القاعدہ کٹک مقدمہ:دہشت گردی کے الزام سے مشہور عالم دین مولانا عبدالرحمن کٹکی بری
نچلی عدالت میں استغاثہ الزام ثابت نہیں کر پایا ۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی کی بڑی کامیابی :مولانا حلیم اللہ قاسمی
اڑیسہ(کٹک) 26؍مئی(پریس ریلیز) ممنوعہ دہشت گرد تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام کے تحت گرفتار مشہور عالم دین مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ میں آج کٹک کی خصوصی سیشن عدالت کےسیشن جج مانس رنجن باریک نے فیصلہ سنا دیا۔ سیشن عدالت نے مولانا عبدالرحمن کٹکی کو ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر مقدمہ سے بری کردیا ۔
عدالت نے اہم گواہان کے منحرف ہونے کو بھی ایک وجہ بتایا ۔
گذشتہ سماعت پر فریقین کے وکلاء کی بحث کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا، جسے آج ظاہر کیا گیا۔ استغاثہ عدالت میں یہ ثابت کرنے میں ناکام ثابت ہوا کہ مولانا کٹکی دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دینے والے تھے اور انہوں نوجوانوں میں جہادی تقاریر کی تھیں ۔
آج کے عدالتی فیصلے پر صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک دہائی سے جاری قانونی جدوجہد کا آج خاتمہ ہوا، اور مولانا عبدالرحمن کوانصاف حاصل ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ آج کے فیصلے نے مولانا کی جیل سے رہائی کا راستہ صاف کردیا ہے ۔ یہ قانونی لڑائی آسان نہیں تھی لیکن جمعیۃ علماء مقدمہ کی پیروی کرتی رہی ۔اس دوران جمعیۃعلماء کوبار بار اعلیٰ عدالتوں کا رخ کرنا پڑا ۔
خیال رہیکہ گذشتہ ماہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے مولانا عبدالرحمن کٹکی کی ضمانت عرضداشت پر سماعت کرتے ہو ئے سیشن عدالت کو مقدمہ کی سماعت دو ماہ میں مکمل کیئے جانے کی سخت ہدایت دی تھی۔ سپریم کورٹ کی سخت ہدایت پر استغاثہ نے اس مقدمہ کی تفتیش کرنے والے دو افسران کی گواہی مکمل ہوتے ہوئے گواہان کے بیانات مکمل کیئے جانے کا فیصلہ کیا اورسیشن عدالت سے درخواست کی کہ وہ حتمی بحث کی سماعت کرے جس پر عدالت نے پہلے ملزم کا 313؍کا بیان درج کیا اور پھر اس کے بعد فریقین کے دکلاء کے دلائل کی سماعت کی اور فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔
مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی نے سیشن عدالت سے لیکر سپریم کورٹ تک کی ہے۔ القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام کے تحت مولانا عبدالرحمن کٹکی پر دہلی، جمشید پور اور کٹک میں تین علیحدہ علیحدہ مقدمات قائم کیئے گئے تھے، دہلی مقدمہ میں مولانا عبدالرحمن کٹکی کو ساڑھے سات سال کی سزا ہوئی تھی جبکہ جمشید پور مقدمہ سے انہیں بری کیا گیا تھا۔ دہلی مقدمہ میں ملنے والی ساڑھے سات سال سزا کو مولانا عبدالرحمن کٹکی کاٹ چکے ہیں۔
سپریم کورٹ آف انڈیا میں مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ کی پیروی سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن نے کی تھی اور عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم کیخلاف گواہی دینے کے لیئے پیش کئے گئے گواہان میں سے 20؍ گواہان اپنے سابقہ بیانات سے منحرف ہوچکے ہیں اس کے باوجود ملزم کو جیل میں رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا کے نٹراجن نے مخالفت کی تھی۔ فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی دو رکنی بینچ نے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کی بجائے ٹرائل کو رٹ کو سخت ہدایت جاری کی تھی جس کے بعد مقدمہ کی سماعت میں تیزی آئی اور آج عدالت نے فیصلہ صادر کردیا۔
مولانا عبدالرحمن کٹکی کی ضمانت پر رہائی کے لیئے جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی نے تین مرتبہ ہائی کورٹ اور دو مرتبہ سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی لیکن ہر مرتبہ سنگین الزامات کو بنیاد بناکر انہیں ضمانت پر رہا کرنے سے عدالتوں نے انکار کردیا تھا۔
واضح رہے کہ مولانا عبدالرحمن کٹکی کے خلاف دہلی، جمشید پور اور کٹک میں الگ الگ مقدمات قائم کیئے گئے تھے جس میں سے دہلی مقدمہ میں ساڑھے سات سال کی سزا ہوئی جبکہ جمشید پور مقدمہ سے مولانا عبدالرحمن کٹکی بری ہوچکے ہیں۔ مولانا عبدالرحمن کٹکی پرممنو ع تنظیم القاعدہ کے رکن ہونے اور ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائی انجام دینے کی سازش رچنے اور غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جاکر ٹریننگ حاصل کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیئے گئے تھے۔گذشتہ دس سالوں سے جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمات کی پیروی کررہی ہے۔
Comments are closed.