عیدالاضحیٰ پر قربانی کے جانوروں کی گاڑیوں کو روکنے کا معاملہ,عارف نسیم خان کی ڈی جی پی سے ملاقات، شرپسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ
ممبئی:26/ مئی(جاوید جمال الدین) عیدالاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی مہاراشٹر کے مختلف علاقوں میں قربانی کے جانوروں کو لے جانے والی گاڑیوں کو مبینہ طور پر روکنے، تاجروں اور ڈرائیوروں کو ہراساں کرنے اور غیر قانونی طور پر جانور ضبط کیے جانے کے واقعات میں اضافہ ہونے لگا ہے، جس پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر عارف نسیم خان نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس شیونند داتے سے ملاقات کی اور فوری سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
عارف نسیم خان نے ڈی جی پی کو پیش کیے گئے تفصیلی میمورنڈم میں الزام عائد کیا کہ بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد اور بی جے پی سے منسلک بعض عناصر عیدالاضحیٰ کے پیش نظر ریاست کے مختلف علاقوں میں قربانی کے جانوروں کی نقل و حمل کو منظم انداز میں نشانہ بنا رہے ہیں۔ میمورنڈم میں مراٹھواڑہ، ودربھ، میرا روڈ، پالگھر اور بھیونڈی سمیت کئی علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ گاڑیوں کو زبردستی روکا جا رہا ہے، ڈرائیوروں اور تاجروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اور بعض مقامات پر جانوروں کو زبردستی پشو شالاؤں میں بھیجا جا رہا ہے۔
اس وفد میں ممبئی کانگریس کے ترجمان نظام الدین راعین، بھرت سنگھ اور جمعیت علمائے مہاراشٹر کے صدر سراج خان بھی شامل تھے۔ ملاقات کے دوران ایک متاثرہ گاڑی مالک کو بھی ڈی جی پی کے سامنے پیش کیا گیا، جس نے اپنی آپ بیتی بیان کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں پر انہیں روک کر نہ صرف ذہنی اذیت دی جا رہی ہے بلکہ مالی نقصان پہنچانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔
ڈی جی پی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عارف نسیم خان نے کہا کہ عیدالاضحیٰ مسلمانوں کا ایک اہم مذہبی تہوار ہے، جو حضرت ابراہیمؑ کی عظیم قربانی کی یاد میں منایا جاتا ہے اور جس کا بنیادی پیغام ایثار، انسانیت، بھائی چارہ اور ضرورت مندوں کی مدد ہے۔ انہوں نے کہا کہ قربانی کا عمل مکمل طور پر آئینی اور قانونی دائرے میں انجام دیا جاتا ہے، اس کے باوجود بعض فرقہ پرست عناصر ماحول خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نسیم خان نے کہا کہ ہر سال عیدالاضحیٰ سے قبل مخصوص تنظیمیں سرگرم ہو جاتی ہیں اور قربانی کے جانوروں کو لے جانے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کئی مقامات پر ڈرائیوروں سے بدسلوکی، بھتہ خوری اور غیر قانونی دباؤ ڈالنے جیسے واقعات پیش آ رہے ہیں، جبکہ بعض معاملات میں پولیس کی موجودگی کے باوجود شرپسند عناصر کھلے عام قانون ہاتھ میں لیتے دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے ریاستی اور مرکزی حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے فرقہ وارانہ ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان دینے کے بجائے مذہبی معاملات میں الجھا کر معاشرے میں نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفد کی بات غور سے سننے کے بعد ڈی جی پی شیوانند داتے نے متعلقہ پولیس افسران کو فوری ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عیدالاضحیٰ کے دوران قربانی کے جانوروں کی نقل و حمل کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور کسی بھی شرپسند یا غیر قانونی حرکت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس موقع پر عارف نسیم خان کی جانب سے ڈی جی پی کو دیے گئے مکتوب میں بھی اس حساس معاملے پر فوری توجہ دینے کی اپیل کی گئی۔ مکتوب میں کہا گیا کہ بقرہ عید 28 مئی سے 30 مئی 2026 تک پورے ملک بالخصوص مہاراشٹر میں مذہبی عقیدت، محبت اور بھائی چارے کے ماحول میں منائی جائے گی اور اس تہوار پر قربانی مسلمانوں کی اہم مذہبی روایت ہے، جو ایثار، انسانیت اور سماجی اتحاد کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
مکتوب میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران مراٹھواڑہ، ودربھ، میرا روڈ، پالگھر، بھیونڈی اور دیگر علاقوں سے ایسی متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں کہ بعض شرپسند عناصر جانوروں کو لے جانے والی گاڑیوں کو روک کر ڈرائیوروں اور تاجروں کو ہراساں کر رہے ہیں، ان پر حملے کیے جا رہے ہیں اور بعض مقامات پر بھتہ خوری کے واقعات بھی پیش آئے ہیں، جس کے باعث خوف اور کشیدگی کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔
عارف نسیم خان نے اپنے مکتوب میں مطالبہ کیا کہ عیدالاضحیٰ کے مقدس تہوار کو پرامن اور خوشگوار ماحول میں منانے کے لیے ریاست بھر کے تمام متعلقہ پولیس افسران کو سخت ہدایات جاری کی جائیں اور قانون ہاتھ میں لینے والے افراد کے خلاف تعزیراتِ ہند کے تحت فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ریاست میں امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رہ سکے۔
Comments are closed.