ہیرا گروپ سی ای او ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی بلاوجہ گرفتاری

 

احمد اے آر بخاری اور کوسٹل انرجی جیسا معاملہ

مسلمانوں سے منسلک معاشی اداروں کو نشانہ بنانے کی سازش؟

 

نئی دہلی / حیدر آباد (رپورٹ : مطیع الرحمن عزیز) ہیرا گروپ آف کمپنیز کی سی ای او عالمہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعے ایک بار پھر گرفتار کیے جانے سے مسلمانوں سے منسلک کاروباری اداروں کو نشانہ بنانے کی سازش کے خدشات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔ حالانکہ کمپنی عدالتِ علیہ کے احکامات پر عملدرآمد کر رہی تھی اور سپریم کورٹ کے حالیہ حکم پر ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے 16 نشاندہ شدہ جائیدادوں پر دستخط کرنے کی رضامندی ظاہر کر دی تھی۔ تلنگانہ کے پی ایم ایل اے عدالت میں ڈیڑھ ماہ کی طویل سماعت کے بعد بھی عدالت نے گرفتاری کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی، مگر ای ڈی نے مسلسل سپریم کورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے گرفتاری کا آرڈر حاصل کر لیا۔ یہ اس لیے بھی حیران کن ہے کہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ نے سپریم کورٹ کے حکم کے آنے کے فوراً بعد روزانہ ای میلز کے ذریعے پوچھا تھا کہ کون سے کاغذات پر دستخط کرنے ہیں، جگہ اور دستاویزات کا تعین کر کے بتایا جائے تاکہ ہیرا گروپ مکمل پاسداری کر سکے۔

عوام الناس میں شدید خدشات پائے جا رہے ہیں کہ ای ڈی ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی گرفتاری کے ذریعے ہیرا گروپ کی قیمتی جائیدادوں کو سستی قیمتوں پر مخصوص لوگوں کو منتقل کرنے کی راہ ہموار کرنا چاہتی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی پریس ریلیز کے مطابق اب تک کچھ جائیدادوں کی نیلامی سے 122 کروڑ روپے وصول ہو چکے ہیں، جبکہ ہیرا گروپ کا موقف ہے کہ تمام شکایت کنندگان کے دعوے 50 کروڑ روپے کے اندر ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ 85 فیصد سے زائد سرمایہ کاروں کے ساتھ وہ ذرائع و وسائل کے ذریعے اپنے معاہدے پورے کرنے کی پوزیشن میں ہے، مگر ای ڈی نیلامی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے جبکہ حاصل شدہ 122کروڑ روپئے سے متاثرین کو ان کا حق ادا کرنے میں دلچسپی نہیں دکھا رہی۔

نامور صحافی رویش کمار نے جب کوسٹل انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ کی کہانی سامنے لائی تو عوام کے شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے۔ مارچ 2022 میں احمد اے آر بخاری پر 542 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام لگا کر گرفتار کیا گیا۔ مالک کو 31 ماہ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے جیل میں رکھا گیا۔ تین سال کی محنت کے بعد عدالت اور محکمے کو تسلیم کرنا پڑا کہ یہ کیس فرضی تھا۔ احمد بخاری رہا تو ہو گئے، مگر کوسٹل انرجی مکمل طور پر تباہ و برباد ہو گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیرا گروپ کے ساتھ بھی یہی صورتحال بنتی جا رہی ہے۔ اب تک ای ڈی نے کوئی ایسا ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہو کہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی قیادت میں ہیرا گروپ نے کوئی مالی بدعنوانی کی ہو۔ صرف الزامات کی بنیاد پر مہنگی جائیدادوں کو سستی قیمتوں پر نیلام کرنے کا عمل جاری ہے۔ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کا واضح موقف ہے کہ انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی۔ اگر سرمایہ کار اپنے پیسے واپس چاہتے ہیں تو ان کے پاس وسائل موجود ہیں اور وہ عدالت کی نگرانی میں ہر حقدار کو مکمل ادائیگی کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ الزامات کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔اگر کمپنی ادائیگی کرنے کو تیار ہے تو اسے موقع دیا جائے۔ مہنگی جائیدادوں کو کم قیمتوں پر فروخت کر کے نہ صرف سرمایہ کاروں بلکہ عدالت اور محکمے کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچے۔ گرفتاری کے دوران ہیرا گروپ کی جائیدادوں پر ہونے والے ناجائز قبضوں اور اسٹوری بلڈنگز کی بھی تحقیقات ہو۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نوہیرا شیخ کی غیر موجودگی میں متعدد خالی بنگلوں اور فلیٹس پر اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں نے قبضے کر لیے ہیں۔ یہ سب واقعات ایک مخصوص طبقے کی طرف جھکاو کی نشاندہی کرتے ہیں۔ عوام میں یہ سوال پیدا کر رہی ہیں کہ کیا مسلمانوں سے منسلک کامیاب کاروباری اداروں کو جان بوجھ کر کمزور اور تباہ کیا جا رہا ہے؟ اگر الزامات ثابت نہیں ہوتے تو نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے معاشی نظام کا اعتماد اٹھ جائے گا۔ عدالتِ عالیہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس معاملے کی شفاف نگرانی کریں تاکہ انصاف کا تقاضا پورا ہو اور معاشی دہشت گردی کا الزام ثابت نہ ہو سکے۔

 

Comments are closed.