کیا بنگلہ دیش پھر پاکستان بن گیا ہے؟
ڈاکٹر سلیم خان
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے ولیعہد سجیب واجد نےدہلی سے یہ اعلان کیا کہ ’’ بھارت کی مشرقی سرحد پر ایک اور پاکستان بن گیا ہے‘‘۔ موصوف نے اس تشویش کا اظہار خود اپنے ملک بنگلہ دیش کے بارے میں کیا ۔ اس بات کو اگر سچ مان لیا جائے تو اس ساری محنت پر پانی پھر گیا جو 1972میں بڑی آن بان شان کے ساتھ کی گئی تھی۔ اس طرح ایک نہ شد دو شد کا معاملہ ہوگیا ۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا یہ المیہ ہے کہ آپریشن سیندور کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے جوش میں آکر یہ اعلان کردیا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہے گا یعنی سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا اعلان فرما دیا۔ اس کے جواب میں پاکستان نے شملہ معاہدے کے کلعدم قرار دے دیا ۔ اس طرح بنگلہ دیش بنانے کے بعد ہزاروں فوجیوں کی رہائی کے بعد جو بڑی کامیابی حاصل کی گئی تھی اسے گنوادیا گیا۔ پاکستان کے اوپر کشمیر کے معاملے کو باہمی گفتگو تک محدود رکھنے کی جو پابندی تھی وہ ختم ہوگئی اور اس کے بعد اسے اقوام متحدہ و دیگر بین لاقوامی فورمس میں زور و شور کے ساتھ اٹھانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اتفاق سے اس دوران پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اہم ذمہ داریاں بھی مل گئیں جس کا اس نے بھر پور فائدہ اٹھایا ۔ ویسے ہندوستان بھی فی الحال برکس کی صدارت پر فائز ہے مگر امریکہ کی ناراضی کا خوف اس کےپیروں کی بیڑی بن گیا ہے حالانکہ مجروح سلطان پوری کو کہہ چکے ہیں؎
دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن رقصِ بہار رقص کرنا ہے تو پھر پاوں کی زنجیر نہ دیکھ
وزیر اعظم نریندر مودی تو فی الحال امریکی صدر ٹرمپ کے اشارے پر رقص کرنے میں مصروف ہیں مگر حکومتِ پاکستان نے اس معاملے میں نہایت محتاط رویہ اختیار کررکھا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اس لیے جلاوطن سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد اور ان کے بیٹے کے حالیہ بیانات پر تبصرہ نہیں کرے گا حالانکہ بنگلہ دیشی حکومت اور حکمران جماعت بی این پی نے نئی دہلی میں شیخ حسینہ کو میڈیا سے خطاب کی اجازت دیے جانے پر انڈیا کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران جب ترجمان طاہر اندرابی سے سوال کیا گیا کہ آیا شیخ حسینہ واجد اور ان کے بیٹے سجیب واجد کے پاکستان سے متعلق بیانات کے بعد اسلام آباد اور ڈھاکہ کے درمیان کوئی سفارتی رابطہ ہوا ہے یا نہیں۔اس پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان سفارتی روابط معمول کے مطابق جاری ہیں اور یہ کسی ایک واقعے یا بیان تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق اسلام آباد اور ڈھاکہ کے درمیان سفارتی ذرائع سے رابطے بدستور برقرار ہیں۔ ان کا کہنا تھا چونکہ یہ بیان ہندوستان سے دیا گیا تھا، اس لیے یہ معاملہ بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان ہے۔
اس تنازع سے خود کو الگ کرتے ہوئے طاہر اندرابی نے یہ ضرور کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام اپنے مسائل خود حل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور انھیں بیرونی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے ۔ ان کے بقول پاکستان بنگلہ دیش کے خودمختار فیصلوں کا احترام کرتا ہے اور اس کی ترقی اور خوشحالی کے سفر میں تعاون جاری رکھے گا۔ اس طرح پاکستان تو خود کو بنگلہ دیش سے قریب کررہا ہے مگراس کے برعکس شیخ حسینہ نے ہندوستان میں بیٹھ کر یہ الزام لگا دیا کہ جولائی اور اگست سال 2024 میں بنگلہ دیش میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو پرامن طلبہ تحریک نہیں مانتیں کیونکہ ان کی وجہ سے حسینہ کی حکومت گرگئی تھی۔انہوں نے الزام لگایا کہ منظم گروہوں نے اس تحریک کو ایک پرتشدد سیاسی ہتھیار میں تبدیل کرنے کا کام کیا۔ یہ تو الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والی بات ہے کہ جس نے ایک پرامن مزاحمت پر گولیاں برسائیں وہی اپنے آپ کو مظلوم بناکر پیش کرے۔ دہلی میں کاکروچ کے ساتھ یہ ہوا کہ پولیس نے مظاہرین کو مارا پیٹا اور پھر ان کے لواحقین ٹیلی ویژن پر آکر رونے دھونے لگے۔ وہ فرماتی ہیں "مجھے اپنے ملک سے دور جانے پر مجبور کیا گیا، لیکن میں اپنے لوگوں سے کبھی الگ نہیں ہوئی۔” حسینہ کے بیٹے ساجب واجد جوائے نے دعویٰ کیا کہ اگست سال 2024 سے بنگلہ دیش میں سیاسی قتل و غارت گری کو قانونی حیثیت مل گئی ہے حالانکہ سچائی یہ ہے اس کے بعد شیخ حسینہ کے ذریعہ جاری و ساری مظالم کا سلسلہ ختم ہوگیا ۔ شیخ حسینہ کے مطابق فی الحال بنگلہ دیش ایک ناکام ریاست بن چکا ہے اور وہاں امن و امان نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
اس خطرناک پریس کانفرنس کے بعد حکومت ہند کا خود کو الگ کرکےیہ کہنا کہ نئی دہلی میں ہونے والی تقریب ایک نجی ادارے کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی ہے اور اس سے بھارتی حکومت کا کوئی تعلق نہیں مضحکہ خیز ہے۔ جہاں ایک طرف حزب اختلاف کے رہنما راہُل گاندھی کے خطاب عام کی اجازت منسوخ کردی جاتی ہو وہاں ایک غیر ملکی پناہ گزین کا پریس کانفرنس کردینا ایک چمتکار نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ تو مودی ہے تو ممکن ہے والی بات ہے۔اس موقف کے خلاف بنگلہ دیش نے نئی دہلی سے وضاحت طلب کی ہے۔بنگلہ دیش نے معزول سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کی میڈیا کے ساتھ لائیو بات چیت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پڑوسی حکمرانوں نے ان پر بنگلہ دیش اور اس کے عوام کے خلاف ‘زہریلی باتیں’ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ایک پریس ریلیز میں بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ‘بنگلہ دیش اس بات پر ناراض ہے کہ مفرور اور نسل کشی کی مجرم شیخ حسینہ کو نئی دہلی میں میڈیا کے ساتھ لائیو گفتگو کرنے کی اجازت دی گئی، جہاں انہوں نے اور ان کے کارندوں نے بنگلہ دیشی حکومت اور اس کے عوام کے خلاف زہریلی باتیں کیں۔’ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘ڈھاکہ کو اس بات پر گہرا افسوس ہے کہ اس واقعے کے ہمارے دوطرفہ تعلقات پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں حکومتِ ہند کو اپنی تشویش سے آگاہ کرنے کے باوجود، اس عوامی تقریب کے انعقاد کی اجازت دی گئی۔’
شیخ حسینہ کی اس پریس کانفرنس کا ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات پر جو اثر پڑا ہے اس کا اندازہ وزارتِ خارجہ کے سخت ردعمل سےلگایا جاسکتا ہے۔ اس کے مطابق ایک ایسے موقعے پر جب بنگلہ دیش کے عوام جولائی انقلاب کی دوسری سالگرہ منا رہے ہیں، شیخ حسینہ کی بھارتی سرزمین پر یہ پریس کانفرنس بنگلہ دیش کی خودمختاری کی توہین اور جولائی انقلاب کے شہداء کی سخت بے حرمتی ہے۔ اس بیان میں یہاں تک کہا گیا کہ ‘فسطائی حکومت کی جانب سے جولائی-اگست سال 2024 کے دوران نابالغ بچوں سمیت بے گناہ شہریوں کے ہولناک قتلِ عام سمیت اقوامِ متحدہ کے تسلیم شدہ حقائق کو جھٹلانا، مفرور مجرم اور اجتماعی قتل کی ذمہ دار حسینہ اور ان کے جرائم پیشہ گروہ کی طرف سے تاریخ کا رخ موڑنے کی ایک لاحاصل کوشش کے طور پر سامنے آیا ہے۔’ حکومتِ بنگلہ دیش کا موقف ہے کہ ‘بنگلہ دیش کے عوام نے پہلے بھی ایسی گھناؤنی کوششوں کو مسترد کیا تھا اور اب بھی ایسا ہی کر رہے ہیں.’ جولائی انقلاب کے نظریات کا اعادہ کرتے ہوئے وزارت نے کہا کہ بنگلہ دیشی عوام نے عزم مصمم کر لیا ہے کہ ہمارا ملک پھر کبھی فاشزم کے سیاہ دور میں واپس نہیں جائے گا اور بنگلہ دیش کبھی بھی کسی کا دستِ نگر (کلائنٹ اسٹیٹ) نہیں بنے گا۔ یہ جملہ ہندوستان کی جانب اشارہ کررہا ہے۔
حکومتِ بنگلہ دیش کے مطابق ’سزا یافتہ اجتماعی قاتل حسینہ اور ان کے مافیا طرز کے ہتھکنڈوں کی بنگلہ دیش کی سیاست میں اب کبھی کوئی جگہ نہیں ہو گی۔’ اس پریس کانفرنس کا اثر یہ ہے ایک اور پڑوسی ریاست ہندوستان کے ازلی دشمن چین کی گود میں دھکیل دی گئی۔ یہ کس قدر ستم ظریفی ہے آج اسرائیل اور امریکہ تو ہندوستان کے دوست ہیں مگر سری لنکا ہو یا پاکستان اور بنگلہ دیش ہو یا نیپال کوئی بھی ہم سے خوش نہیں ہے بلکہ مالدیپ جیسا ننھا جزیرہ بھی دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ملک کو آنکھیں دکھا رہا ہے۔ حکومتِ بنگلہ دیش نے متنبہ کیا کہ ‘بنگلہ دیش بھارت کے ساتھ ایک اچھا، باہمی مفاد پر مبنی اور روشن مستقبل کا رشتہ برقرار رکھنا چاہتا ہے جو برابری، باہمی احترام، ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور ملک کی عزت پر مبنی ہو۔بنگلہ دیش کے مطابق شیخ حسینہ کو کسی بھی بہانے سے میڈیا سے کھل کر بات کرنے کا موقع دینا ہمارے عوام کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچاتا ہے اور بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان اچھے باہمی تعلقات کی ترقی کے لیے نقصان دہ ہے۔ ویسے مودی جی یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہیں اس کی کوئی پروا نہیں مگر ساتھ ہی ان کو اٹل جی کا یہ جملہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم دوست تو بدل سکتے ہیں مگر ہم سایہ تبدیل نہیں کرسکتے ۔مودی سرکار کو چاہیے کہ وہ امورِ خارجہ کے معاملات پر داخلی سیاست کو غالب ہونے نہ دے ورنہ ملک کی عالمی ساکھ خراب ہوتی ہے۔
Comments are closed.