نئی نسل کی بگڑتی صورتحال پر خاموشی خطرناک: نظرعالم
سرپرستوں کو اپنی ذمہ داری محسوس کرنی ہوگی: بیداری کارواں
پٹنہ(پریس ریلیز) نظرعالم، صدر آل انڈیا مسلم بیداری کارواں نے اخباری نمائندہ سے بات چیت کے دوران کہا کہ آج مسلم معاشرہ جس تیزی کے ساتھ اخلاقی، دینی اور سماجی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ اگر اب بھی سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو آنے والی نسلوں کو تباہی سے بچانا مشکل ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج بہت سے گھروں میں دینی تربیت، خاندانی نگرانی اور اخلاقی رہنمائی کمزور پڑتی جارہی ہے۔ سوشل میڈیا، فحاشی، بے پردگی اور بے مقصد آزادی نے نئی نسل کے ذہن و فکر کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ نتیجہ یہ سامنے آرہا ہے کہ نوجوان نشہ، جرائم، بے راہ روی اور دین سے دوری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
نظرعالم نے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام سرپرستوں، والدین اور خاندان کے ذمہ دار افراد کو اپنی ذمہ داری سنجیدگی سے سمجھنی ہوگی۔ خصوصاً خواتین اور بچیوں کا بغیر گارجین کے غیر ضروری طور پر بازاروں، میلوں اور بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر جانا تشویش کا باعث بنتا جارہا ہے۔ اسلامی معاشرہ حیا، تحفظ اور وقار کا درس دیتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس معاملے میں لاپرواہی کے بجائے احتیاط اختیار کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر گھروں کے ذمہ دار افراد اپنی دنیا میں مصروف رہیں گے اور اولاد کی تربیت و نگرانی سے غفلت برتیں گے تو پھر معاشرے میں بگاڑ بڑھتا ہی جائے گا۔ صرف حکومت یا کسی ایک ادارے کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے ہر فرد کو اپنے گھر سے اصلاح کی شروعات کرنی ہوگی۔
انہوں نے علما کرام، مذہبی و سماجی تنظیموں اور دانشور طبقے سے بھی اپیل کی کہ وہ محض رسمی بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ امت کی اخلاقی اور دینی حفاظت کے لیے عملی بیداری مہم چلائیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اگر آج بھی ہم نے اپنی نسلوں کی حفاظت، دینی تربیت اور خاندانی نظام کو مضبوط کرنے کی کوشش نہ کی تو حالات مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پوری امت، ہماری ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور نوجوان نسل کی حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Comments are closed.