اعمال اور کردار کی اصلاح وقت کی اہم ترین ضرورت:مولانا عبداللہ القاسمی

 

کلہوئی بازار مہراج گنج (نمائندہ)

معروف شاعر، ادیب اور صاحبِ فکر قلمکار مولانا عبداللہ القاسمی نے موجودہ معاشرتی اور دینی حالات پر نہایت مؤثر و فکر انگیز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج امتِ مسلمہ ظاہری عبادات میں تو دلچسپی رکھتی ہے، مگر اعمال کی روح، کردار کی پاکیزگی اور حقوق العباد کی ادائیگی سے دور ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تہجد، تلاوت اور نوافل کے ساتھ سچائی، امانت اور زکوٰۃ کی ادائیگی شامل نہ ہو تو عبادتوں کا حقیقی اثر باقی نہیں رہتا۔

مولانا نے اپنے مخصوص درد بھرے انداز میں فرمایا کہ آج بہت سے لوگ قربانی، شادیوں اور معاشرتی رسم و رواج میں اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں، یہاں تک کہ قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، مگر حج جیسی عظیم فرض عبادت کو یہ کہہ کر مؤخر کردیتے ہیں کہ ابھی پوری عمر باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی اور موت کا کوئی بھروسہ نہیں، اس لیے دینی فرائض میں ٹال مٹول انتہائی خطرناک روش ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجارت اور معاملات میں جھوٹ، دھوکہ، خیانت اور بے ایمانی عام ہوتی جارہی ہے، حالانکہ اسلام نے سچے اور امانت دار تاجر کو انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ شمار کیا ہے۔ صرف زبانی دعوے، نعروں اور نسبتوں سے نجات نہیں ملے گی بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اصل کامیابی اخلاصِ عمل اور پاکیزہ کردار میں ہے۔

مولانا عبداللہ القاسمی نے نوجوانوں کو خصوصی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ فضول خواہشات، نمود و نمائش، ناجائز تعلقات اور بے مقصد زندگی انسان کو اندر سے کھوکھلا کردیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا انسان سوشل میڈیا اور دنیاوی خواہشات میں اس قدر گم ہوچکا ہے کہ اسے اپنی آخرت کی فکر ہی باقی نہیں رہی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے دلوں کو اللہ تعالیٰ کے خوف، محبتِ رسول ﷺ اور فکرِ آخرت سے زندہ کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وعدہ خلافی، ریاکاری، حسد اور قرضوں میں ڈوبی زندگی معاشرے کے اخلاقی زوال کی علامت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے قرض کے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے، اسی لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ سادگی اختیار کرے، حلال روزی کمائے اور لوگوں کے حقوق ادا کرے۔

خطاب کے اختتام پر مولانا نے نہایت رقت آمیز انداز میں یہ مسنون دعا پڑھی:

اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن، ومن العجز والكسل، ومن الجبن والبخل، ومن غلبة الدين وقهر الرجال۔

پھر انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو سچی توبہ، اخلاص، تقویٰ، پاکیزہ کردار اور دین پر استقامت عطا فرمائے، اور ہمیں ظاہری دینداری کے بجائے حقیقی بندگی نصیب فرمائے۔ آمین۔

Comments are closed.