ہوگا
مگر افسوس کہ ہماری زندگی کے ایک ایک لمحے کا ڈیٹا رب ذوالجلال کے سامنے پیش ہونا اور اس کا حساب وکتاب ہونا جوہمارے ایمان و عقیدے کا جزء ہے مگر ہمیں اس کی کوئی فکر نہیں گناہ در گناہ کئے جارہے ہیں نافرمانیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے ، جس سےنہ بچنا کسی طرح ممکن ہے نہ ہی اس قادر مطلق جبار وقھار کی گرفت سے کسی کو مفر ہے
خدا کرے ہمارے اندر دنیا کا خوف دنیاوی پکڑ کے کھٹے سے زیادہ آخرت کی گرفت حساب وکتاب اورسزاؤں کی فکر دامن گیر ہو
اللہ دنیاوآخرت دونوں جگہ ہم سب کا حامی وناصر ہو
Comments are closed.